اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ، نون لیگ پیچھے کیوں ہٹ گئی؟

شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور پارٹی قائد نواز شریف کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ملک کو صرف مفاہمتی سیاست اور خدمت کے بیانیے سے ہی آگے لے جایا جا سکتا ہے جبکہ مزاحمتی سیاست کی تو نون لیگ اور اس کی قیادت کا بھی وہی حال ہو گا جن حالات کا آج تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو سامنا ہے۔ جس کے بعد نون لیگی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے اور ٹکراؤ کی پالیسی سے پیچھے ہٹنے ہوئے پاکستان کے معاشی احیا کے حوالے سے اپنا آئندہ کا بیانیہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔نون لیگ کا نوازشریف کی واپسی کےلیے یبانیہ اب معیشت ، گورننس اور عوامی معاملات ہوں گے اور کوئی بدلہ لینے یا کسی ادارے بالخصوص اسٹیبلشمنٹ سے بدلہ لینے کی بات نہیں کی جائےگی ۔ نوازلیگ کے سینئر رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معاملات اتنے سنگین ہیں اور اس قدر چیلنجنگ ہیں کہ کسی سے بھی مخاصمت کوئی حل نہیں ہے اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ مفاہمت اور ایک دوسرے کےلیے گنجائش پیدا کرنا ہے۔ لیگی قیادت کے مطابق اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نوازشریف یا پارٹی حقیقی مجرموں جنرل فیض، جنرل باجوہ، ثاقب نثار ،عظمت سعید شیخ، آصف سعید کھوسہ، عمرعطابندیال کا نام لینا اورانہیں شرم دلانا چھوڑ دیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں ہونے والی اہم میٹنگز میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن ملکی معیشت کو سنوارنے پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی اور انتقامی سیاست سے گریز کیا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے اس وقت جو حالات ہیں اس کے پیچھے انتقامی سیاست ہے، لہٰذا ہمیں مستقبل میں مفاہمت سے آگے بڑھنا چاہیے۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے لندن میں پورا ایک مہینہ گزارا ہے اور اس کے بعد بھی جب و ہ ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پاکستان آئے تو انہیں 48گھنٹوں میں واپس لندن لوٹنا پڑا۔نواز شریف کے ایک حالیہ بیان کے بعد ن لیگ کی صفوں میں خاصی گھبراہٹ تھی جس میں انہوں نے جنرل فیض جنرل باجوہ اور سپریم کورٹ کے متعدد ججوں کو نشانہ بنایا تھا تاہم لندن کے اجلاس کے دوران پارٹی نے گفتگو کی کہ اگر ان افراد کے احتساب پر توجہ مرکوز رکھی گئی تو تمام توجہ ہٹ جائے گی اور مخاصمت کی مستقل صورتحال پیدا ہوجائے گی جس سے نوازلیگ کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار مجیب شامی کے مطابق: ’نواز شریف نے حالیہ بیانات سے ماضی کے مسائل پر بات کی۔آئندہ کا بیانیہ تو وہ ہوگا جسے وہ پاکستان واپسی پر کارکنوں سے خطاب کے دوران قرار دیں گے۔‘نون لیگ کے انتخابی بیانیے بارے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مجیب الرحمٰن شامی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف وطن واپسی کے بعد مینار پاکستان پر جلسہ کریں گے وہیں حتمی بیانیے کا اعلان کریں گے اور اگلے روز عدالت میں پیش ہوں گے۔‘

مجیب الرحمٰن شامی نے مزید کہا کہ ’نواز شریف نے احتساب کی بات پہلی بار نہیں کی وہ اس سے قبل بھی اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں۔ لیکن ان کا آئندہ انتخاب میں بیانیہ کیا ہوگا وہ پاکستان واپسی پر ان کے خطاب سے ہی اندازہ ہوگا۔ اس وقت صرف بحث ہو رہی ہے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ماضی کے مسائل میں نہیں الجھنا چاہیے۔’پہلے وہ آئیں لوگوں کے مسائل حل کرنے کی حکمت عملی بنائیں اگر اکثریت سے حکومت بنتی ہے تو معاشی مسائل سے نمٹیں۔ جب حالات بہتر ہوجائیں تو پھر احتساب کی طرف آئیں۔‘

