اسٹیبلشمنٹ کا عمران اور حکومت کے مذاکرات کرانے سے انکار

عوامی جلسوں میں حکومت اور فوج مخالف بیانیہ لے کر چلنے والے عمران خان اپنے جارحانہ عوامی موقف کے برعکس شہباز حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تا کہ آئندہ الیکشن، انتخابی اصلاحات اور نگراں حکومت کی تشکیل جیسے اہم ایشوز کو طے کیا جا سکے۔ تاہم ماضی کی طرح اب نہ تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس حوالے سے کوئی سہولت کاری کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس وقت شہباز شریف کی مخلوط حکومت مذاکرات میں دلچسپی رکھتی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی یہ دعوی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف براہ راست عمران خان کو بات چیت کی پیشکش کرتے ہیں تو پارٹی لانگ مارچ یا اسلام آباد کے محاصرے کی طرف نہیں جائے گی۔ اگرچہ پی ٹی آئی پہلے الیکشن کی تاریخ حاصل کرنے کے بعد حکمران اتحاد سے مذاکرات کرنے کی پیشگی شرط پر قائم نظر آتی ہے لیکن اصل میں پارٹی قیادت اس حوالے سے کافی لچکدار ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنماء کا کہنا ہے کہ ہم بھی جانتے ہیں کہ سیلاب کے باعث فوری الیکشن کروانا ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی بھی تحریک انصاف کو زندہ رکھنے کے لیے احتجاجی بیانیہ اپنائے رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ آئندہ سال مارچ سے جون کے درمیان تک کیا جا سکتا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف کھل کر عمران خان کو الیکشن سے متعلق معاملات، معیشت، سیلاب، اصلاحات وغیرہ پر بات کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کریں تو پی ٹی آئی لانگ مارچ یا اسلام آباد کے گھیرائو سے گریز کر سکتی ہے۔
تاہم اس وقت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی کی طرح پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اب حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے لیے سہولت کاری کرنے پر آمادہ نہیں اور نہ ہی حکومت ہی عمران خان سے بات کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس وقت صرف صدر عارف علوی سٹیک ہولڈرز کو میز پر بٹھانے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور وہ بھی عمران خان کے ایماء پر، لیکن ان کی تمام کوششیں بھی ناکام رہی ہیں۔ اس دوران عارف علوی نے آرمی چیف اور عمران کی ایک خفیہ ملاقات بھی کرائی لیکن وہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اسی وجہ سے عمران خان اب اسلام آباد مارچ کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ممکنہ احتجاج کی ٹائمنگ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں چونکہ اس وقت ملک سیلاب کی آفت میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس بارے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ عمران الیکشن کیلئے مطلوبہ تاریخ کا اعلان حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے یا نہیں۔ تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام بڑھ جائے گا جس سے ملکی معیشت کو مزید نقصان ہوگا جو پہلے ہی بحرانی صورت حال کا سامنا کر رہی ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام دونوں کیلئے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتے ہیں۔ آئندہ سال انتخابات کا سال ہوگا۔ نون لیگ کی زیرقیادت حکمران اتحاد کا اصرار ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرے جبکہ عمران خان جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں۔ 2022 میں عام انتخابات ممکن نہیں اور اگر موجودہ حکومت کو زبردستی ایک ماہ کے اندر ہی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس صورت میں بھی انتخابات آئندہ سال جنوری سے پہلے ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی جانتی ہے کہ سیاسی سطح پر مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں انتخابی اصلاحات ہوں گی، جس کا مطلب ہے پارلیمنٹ قانون سازی کرے گی۔ الیکشن کمیشن میں کسی طرح کی تبدیلی، نگراں وزیراعظم کے تقرر کیلئے پراسیس اور اس کے بعد معیشت پر مذاکرات وغیرہ میں چند ماہ کا وقت لگے گا۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ ایسے میں پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں واپس آنا ہو گا تاکہ اس پورے عمل میں کامیابی مل سکے، بصورت دیگر عمران خان اور ان کی جماعت کیلئے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور مزید کنفیوژن کا سامنا کرنا ہوگا۔اگر انتخابات آئندہ سال مارچ سے جون تک کے درمیان ہو جائیں تو یہ پی ٹی آئی کیلئے قابل قبول ہوگا۔ ماضی میں عمران خان کے اقتدار سے نکلنے کے بعد، پی ٹی آئی کے پاس حکمران اتحاد کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ مذاکرات کے امکانات تھے لیکن وہ بھی پی ٹی آئی قیادت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ختم ہوگئے ہیں۔
