فلسطینی خاتون صحافی کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے کہا ہےکہ فلسطینی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی موت اسرائیلی فوج کی گولی لگنے سے ہوئی ۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطابق الجزیرہ ٹیلی ویژن کی صحافی شیریں ابو قلہ اسرائیل فورسز کی طرف سے چلائی گئی گولی سے ہلاک ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان رافینا شامداسانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیلی حکام نے اس معاملے کی فوجداری تفتیش نہیں کرائی۔ فلسطینی امریکی صحافی شیریں ابو قلہ نے وہ حفاظتی جیکٹ اور ہیلمٹ بھی پہن رکھا تھا جس پر واضح طور پر پریس لکھا ہوا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے ہیومن رائٹس کےروینہ شام دیسانی کا کہنا ہے کہ اب تک ہو نے والی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فورسز کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آکر ابو عاقلہ جاں بحق جبکہ ان کا ساتھی رپورٹرزخمی ہوافلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی اس حوالے سے رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے اس قتل کی تحقیقات نہ کروانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ باعث تشویش ہے کہ اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر تحقیقات نہیں کیں، ہم نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر میں اس واقعے کی غیرجانب درانہ نگرانی کی، یہ معلومات اسرائیلی افواج اور فلسطینی اٹارنی جنرل کی جانب سے آئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ شیریں ابو عاقلہ مسلح فلسطنیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئیں، تاہم اس کے برعکس جن گولیوں سے شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور ان کے ساتھ علی سمودی زخمی ہوئے تھے وہ اسرائیلی فوج نے چلائی تھی،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ ہمیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ جہاں پر صحافی موجود تھے وہاں قریبی علاقے میں مسلح فلسطینی کارروائیاں کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 7 صحافی مغربی راستے سے جنین مہاجرین کیمپ میں 6 بجے کے بعد پہنچے، تقریبا ساڑھے 6 بجے 4 صحافیوں نے خاص گلی کی طرف رخ کیا، بظاہر نشانہ لے کر چلائی جانے والی گولیاں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آئیں،ایک گولی علی سمودی کے کندھے میں لگی جس سے وہ زخمی ہوگئے جبکہ دوسری گولی شریں ابو عاقلہ کے سر میں لگی جس سے وہ فوراً ہی جاں بحق ہوگئیں۔
واضح رہے کہ 11 مئی کو فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں واقع جنین کیمپ پر اسرائیلی فوج کے ایک آپریشن کی کوریج کے دوران وہ سر میں گولی لگنے کے سبب ماری گئی تھیں۔
