افغانستان کے ممکنہ سربراہ ملا عبدالغنی برادر کون ہیں؟


افغان طالبان کے اہم ترین رہنما اور انکا سیاسی چہرہ کہلانے والے ملا عبدالغنی برادر قطر سے براستہ قندھار کابل پہنچ گئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ سال 2001 میں افغان طالبان کے کابل سے اقتدار کے خاتمے کے بعد اب انکے کابل واپسی تک کے سفر میں سب سے اہم کردار ملا عبدالغنی برادر کا ہی رہا ہے۔ 2001 میں میں افغان طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے وقت تک ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان کا اہم ترین دوست تصور کیا جاتا تھا لیکن 20 برس بعد اب حالات مکمل طور پر تبدیل ہوچکے ہیں اور ملا عبدالغنی برادر اب پاکستان کے حوالے سے دوست کی بجائے ایک دشمن والے جذبات رکھتے ہیں۔ ملا برادر کا گلہ ہے کہ انھیں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پاکستانی سکیورٹی اداروں نے امریکہ کے ایما پر ایک لمبے عرصے تک قید میں رکھا اور ان سے غیر انسانی سلوک کیا گیا۔
ملا برادر سنہ 2010 میں پاکستان میں اپنی گرفتاری سے قبل نہ صرف طالبان کی قیادت میں دوسرے نمبر پر تھے بلکہ طالبان کی پہلی حکومت اور پھر امریکہ کے خلاف جنگی حکمت عملی کے ماسٹر مائنڈ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملا برادر کو پاکستان میں گرفتار بھی امریکی انتظامیہ کی خواہش پر کیا گیا تھا اور پھر انکو رہا بھی امریکہ کی دباؤ پر کیا گیا جسکا بنیادی مقصد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرنا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد ملا برادر نے اپنی مذاکراتی اور سفارت کاری کی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے طالبان کے بنیادی مطالبے کو منوانے میں بھی کامیابی حاصل کی تھی اور اسی کی بدولت طالبان کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں بننے والی طالبان کی نئی حکومت کے عبوری سربراہ ہوں گے۔
ملا عبدالغنی برادر کا شمار طالبان تحریک کے سرکردہ رہنماؤں اور ملا عمر کے انتہائی اہم اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ ملا برادر طالبان شوریٰ کے اہم رکن اور ملا محمد عمر کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے۔
ملا عبدالغنی برادر 1968 میں پیدا ہوئے۔ ابھی ان کی طالب علمی کا زمانہ تھا کہ اس دوران افغانستان میں سابق سوویت یونین کی افواج کے داخلے کے ساتھ جنگ چھڑ گئی۔ ملا عبدالغنی برادر اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان ہجرت کر کے کوئٹہ کے قریب واقع کچلاک میں رہائش پذیر ہو گئے۔ سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ملا عبدالغنی برادر اپنے قریبی دوست اور ساتھی ملا محمد عمر اخوند سمیت حرکت الاسلام گروپ میں شامل رہے۔
ملا محمد عمر کی طرح ملا عبدالغنی برادر نے بھی کسی مدرسے یا تعلیمی ادارے سے تعلیم مکمل نہیں کی اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو طالب کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ملا عبدالغنی کا شمار کافی ہوشیار اور سمجھ دار رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ازخود مختلف زبانیں سیکھی ہیں اور پشتو اور دری کے علاوہ وہ عربی، اردو اور انگریزی میں بات چیت کر سکتے ہیں۔
1994 میں تحریک طالبان افغانستان ملا محمد عمر کی سربراہی میں وجود میں آئی تو ملا عبدالغنی برادر اس تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ وہ نہ صرف ملا محمد عمر کے نائب تھے بلکہ ان کا شمار ملا محمد عمر کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ جب تحریک طالبان نے افغانستان کے جنوبی اور مغربی صوبوں پر قبضہ کر لیا تو سب سے پہلے ملا عبدالغنی برادر کو ہی پہلے صوبہ نمروز اور بعد میں ایران سے ملحقہ ہرات کا گورنر نامزد کیا گیا۔
ملا عبدالغنی برادر کو افغانستان کی مرکزی فوج کا ڈپٹی کمانڈر اور 1999 میں افغان فوج کا سربراہ بننے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ اس دوران انہوں نے نائب وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔ نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے پر ملا عبدالغنی نے موٹر سائیکل پر کابل سے نکل کر نہ صرف اپنی بلکہ ملا محمد عمر کی جان بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ یہ دونوں دیگر اہم رہنماؤں سمیت قندھار سے دور پہاڑوں پر پہنچ کر کئی سالوں تک روپوش رہے۔
