اشتعال انگیز تقاریر: ایم کیو ایم رہنماؤں پر فرد جرم عائد

انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق دائر 2 مقدمات میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی۔ شہر قائد کی انسداد دہشت گردی میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے 27 مقدمات کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ایم کیو ایم کے سابق کنوینئر ڈاکٹر فاروق ستار، سینئر رہنما عامر خان، میئر کراچی وسیم اختر، خواجہ اظہار الحسن اور محمد جاوید پر فرد جرم عائد کی، تاہم اس دوران عدالت میں موجود ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا۔جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کر لیا۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان کے خلاف اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کے شواہد موجود نہیں، اس دوران ملزمان کے وکیل نے کہا کہ اشتعال انگیز تقاریر کے دیگر مقدمات کی سماعت اے ٹی سی نمبر 1 میں زیر سماعت ہیں۔ اس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان کے خلاف تھانہ سہراب گوٹھ میں درج 2 مقدمات کو اے کلاس کیا جائے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ کیس اے ٹی سی نمبر 1 منتقلی سے متعلق تاحال آرڈر نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اے ٹی سی نمبر 10 نے کیس منتقلی سے متعلق ایم آئی ٹی برانچ کو خط لکھا ہے لیکن کیس منتقلی سے متعلق ایم آئی ٹی برانچ سے اے ٹی سی 10 کو تاحال لیٹر موصول نہیں ہوا۔
اشتعال انگیز کے دیگر مقدمات میں استغاثہ کی جانب سے گواہ انسپکٹر آزاد خان نے اپنا بیان قلمبند کرایا جس پر عدالت نے اشتعال انگیز تقاریر کے 27 مقدمات کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ملزمان پر 2 مقدمات تھانہ ملیر سٹی اور بریگیڈ میں درج ہیں جبکہ دیگر مقدمات عزیز آباد، سچل اور دیگر تھانوں میں درج ہیں۔
یاد رہے کہ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر اور میڈیا ہاؤس پر حملوں میں سہولت کاری پر فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور عامر لیاقت حسین سمیت دیگر پر کراچی کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور عدالت نے متعدد رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔بعد ازاں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 23 اکتوبر 2018 کو اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی تھی۔
