افغانستان زلزلہ: ملبے تلے دبے افراد کی تلاش روک دی گئی

افغانستان کی حکومت نے دوروز قبل آنیوالے حولناک زلزلے کے نتیجے میں تبا ہ ہونیوالے مکانات کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا کام روک دیا ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں حکام نے زلزلے کے بعد ممکنہ طور پر تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل ختم کر دیا ہے۔ بدھ کے روز آنے والے اس زلزلے کے نتیجے میں 1,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغان حکومت کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق ملک میں ادویات اور دیگر اہم امداد کی فراہمی ناکافی ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ ڈیزاسٹر منسٹری کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب ایک دور افتادہ علاقے میں بدھ کے زلزلے میں تقریباً 2,000 افراد زخمی اور 10,000 مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے،زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن روک دیا گیا ہے۔‘‘ البتہ حقانی نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کے زلزلے کے صرف 48 گھنٹے بعد ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کیوں روک دی گئی،ملک میں ماضی میں آنے والے زلزلوں کے مقابلے میں اس بار ریسکیو آپریشن میں کافی زیادہ وقت لگا۔
واضح رہے کہ6.1 شدت کا یہ زلزلہ کابل کے جنوب مشرق میں تقریباً 160 کلومیٹر (100 میل) کے فاصلے پر، چھوٹی بستیوں کے ساتھ بنجر پہاڑوں کے ایک ایسے علاقے میں آیا جو کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری جنگ مرکز بنا رہا ہے۔ پہلے ہی انسانی اور اقتصادی بحران سے دوچار اس ملک میں خراب مواصلات اور مناسب سڑکوں کی کمی نے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی بین الاقوامی امدادی ادارے افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔ غیر ملکی ترقیاتی امداد میں اربوں یورو کی کٹوتی ہو چکی ہے۔ یوں افغانستان میں پہلے سے موجود اقتصادی بحران شدید تر ہو چکا ہے۔