ملا عبدالغنی برادر اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق افغانستان کے ایک ہی قبیلے ’پوپلزئی درانی‘ سے ہے۔ 2007 میں طالبان نے کوئٹہ شوریٰ قائم کی اور ملا برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے۔ انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی کمانڈ کی تھی۔
نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد جب سابق صدر حامد کرزئی بون جرمنی معاہدے کے تحت افغانستان کے صدر بن گئے تو انہوں نے مختلف محاذوں پر مزاحمت کرنے والوں کو صلح کے پیغامات بھجوائے۔ ان رہنماؤں میں عبدالحکیم مجاہد، ملا عبدالسلام ضعیف، مولوی وکیل احمد متوکل اور مرحوم مولوی ارسلا رحمانی سمیت کئی ایک نمایاں تھے۔ سابق صدر حامد کرزئی نے 2004 اور 2009 میں ملا عبدالغنی برادر سے رابطہ کر کے انہیں قیام امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی جس کی ملا برادر نے یقین دہائی بھی کرائی تھی۔
تاہم فروری 2010 میں ملا برادر کو امریکہ کے مطالبے پر کراچی سے سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری کو امریکہ نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا مگر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ برادر کی گرفتاری کے بعد زیادہ تر افغان طالبان رہنما پاکستان سے ناراض ہوگئے تھے۔ کچھ خفیہ طور پر افغانستان منتقل ہو گئے اور کچھ نے بعد میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی معاونت سے دفتر کھول کر افغانستان میں امن کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس دوران سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بار بار مطالبے پر نومبر 2012 میں پاکستان نے گرفتار طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر آخری وقت میں ان دس رہنماؤں کی فہرست سے ملا عبدالغنی برادر کا نام خارج کر دیا گیا جس پر حامد کرزئی کی حکومت نے شدید تنقید کی تھی۔ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان مسئلے کے حل کے لیے سابق سفیر ڈاکٹر زلمے خلیل زاد کو نمائندہ خصوصی مقرر کیا تو اُنہوں نے ستمبر اور اکتوبر 2018 میں اسلام آباد اور کابل کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ملا برادر سمیت دونوں ممالک میں قید بعض طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ چنانچہ ریاست پاکستان نے 24 اکتوبر 2018 کو ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دیا مگر وہ فروری 2019 تک پاکستان ہی میں رہے۔
فروری 2019 میں ملا برادر پاکستان سے دوحہ چلے گئے۔ وہاں پہنچنے پر ان کو دوحہ کے سیاسی دفتر کا سربراہ بنا دیا گیا۔ سیاسی کمیشن کا سربراہ بننے کے بعد ملا برادر کی سربراہی میں طالبان وفد نے اکتوبر 2019 اور دسمبر 2020 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ اس دورے میں وفد نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی تھی جس کا تذکرہ عمران خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی کیا۔
ملا عبدالغنی برادر نے نہ صرف امریکہ کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کیے بلکہ قطر اور ماسکو میں افغانستان سے آنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار میں ملا عبدالغنی برادر نے افغان طالبان کے وفد کی قیادت کی۔
مارچ میں ہونے والے معاہدے پر امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زاد جبکہ طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر امریکہ اور پاکستان سمیت دنیا کے پچاس ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی تھی جبکہ طالبان کا 31 رکنی وفد بھی موجود تھا۔
اسی معاہدے کی روشنی میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج واپس بلائیں جس کے بعد طالبان نے مختلف صوبوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومتوں کو قبضے میں لے لیا اور خلاف توقع کابل پہنچ کر پر امن طریقے سے صدارتی محل سمیت تمام سرکاری اداروں کے ہیڈکوارٹرز کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ اب طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے سربراہ کے لیے ملا عبدالغنی برادر کا نام لیا جا رہا ہے جس کے بارے میں حتمی اعلان جلد متوقع ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ افغان عبوری حکومت کا سربراہ بننے کے بعد ملا برادر پاکستان کے ساتھ سابق صدر اشرف غنی والا رویہ اپناتے ہیں یا پرانی رنجشیں بھلا کر اچھے تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

Back to top button