من پسند فتووں اور بھتہ خوری کا معاملہ، خوارجی سہولت کار کے اہم انکشافات

خارجی سہولت کار کی بھتہ خوری اور من پسند فتووں سے متعلق مبینہ انکشافات کے بعد دہشت گردی کے سہولت کاری نیٹ ورک پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

دہشت گردی کے لیے مذہب کا سہارا لینے والے عناصر مقامی سہولت کاروں اور غیر قانونی مدارس کے ذریعے مبینہ طور پر فتووں کا استعمال کرتے رہے۔ گرفتار خود ساختہ مولوی ظفر یاب پر الزام ہے کہ وہ فتنۃ الخوارج کی سہولت کاری میں ملوث رہا، جبکہ اس کا تعلق جامع نظام العلوم بنوں سمیت جمعیت علمائے اسلام کے ایک گروپ سے بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار سہولت کار کے انکشافات کے بعد غیر قانونی مدارس کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈی جی آر ای کے دائرہ کار میں لانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

گرفتار شخص نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے 8 سالہ درس نظامی جامع نظام العلوم، شعبہ یتیم خانہ بنوں شہر سے مکمل کیا جبکہ 3 سالہ تخصص فی الفقہ المرکز اسلامی غوریوالہ سے حاصل کیا۔

بیان کے مطابق مفتی ظفریاب نے اعتراف کیا کہ وہ خارجی کمانڈر حکمت روشان کا ساتھی اور گل بہادر شوریٰ کا رکن رہا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ خارجی کمانڈر جہاد کے نام پر بھتہ خوری اور سرمایہ داروں کو دھمکانے کے لیے اس سے فتوے حاصل کرتے تھے۔

گرفتار سہولت کار کے مطابق حکمت روشان مختلف افراد کو لالچ، عہدوں اور مالی فوائد کی پیشکش کرکے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ عناصر غیر اسلامی نظریات کو فروغ دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گرفتار سہولت کار کے بیانات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنے مقاصد کے لیے غیر قانونی مدارس اور خود ساختہ مذہبی شخصیات کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام غیر قانونی مدارس کی رجسٹریشن، نگرانی اور شفاف جانچ ضروری ہے تاکہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی معاونت کا راستہ روکا جا سکے۔

 

امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاق المدارس العربیہ سمیت دینی مدارس کی نمائندہ تنظیموں پر مشتمل اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کے درمیان غیر قانونی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق معاہدہ 2019 سے موجود ہے، جبکہ مدارس کی حکومتی نگرانی، نصاب میں بہتری اور معیارِ تعلیم کو یقینی بنانا اہم ضرورت ہے۔

Back to top button