اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے کون تھے؟ ایجنڈا کیا ہے؟


آزاد بلوچستان کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والی بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور وردی میں ملبوس چار حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کردی ہیں۔
مجید بریگیڈ کی جانب سے دو سال قبل کراچی میں چائنیز ایمبیسی پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کراچی سٹاک ایکسچنج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں میں سلمان جمالی، شہزاد بلوچ، تسلیم بلوچ اور سراج کُنگر شامل تھے جو کہ ہلاک ہو گئے۔ ‘بلوچ لبریشن آرمی کے جس بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اسے مجید بلوچ نامی شدت پسند کے نام پر تشکیل دیا گیا تھا جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی. یہ وہی بریگیڈ ہے جس نے گذشتہ برس گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ بلوچستان لبریشن آرمی مئی 2020 میں بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں پر تین دیگر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکی ہے۔ بلوچستان میں سرگرم گوریلا تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی علیحدگی کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ شدت پسند تنظیم اپنے قیام سے ہی بلوچستان میں گیس لائنیں اڑانے، فوج و پولیس پر حملوں اور غیر مقامی افراد پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق اس دہشت گرد تنظیم کے ڈانڈے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ میر بالاچ مری اس تنظیم کا پہلا کمانڈر تھا جو 2008 میں افغانستان میں اتحادی فضائیہ کے ایک حملے میں مارا گیا۔ بلوچستان لبریشن آرمی بھارت کی حمایت سے براہمداغ بگٹی اور حربیار مری کی سربراہی میں بنائی گئی تھی۔
نومبر 2017 میں بلوچ لبریشن آرمی ’بلوچ راجی آجوئی سنگر‘ یا براس نامی بلوچ شدت پسند تنظیموں کے ایک اتحاد کا بھی حصہ بنی تھی جس میں بی ایل اے کے علاوہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان ریپبلکن گارڈز نامی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ ان کی عسکری کارروائیوں کا مرکز زیادہ تر چین پاکستان اقتصادری راہدری کے آس پاس کے علاقے ہیں کیونکہ بلوچ قوم پرست نہیں چاہتے کہ چین بلوچستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھائے۔ اس سے پہلے 2 جولائی2019ء کو امریکا نے پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا، پاکستان نے امریکہ کی جانب سے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کا خیر مقدم کیا تھا۔بی ایل اے 2006 سے پاکستان میں کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کا الزام ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را بلوچستان لبریشن آرمی کو بھارت اور افغانستان میں ٹریننگ دیتی ے۔پروفیسر اجے کمار شرما کے مطابق بھارت کی دو ریاستوں اُترپردیش اور چھتیس گڑھ میں تین ٹریننگ کیمپوں میں بلوچستان لبریشن آرمی کے لوگوں کو تربیت دی جاتی ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آئی تھی جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بلوچستان میں ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی گئی تھی۔ تاہم فوجی آمر ضیاالحق کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے نتیجے میں بلوچ قوم پرست رہنماﺅں سے مذاکرات کے نتیجے میں مسلح بغاوت کے خاتمے کے بعد بی ایل اے بھی پس منظر میں چلی گئی۔
پھر سابق آمر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد 2000 سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری تنصیات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان کا دائرہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔ ان حملوں میں سے زیادہ ترکی ذمہ داری بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی۔ 2006 میں جب مشرف کے حکم پر بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کو بلوچستان کی ایک غار میں شہید کیا گیا تو بلوچ شورش میں تیزی آ گئی اور حکومتِ پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ تب سیکیورٹی حکام کی جانب سے نواب خیر بخش مری کے بیٹے نوابزادہ بالاچ مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جاتا رہا۔ نومبر 2007 میں بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر آئی اور کالعدم بی ایل اے کی جانب سے کہا گیا کہ وہ افغانستان کی سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز سے ایک جھڑپ میں مارے گئے۔
بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے برطانیہ میں مقیم ان کے بھائی نوابزادہ حیربیار مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جانے لگا تاہم نوابزادہ حیربیار کی جانب سے کسی مسلح گروہ کی سربراہی کے دعوؤں کو سختی کے ساتھ مسترد کیا جاتا رہا۔ نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کی قیادت میں جو نام ابھر کر سامنے آیا وہ اسلم بلوچ تھا۔ اس کا شمار تنظیم کے مرکزی کمانڈروں میں کیا جانے لگا۔ اسلم بلوچ کے سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں زخمی ہونے کے بعد علاج کی غرض سے انڈیا جانے پر ان کے تنظیم کے دیگر رہنماؤں سے اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ صحت مند ہونے کے بعد اسلم بلوچ بلوچستان اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں مقیم رہے۔ اسلم بلوچ کے دور میں ہی بی ایل اے میں ان کے زیر اثر گروپ کی جانب سے خود کش حملے بھی شروع کر دیے گئے جن کو تنظیم کی جانب سے فدائی حملے قرار دیا جاتا رہا۔
یہ تنظیم چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہے اور اس نے اپنی حالیہ کارروائیوں میں پاکستان میں چینی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے اگست 2018 میں سب سے پہلے جس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی وہ خود اسلم بلوچ کے بیٹے نے ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کے قریب کیا تھا۔ اس حملے میں سینڈک منصوبے پر کام کرنے والے افراد کی جس بس کو نشانہ بنایا گیا تھا اس پر چینی انجینیئر بھی سوار تھے۔ اس کے بعد کالعدم بی ایل اے نے نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملہ تین خود کش حملہ آوروں نے کیا تھا۔ اس حملے کے بعد ہی قندھار کے علاقے عینو مینہ میں ایک مبینہ خودکش حملے میں اسلم اچھو کی ہلاکت کی خبر آئی اور اطلاعات کے مطابق اب بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔ قیادت میں تبدیلی کے باوجود تنظیم کی جانب سے ’فدائی‘ سکواڈ کی کارروائیوں کا سلسلہ رکا نہیں اور مئی 2019 میں گوادر میں پرل کانٹینیٹل ہوٹل پر بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے ارکان نے ایسا ہی ایک حملہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button