ہماری حکومت کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے

وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے، ماضی میں سول ملٹری کا جھگڑا اس وجہ سے نہیں تھا کہ ملٹری مداخلت کرتی تھی، ماضی میں ہمیشہ جھگڑا سویلین کے ملٹری معاملات میں مداخلت سے ہوا۔ یہ پہلی حکومت ہے جس کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ڈیووس میں بین الاقوامی میڈیا کونسل سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فوری طور پر بھارت کے ساتھ جنگ کا کوئی خطرہ نہیں.خدشہ ہے بھارت پلواما جیسا ڈرامہ کر کے پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت پیدا ہوئی، ماضی میں حکمرانوں نے ملک سے دولت لے جانے کے لیے ادارے کمزور کیے تاہم ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان میں احتساب کا عمل بھی تیز کیا گیا ہے، انھیں اقدام کی بدولت روپے کی قدر مستحکم ہوئی اور ملک درست سمت میں بڑھ رہا ہے۔خارجہ پالیسی کو فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کی حمایت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت میں امن ہوگا تو وسائل غریب پر خرچ ہوں گے، اگر بھارت میں متنازع قانون کے خلاف احتجاج بڑھا تو ایل او سی سے توجہ ہٹ جائے گی جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ تباہ کن ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت سرحدی علاقوں کی بحالی کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے مبصرین کو علاقے کا دورہ کرنا چاہیے، مودی نے 80 لاکھ کشمریوں کو کئی ماہ سے محصور کیا ہوا ہے، امریکی صدر سے بھی کشمیر کی صورت حال پر بات کی ہے، ایل او سی پر کشیدگی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ہم پرامن طریقے کیساتھ تنازعات کا حل چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سابق حکومتوں نے امریکا سے وعدے کرکے غلطی کی تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال سے متاثر ہوتا ہے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو وسط ایشیا تک تجارت ممکن ہوگی۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے سرحدی علاقے متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو افغانستان میں ناکامی ہوئی تو اس نے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ امریکا سمجھتا تھا کہ افغان مسئلے کا حل طاقت کا استعمال ہے لیکن میں نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔ میرے موقف کی وجہ سے مجھے طالبان کا حامی کہا گیا۔ امریکا کو آخر کار افغان مسئلے پر مذاکرات کا راستہ نکالنا پڑا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں کیونکہ میرے سب سے زیادہ دوست وہاں ہیں، اس لیے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے میری پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پلوامہ حملے کے بعد میں نے کہا ثبوت دیں تو کارروائی کریں گے لیکن بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کر دی، اس کے بعد بھارت کے ساتھ معاملات زیادہ خراب اور کشیدگی بڑھ گئی۔ مودی کی غلط پالیسیوں سے حالات خراب ہوتے گئے۔ اب پلوامہ جیسے واقعات دوبارہ رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ مودی حکومت آر ایس ایس کے نظریے پر عمل پیرا ہے۔ اس نے انتخابی مہم پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر چلائی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکا اور بھارت کے تعلقات سے کوئی سروکار نہیں، امریکی صدر سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات ہوئی۔ فوری طور پر پاک بھارت جنگ کا خطرہ نہیں، تاہم خدشہ ہے کہ بھارت پلوامہ جیسا حملہ کرکے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب 30 کروڑ لوگوں کا ملک انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت میں شہریت قانون سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ امریکا اور اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوگا کیونکہ امن و استحکام کے بغیر معیشت کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے 50 ویں سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘جب میں وزیراعظم بنا تو پاکستان میں 10 بلین درخت لگانے کا اعلان کیا جس کے لیے خیبر پختونخوا کے ہمارے تجربے کو استعمال کیا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘درخت لگانا ہمارے لیے دو معنوں میں ضروری ہے، ایک تو پاکستان میں ماحول کے لیے ضروری ہے اور دوسری آلودگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ لاہور میں آلودگی بڑھ گئی ہے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘آپ اپنی معشیت کو امن و استحکام کے بغیر مستحکم نہیں کرسکتے، پاکستان نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور جب روس افغانستان سے چلاگیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا’۔