اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کے تارے جہادی کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے

بدلتا ہےرنگ آسماں کیسے کیسے.. آج سے کچھ عرصہ پہلے تک پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا سمجھی جانے والی جہادی تنظیم جماعت الدعوی کی مرکزی قیادت، جو جہاد کشمیر کے نام پر کروڑوں کے ماہانہ فنڈز اکٹھے کرتی اور خرچتی تھی، آج ایف اے ٹی ایف کی لپیٹ میں آ کر جیل جانے کے بعد اپنے گھر کے اخراجات چلانے کے لیے بھی کوڑی کوڑی کی محتاج ہو چکی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کا شکار ہونے کے بعد بینک اکاؤنٹس منجمد ہو جانے کے باعث جماعت الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید سمیت جماعت کی مرکزی قیادت کو اب اپنی روزمرہ ضروریات پورا کرنے کے لئے حکومتی اجازت سے ماہانہ بنیادوں پر اپنے اکاؤنٹس سے ایک قلیل رقم نکلوانے کی اجازت ملتی ہے جن سے انکے گھروں کے اخراجات مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے جب آپ کو کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کرنے کی عادت پڑ چکی ہو تو پھر ایک دو لاکھ ماہانہ میں تو گزارہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے حال ہی میں ایف ای ٹی ایف کی شرائط پوری کرتے ہوئے اپنے جہادی اثاثوں یعنی شدت پسندوں اور انکی تنظیموں پر مزید سخت پابندیاں عائد کی ہیں اور اس سلسلے میں پارلیمان میں کی گئی قانون سازی کے بعد وزارتِ خارجہ کی طرف سے اِن پابندیوں کے بارے میں باقاعدہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیے میں عائد کردہ پابندیوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے تاہم ان پابندیوں کے ساتھ ساتھ مشتبہ شدت پسندوں کو اُن کی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک مخصوص رقم بینک اکاؤنٹس کے ذریعے استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مشتبہ شدت پسندوں اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت شیڈول فورتھ میں شامل افراد کی جانب سے دی جانے والی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے انھیں اُن کے روزمرہ اخراجات کے لیے مخصوص رقم ماہانہ بنیادوں پر اُن کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے استعمال کرنے کی اجازت دے۔
اس فیصلے کے پیشِ نظر اب تک 280 کے قریب شیڈول فورتھ میں شامل مشتبہ شدت پسندوں نے اپنے ماہانہ اخراجات کی مد میں رقوم نکلوانے کے لیے اپنے منجمد شدہ بنک اکاؤنٹس تک دسترس کی درخواستیں جمع کروائی ہیں، جن پر کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ روزمرہ اخراجات پورا کرنے کے لیے پاکستان میں سب سے پہلے جن افراد نے اس قانونی سہولت سے فائدہ اٹھایا اُن میں کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید سمیت اس جماعت کے پانچ دیگر رہنما شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کے نام چونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دہشتگردوں کی فہرست میں شامل تھے اس لیے انھیں ماہانہ اخراجات کی سہولت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو دی گئی درخواستوں کی منظوری کے بعد دی گئی۔
حکومت پاکستان نے حافظ سعید سمیت جیل بھیجے گئے کالعدم جماعت الدعوہ اور لشکر طیبہ کے پانچ رہنماؤں کے منجمند اکاؤنٹس کو مخصوص ماہانہ اخراجات کے لیے جزوی طور پر بحال کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے اقوام متحدہ کو ارسال کی گئی درخواستوں میں ان رہنماؤں کی طرف سے اپنے ماہانہ اخراجات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو کم سے کم ایک لاکھ اور زیادہ سے زیادہ تین لاکھ روپے تک ہیں۔
پاکستانی حکام کا بتانا ہے جیل میں موجود ان رہنماؤں کو زیادہ تر اُن کے بھائی یا بیٹے ماہانہ اخراجات کے لیے پیسے ارسال کرتے ہیں۔ یہ رقوم پہلے کیش کی صورت میں ادا ہوتی تھیں کیونکہ ان رہنماؤں کے بینک اکاونٹس منجمند کیے جا چکے تھے۔ اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظوری کے بعد سے یہ رہنما اپنے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اپنا ماہانہ خرچ چلا رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان رہنماؤں کے بارے میں حکومت پاکستان کو بھی اطمینان ہے کہ وہ کسی شدت پسندی کی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے، اسی لیے اُن کی درخواستیں وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ارسال کی گئیں۔ ان رہنماؤں نے اپنی الگ الگ درخواستوں میں کتنی کتنی رقم کے ماہانہ بنیادوں پر استعمال کی اجازت طلب کر رکھی تھی اس کی تفصیل بھی بہت دلچسپ ہے۔ کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید، جن پر انڈیا کی طرف سے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے، نے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو دی گئی درخواست میں بتایا تھا کہ ان کو 95 ہزار روپے ماہانہ پینشن ملتی ہے جبکہ ان کا بیٹا انھیں ڈیڑھ لاکھ روپے دیتا ہے۔ حافظ سعید نے حبیب بینک لاہور کی ایک برانچ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ یہ رقم اپنے گھر کو چلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر انھیں دو لاکھ 45 ہزار کی رقم ماہانہ بنیادوں پر استعمال کی اجازت دی گئی۔ حافظ سعید آج کل لاہور جیل میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کی طرف سے دہشتگردی کی مالی معاونت کرنے کے جرم میں پانچ سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انھیں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے دس دسمبر 2008 کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
حافظ سعید کے ایک اور ساتھی عبدالاسلام بھٹاوی نے اپنی درخواست میں پینشن کی مد میں 25 ہزار روپے ملنے کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان کا بیٹا انھیں ایک لاکھ روپے ماہانہ دیتا ہے جسے وہ لاہور میں واقع ایک نجی بینک کے ایک اکاؤنٹ سے حاصل کرنے کے خواہشمند تھے۔ بھٹاوی کو اپنا ماہانہ خرچ چلانےکے لیے مجموعی طور پر کم و بیش ایک لاکھ 25 ہزار روپے درکار تھے۔ انھیں اس رقم کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے اور آج کل وہ اتنی ہی رقم ماہانہ بنیادوں پراستعمال کر رہے ہیں۔ بھٹاوی آج کل لاہور جیل میں دہشتگردوں کی مالی معاونت کے ایک کیس میں ایک سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انھیں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔ بھٹاوی چودہ مارچ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
جماعت الدعوہ کے اور مرکزی راہنما حاجی محمد اشرف کی درخواست کے مطابق انھیں اُن کا بھائی ایک لاکھ روپے اور دوسرے ذرائع سے 80 ہزار روپے موصول ہوتے ہیں۔ وہ نجی بینک کے اکاؤنٹ ہولڈر ہیں، انھیں اپنا گھر چلانے کے لیے ایک لاکھ 80 ہزار روپوں کی رقم ماہانہ بنیادوں پر درکار تھی۔ انھیں بھی اپنے ماہانہ اخراجات کے لیے اس حد تک رقم کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے اور وہ یہ رقم ماہانہ بنیادوں پراستعمال کر رہے ہیں۔ حاجی محمد اشرف کو حافظ سعید کے ہمراہ دس دسمبر 2008 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
یحیی مجاہد، جو کسی زمانے میں کالعدم جماعت الدعوہ کے مرکزی ترجمان تھے، بھی ماہانہ اخراجات کے لیے مخصوص رقم کے استعمال کی سہولت کے حامل افراد میں شامل ہیں۔ مجاہد کی درخواست میں ایک لاکھ روپے بھائی سے ماہانہ بنیادوں پر وصول کرنے اور دیگر ذرائع سے ایک لاکھ روپے الگ سے آمدن کا ذکرکیا گیا۔ یہ رقم انھیں اپنے ماہانہ اخراجات کے لیے درکار تھی۔ اس کے لیے وہ لاہور کے نجی بینک میں موجود اپنے بینک اکاؤنٹ کو جزوی طور پر بحال کرنے کے خواہشمند تھے۔ ان کی درخواست بھی قبول کرلی گئی اور وہ یہ رقم اپنے بینک اکاؤنٹ سے نکالنے کے اہل ہو چکے ہیں۔ یحیی مجاہد کو بھی انسداد دہشتگردی کی عدالت کی طرف سے دہشتگردوں کی مالی معاونت کا جرم ثابت ہونے پر پانچ سال کی سزا مل چکی ہے اور وہ آج کل لاہور جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مجاہد کو 29 جون 2009 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
کالعدم جماعت الدعوہ میں نمبر دو کی پوزیشن رکھنے والے ظفر اقبال حافظ سعید کے قریبی دوست بھی سمجھے جاتے ہیں جو لاہور جیل میں انسداد دہشتگردی کی طرف سے دہشتگردوں کی مالی معاونت کے جرم میں پانچ سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ظفر اقبال کو اپنے بینک اکاؤنٹ کو بحال کروانا چاہتے تھے جس میں انھیں ان کا بیٹا ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ اخراجات کے لیے بھجواتا تھا۔ اُن کی درخواست کو بھی شرف قبولیت بخشا گیا اور وہ اس سے مبینہ طور پر مستفید بھی ہو رہے ہیں۔ ظفراقبال کے چودہ مارچ 2012 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا۔ تاہم لاہور کی جیلوں میں قید جماعت الدعوہ کے مرکزی رہنماؤں اب بھی پوری طرح اس بات کا یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں استعمال۔کرنے کے بعد بوجھ سمجھتے ہوئے مکمل طور پر فارغ کر دیا۔ ان کا اب بھی یہی خیال ہے کہ وقت بدلے گا اور انہیں ماضی میں استعمال کرنے والوں کو ایک مرتبہ پھر ان کی اہمیت کا احساس ہوگا۔
