افغان برآمدات پرپاکستانی سفارت خانےنےکوئی پابندی نہیں لگائی

افغانستان کےدارالحکومت کابل میں قائم پاکستان کےسفارت خانےکی جانب سےمیڈیا کی رپورٹس پروضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ حکومت پاکستان نےافغان برآمدات پرنئی پابندیاں نہیں لگائیں۔ پاکستانی سفارت خانے کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ‘افغان ٹائمز کی 20 جنوری کی رپورٹ کےحوالےسےآگاہ کیا جاتا ہےکہ حکومت پاکستان نے افغان برآمدات پر کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کیں’۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان درحقیقت افغان برآمدات کے لیے بدستور سہولت دے رہا ہے’۔ پاکستانی سفارت خانےکےمطابق‘پاکستان کےلیےافغانستان کی برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 2019 میں19 فیصد اضافہ ہوا’۔
افغان میڈیا کی رپورٹ پرردعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ‘سفارت خانے نےافغان وزارت تجارت کوٹرانزٹ ٹریڈ کےحوالے سے آگاہ کیا ہے اور اے پی ٹی ٹی اے کے آرٹیکل 21 کے مطابق ٹرانزٹ کارگوعالمی معیارکےکنٹینروں کوٹرکوں کےذریعے منتقل کیا جارہا ہے’۔ ٹرکوں کےاستعمال کےحوالےسےوضاحت دی کہ ‘اس عمل کےتحفظ کےلیےسیل کے ساتھ ساتھ ٹریکنگ ڈیوائسزلگائی جاتی ہیں’۔
خیال رہے کہ افغانستان ٹائمز نےاپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایک ایسےوقت میں جب اسلام آباد اورکابل کےدرمیان کشیدہ تعلقات کو بہترکرنےکی کوششیں جاری ہیں توحکومت پاکستان نےافغان ٹرانزٹ ٹرکوں اوربرآمدی مصنوعات پر نئی پابندی عائد کردی ہے۔ افغان وزارت تجارت وصنعت کےترجمان جان آغا نوید نےاس حوالےسےجاری بیان میں تشویش کااظہارکیا تھا۔ ان کا کہنا تھا تھا کہ ‘نئی پابندیوں کی بنیاد پرافغانستان کی برآمدات ٹرکوں کے ذریعےہو جس میں ٹریسرزلگے ہوں’۔
افغان تاجروں کےمسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نےکہا تھا کہ اکثر تاجروں کے پاس ٹریسر لگے ٹرک نہیں ہیں اوراس معاملےپرمذاکرات ہونےچاہیےاورافغانستان کواس کےحل کےلیےاپنا منصوبہ اورپیش کش کرنی چاہیے۔ جان آغا نوید نے اپنےبیان میں کہا تھا کہ اس تازہ پابندی سےپاکستان کی معیشت پربھی اثرپڑے گا۔
یاد رہےکہ4 نومبرکو کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانہ نے عملے کی سیکیورٹی اورتحفظ کےخدشات کے پیشِ نظر اپنی سروسزمعطل کردی تھیں۔ قبل ازیں 3 نومبر کو پاکستان کےدفتر خارجہ نےافغان ناظم الامورکوطلب کرکےکابل میں اپنے سفارتی عملےکودرپیش سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ پاکستان نے بعد ازاں 29 دسمبر2019 سےکابل میں قونصلرخدمات بحال کرنےکا اعلان کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button