انہوں نے کہا کہ ‘معیشت کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آپ کے معاشرے میں مسلح گروپ ہوں تو یہ ممکن نہیں ہوتا، نائن الیون کے بعد پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا گیا’۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘جب میں حکومت میں آیا تو یہ طے کیا کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہوں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان کے امن عمل میں پاکستان امریکا کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تعاون کررہا ہے, افغانستان میں امن کے بعد وسط ایشیاکی مارکیٹ تک رسائی ہوگی’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے چین اور وسطی ایشیائی ممالک سے ملحق ہے، جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہوں تو پاکستان کی اس حیثیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت ہمیں سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ ہم کس طرح اپنے اداروں کو مضبوط کریں’۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘مذہبی سیاحت کے حوالے پاکستان مالامال ہے جہاں صوفی ازم، بدھ ازم اور دیگر مقامات ہیں اور ہم سیاحتی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہے ہیں’۔
قبل ازیں سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان جنگ کے باعث معاشرے میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر آیا،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا، جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، تاہم اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے 2 تنازعات میں حصہ لیا جس میں 1980 کی دہائی میں افغان جہاد جبکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ تھی اور ان دونوں کی ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑی۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے تنازع میں سوویت کی جانب سے افغانستان چھوڑنے کے بعد عسکریت پسند گروپ، فرقہ وارانہ گروپ، کلاشنکوف اور منشیات کے کلچر نے فروغ پایا جس نے ہمارے معاشرے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور خودکش دھماکوں کے باعث پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک تصور کیا جانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے کچھ اہم فیصلے کیے کہ ہم صرف ‘امن کے ساتھ شراکت داری کریں گے’ اور ہم کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں امن کے قیام کے بعد پہلا فائدہ سیاحت کے شعبے میں ہوا کیونکہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقام ابھی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کئی قدیم ترین تہذیبوں کا مسکن ہے، جس میں انڈس ویلی سویلائزیشن ایک ہے جو 5 ہزار سال پرانی ہے، اس کے علاوہ یہاں 4 مذاہب کے مقدس مقامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے سیاحت دوست ممالک میں سے ایک ہیں اور یہاں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں سیاحت واپس آئی اور اسے 2020 میں دنیا کی بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کیا گیا، لہٰذا ‘ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان سیاحت سے بہت زیادہ ریونیو اکٹھا کرسکتا ہے’۔
اپنی حکومت کے دیگر اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور صنعتوں کو مراعات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عالمی بینک کے کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے والے انڈیکس میں اولین ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان شامل ہوا، تاہم اس میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک سال کے عرصے میں غیرملکی سرمایہ کاری 200 فیصد سے زائد تک پہنچ گئی۔
عمران خان نے واضح کیا کہ ہم دوبارہ کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں تا ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے علاوہ اب ہم امریکیوں کے ساتھ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ بندی کے امکانات موجود ہیں اور یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو وسطی ایشیا میں اقتصادی راہداری کھولنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ عالمی اقتصادی فورم میں وزیراعظم کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف ممالک کے سربراہان موجود ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی سائڈ لائن پر سنگاپور اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دفترخارجہ سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی اور باہمی اعتماد اور حمایت سے بھرے ہوئے ہوئے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے جموں کشمیر کے اسلامی تعاون رابطہ گروپ کے رکن کی حیثیت سے شامل ہونے سمیت آذربائیجان کی قابل قدر شراکت داری کو سراہا، ساتھ ہی عمران خان نے ناگورنو-کراباخ کے معاملے آذربائیجان کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس دوران عمران خان نے آذربائیجان کے صر کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت بھارتی حکومت کی جانب خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے یکطرفہ اقدام کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button