مفتاح کی چھٹی اور اسحاق ڈار کو وزیرخزانہ بنانے کا فیصلہ

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے اپنے قریبی رفیق سینیٹر اسحاق ڈار کو بالآخر مفتاح اسماعیل کی جگہ وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جو 7 اکتوبر سے پہلے ملک واپس آ کر وزارت کا حلف اٹھا لیں گے۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بالآخر اسحاق ڈار کی سکیورٹی کلیئرنس دے دی ہے اور اب ان کے وزیر خزانہ بننے کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اسحاق ڈار نے خود کو احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست بھی چند روز پہلے واپس لے لی تھی جس کی چار برس میں سماعت ہی نہ ہو پائی تھی۔ اب انہوں نے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں اپنے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی جسے 23 ستمبر کو منظور کرلیا گیا۔ احتساب عدالت کے مشہور زمانہ جج محمد بشیر نے احکامات جاری کیے ہیں کہ اسحاق ڈار کو وطن واپسی پر 7 اکتوبر تک گرفتار نہ کیا جائے۔ نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اسحاق ڈار کسی بھی وقت بلا خوف واپس آ کر وزارت خزانہ کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کے ساتھ عمران دور حکومت میں کیے گے عوام دشمن قرض معاہدے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان میں مہنگائی کا طوفان کھڑا کرنے کے ذمہ دار وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی چھٹی کروانے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مفتاح اسمٰعیل 26 اکتوبر سے پہلے ہی بطور وزیرِ خزانہ منصب چھوڑ دیں گے اور دوبارہ سے گولیاں اور ٹافیاں بیچنے کے دھندے میں جٹ جائیں گے۔ یاد رہے کہ آئین کے مطابق کوئی بھی غیر منتخب مشیر یا وزیر 6 ماہ سے زیادہ کابینہ کا حصہ نہیں رہ سکتا، جبکہ مفتاح اسماعیل کے 6 ماہ 26 اکتوبر کو پورے ہو جائیں گے۔ اس دوران شہباز شریف حکومت کی جانب سے انہیں قومی اسمبلی یا سینٹ کا الیکشن لڑوا کر منتخب کروانے کی کوئی کوشش بھی نہیں ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ انکو 6 ماہ بعد گھر بھجوانے کا فیصلہ ان کی تقرری کے وقت ہی ہو چکا تھا۔ نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جلد از جلد وطن واپس آ کر وزیر خزانہ کا چارج سنبھالنے والے ہیں اور 26 اکتوبر کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ مفتاح اسماعیل اب وزیر خزانہ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مفتاح نہ تو قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی سینیٹ کے، لہٰذا وہ آئین کی دفعہ 91 کے سیکشن 9 کے تحت صرف 6 ماہ کے لیے وزیر بن سکتے تھے اور 26 اکتوبر کو یہ عرصے پورا ہو رہا ہے۔ اس آئینی شق کے مطابق کوئی بھی وزیر جو مسلسل 6 ماہ کی مدت تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے وہ اس مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہ سکتا تاوقتکہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہوجائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتاح کو مشیر بنایا جاسکتا ہے، مگر ایسا کرنے کے لیے پہلے سے موجود کسی مشیر کو فارغ کرنا ہوگا کیونکہ آئینی طور پر وزیرِ اعظم 5 سے زائد مشیر مقرر کرنے کے مجاز نہیں۔ ایسے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید مفتاح کو گورنر سٹیٹ بینک بنا دیا جائے۔ لیکن بظاہر ایسا بھی ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ جمیل احمد کو 26 اگست کو مفتاح اسمٰعیل کی سفارش پر ہی 5 سال کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب اسٹیبلشمنٹب سے سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد اسحق ڈار کے راستے کی تمام رکاوٹیں اب ختم ہو چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہ صرف اسحاق ڈار کو وطن واپسی کی اجازت ملی ہے بلکہ انہیں وزیرخزانہ بنانے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے کیونکہ مفتاح معیشت سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے مفتاح سے جو گندے اور مشکل فیصلے کروانے تھے وہ کروا لئے ہیں لہذا اب ان کا بوجھ اٹھانا ویسے بھی ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ نوازشریف، یوسف رضا گیلانی اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ بطور وزیر کام کرنے والے اسحٰق ڈار سابق رکن قومی اسمبلی ہونے کے علاوہ میاں نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں اور ان کے سب سے قریبی رفیق سمجھے جاتے ہیں۔