مجیب الرحمٰن شامی کے بقول، ’نواز شریف ابھی اس طرح کے مسائل میں نہیں پڑیں گے پہلے وہ انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانا چاہیں گے۔ ابھی تو لڑائی جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لیے سوچ سمجھ کر ہی قدم آگے بڑھایا جائے گا اور زبان کھولی جائے گی۔‘انہوں نے کہا کہ، ’جن لوگوں کے احتساب یا گرفتاری کی بات ہو رہی ہے کیا نگران حکومت انہیں گرفتار کرے گی؟ وہ یہ بوجھ کیسے اٹھائے گی ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ اگر یہی کام کرنا ہوتا تو ان کی 16 مہینے رہنے والی حکومت کر لیتی۔ جو کام ان کی منتخب حکومت نہیں کر سکی نگران حکومت کیسے کرے گی۔‘تجزیہ کار مجیب شامی نے کہا کہ عمران خان کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی مایوس کن رہی اس لیے کارکردگی پر تو الیکشن کوئی لڑنے کے قابل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ البتہ بیانیے پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے جو مہم کے دوران عوام کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگا وہی جیت سکے گا۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق: ’جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اس نے ان کی حکومت کے خلاف سازش کرنے والے جن کرداروں کے احتساب کی بات کی وہ سیاسی بیان نہیں بلکہ ان کے دل کی آواز تھی۔ لہذا اب یہ بحث جاری ہے انہیں اس مطالبے سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے پھر وہی ہوگا جو ساڑھے تین سال عمران حکومت اور ڈیڑھ سال پی ڈی ایم حکومت کا ہوا۔ تمام پاکستانی جانتے ہیں کہ حکومتیں ناکام ہونے کی وجہ کیا ہے لہذا جب تک وہ مسائل نہیں ہوں گے ملک آگے نہیں بڑھے گا۔‘سلمان غنی کے مطابق: ’نواز شریف حقائق سے نظریں چرا کر کبھی حکومت نہیں بنائیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے اسی نظام کے تحت جس میں انہیں سازش سے گھر بھیجا گیا اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔‘

تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق نون لیگ کی انتخابی اور استقبالیہ مہم صرف اس سلوگن ’’امید سے یقین تک، رہے پاک سر زمین تک‘‘ پر استوار کی جائے گی۔پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے ماحول کواس حد تک سازگار بنایا جائے گا کہ اس میں کسی حریف کے خلاف مذمت کے لفظوں کی بجائے خدمت کو شعار بنانے کا اعلان کیا جائے گا۔ ملک کو پانچ سال قبل وزیراعظم نواز شریف کے دور کی آسودگی واپس لانے کا عہدکیا جائے گا

مبصرین کے مطابق صورت حال کے تفصیلی اور تنقیدی جائزے کے بعد نواز شریف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عوام تحریک انصاف کے پورے چار سال کے دور میں تباہ کن کارکردگی ہی نہیں اس کے چیئرمین کی گالم گفتار سے بھی تنگ آچکے ہیں ایسے میں اگر مسلم لیگ نون بھی اسی روش کو اختیار کرے گی تو اس سے عوام بددل ہوں گے اور پاکستان مسلم لیگ نون کے سامنے سنگل پوائنٹ ایجنڈا مہنگائی کو ختم کرنا ہے جس سے عوام کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے گا اور ملکی معیشت میں سدھار بھی آئے گا۔ پاکستان مسلم لیگ نون نے نواز شریف کی واپسی کے ساتھ ہی جس سیاسی حکمت عملی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس میں مثبت انداز گفتگو اختیار کیا جائے گا اور عوام میں خوشگوار احساس پیدا کیا جائے گا۔اکیس اکتوبر کی شب نواز شریف کے پیغام میں نعرے نہیں ہوں گے اور نہ ہی اسے بیانیہ بنانے کے لئے خالی خولی امید افزائی کی بات ہوگی وہ آئندہ پانچ سال کے لئے اپنی جماعت کی طرف سے دستورالعمل کا اعلان کریں گے پوری انتخابی مہم اسی منشور پر آگے بڑھائی جائے گی۔

Back to top button