اعتماد کا ووٹ لینا عمران کی آئینی مجبوری ہے، بہادری نہیں

سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر شکست کے بعد اپنی خفت کو مٹانے کیلئے جہاں وزیر اعظم نے اپنی ناکامی کا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالتے ہوئے اس پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی وہیں اپنے ڈاواں ڈول اقتدار کو بچانے کے لیے انہوں نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی آئینی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ چنانچہ وفاقی وزراء کی جانب سے یہ تاثر دینا کے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ وزیراعظم کی بہادری کا غماز ہے، بالکل غلط اور گمراہ کن ہے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کی اکثریت کے باوجود اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد انکی اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوگئی تھی جس کے بعد ان پر اعتماد کا ووٹ لینا لازمی ہوگیا تھا۔ کام دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتی وزراء وزیراعظم کی جانب سے اس مجبوری کے فیصلے کو ان کی بہادری سے تعبیر کر رہے ہیں۔ عمران خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وہ اتنے ہی بہادر ہوتے تو دو مہینے تک سینٹ کے الیکشن کو اوپن بیلٹ کے تحت کروانے کے لیے پاپڑ نہ بیلتے۔ ویسے بھی وزیراعظم اعتماد کا ووٹ اوپن بیلٹ کے تحت لیں گے چنانچہ اس معاملے میں انکی جانب سے بہادری دکھانے والی کوئی بات نہیں ہے۔
دوسری جانب صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق سات کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 6 مارچ کو طلب کیا گیا ہے تاکہ عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے سکیں۔ واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے مطابق وزیر اعظم، صدر کی خوشنودی کے دوران اپنے عہدے پر فائز رہے گا، لیکن صدر اس شق کے تحت وہ اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرے گا تا وقتیکہ انہیں اطمینان نہ ہو جائے کہ وزیر اعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں، جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم دیں گے۔‘ چانچہ پارلیمانی ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ اپنی ہی جماعت کے صدر نے محسوس کیا ہے کہ قائد ایوان یا وزیر اعظم اپنی اکثریت کھو چکے ہیں چنانچہ انہوں نے عمران خان کو اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم دیا ہے۔
قومی اسمبلی ذرائع کے مطابق اس سے پہلے صرف نواز شریف وہ واحد وزیراعظم ہیں جنھوں نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ یاد ریے کہ 18اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑ دی تھیں جنھیں سپریم کورٹ نے 26 مئی 1993 کی سہ پہر بحال کرتے ہوئے اگلے ہی دن قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا تھا۔ اس اجلاس کے اختتام پر ایک قرار داد کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف نے اعتماد کا ووٹ لیا۔ اس وقت ایوان کے 210 میں سے 123 ارکان نے نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔‘
خیال رہے کہ وزیراعظم کو جب بھی قومی اسمبلی سے اعتماد کے ووٹ کی ضرورت ہو تو اسے اسمبلی کی کل تعداد کے نصف ارکان سے زائد یعنی کم از کم 172 ارکان کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر وہ اسمبلی سے اپنا اعتماد کھو دیتا ہے۔ قواعد کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب اور اعتماد کے ووٹ کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اعتماد کے ووٹ میں اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کے قاعدہ 36 اور شیڈول دوم کے مطابق اجلاس شروع ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی پانچ منٹ تک ایوان میں گھنٹیاں بجواتے ہیں تاکہ تمام ارکان کی حاضری یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے بعد ایوان کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ کوئی رکن باہر جا سکے نہ کوئی باہرسے اندر آئے۔
6 مارچ کو سپیکر قومی اسمبکی اس قیصر وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد پڑھنے کے بعد اسمبلی ارکان سے کہیں گے کہ ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کے خواہشمند شمار کنندگان کے پاس ووٹ درج کروا دیں۔ شمارکنندگان کی فہرست میں رکن کے نمبر کے سامنے نشان لگا کر اس کا نام پکارا جائے گا۔ قواعد کے تحت ووٹ درج ہونے کے بعد ارکان ہال کی لابیز میں انتظار کریں گے۔ تمام ارکان کے ووٹ درج ہونے کے بعد سپیکر رائے دہی مکمل ہونے کا اعلان کریں گے۔ سیکرٹری اسمبلی ووٹوں کی گنتی کرکے نتیجہ سپیکر کے حوالے کر دیں گے۔
سپیکر دوبارہ دو منٹ گھنٹیاں بجائیں گے تاکہ لابیز میں موجود ارکان قومی اسمبلی ہال میں واپس آ جائیں اور پھر سپیکر قومی اسمبلی نتیجے کا اعلان کر دیں گے۔وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد منظور یا مسترد ہونے کے بارے میں قومی اسمبلی کے سپیکر صدر مملکت کو تحریری طور پر آگاہ بھی کریں گے۔
واضح رہے کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے عمل کے دوران اگر قومی اسمبلی کے 172 سے کم ارکان وزیراعظم پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور باقی ارکان غیر حاضر رہیں یا ایوان میں ہوتے ہوئے بھی لابیز میں جا کر شمار کنندگان کے پاس اپنے نام کا اندراج نہ کروائیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ وزیراعظم ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ’ایسا ہونے کی صورت میں صدر مملکت کا یہ خدشہ کہ قائد ایوان کے پاس اکثریت نہیں رہی درست ثابت ہو جائے گا۔ ایسا ہونے کی صورت میں وفاقی کابینہ تحلیل ہو جائے گی اور ایوان قواعد کے تحت نئے قائد ایوان کا انتخاب کرے گا۔ جس کا طریقہ کار بالکل وہی ہے جو انتخابات کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔‘
دوسری جانب پارلیمانی قواعد کے مطابق تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک پیش ہونے کے تین دن کے بعد اور سات دن کے اندر اندر اس پر ووٹنگ ہوتی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ایوان کی کل تعداد کے 20 فیصد ارکان کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا طریقہ کار بھی وزیراعظم کے انتخاب کے طریقہ کار یعنی اوپن ووٹنگ اور ڈویژن کے ذریعے ہوتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئیں لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ اسی طرح چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سپیکرز کے خلاف آنے والی تحاریک عدم اعتماد کو بھی ناکامی کا سامنا کر چکی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چھ مارچ کو عمران خان بطور وزیراعظم آسانی سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں گے چونکہ یہ اوپن بیلٹ کے طریقہ کار کے تحت ہونا ہے۔ تاہم ان کے لئے مشکل صورتحال تب پیدا ہوگی جب اپوزیشن اتحاد ان کے خلاف پوری تیاری کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک لے کر آئے گا۔
