افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا کرنے کا مقصد کیا تھا؟

افغان طالبان کی پیش قدمی کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدہ ہونے والے سفارتی تعلقات تب کشیدہ تر ہو گئے جب افغان صدر اشرف غنی نے اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر کو ان کی بیٹی کے اغوا کے بعد واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔ ایک جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے اغوا کے اس واقعے کو مشکوک قرار دیا ہے تو دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ تحقیقاتی ٹیم ایک ٹشو پیر میں لپٹے پچاس روپے کے نوٹ پر تفتیش کرر ہی ہے جو اغوا کاروں نے افغان سفیر کی بیٹی کے دوپٹے کے ایک کونے پر باندھ دیا تھا اور جس پر یہ تحریر تھا کہ ’اگلی باری تمہاری ہے۔‘ لڑکی نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اغوا کاروں نے ان کے والد کے بارے میں غیر مہذب زبان استعمال کی اور نوت ہر بندھا پیغام انہی کے لئے تھا۔ شاید اسی وجہ سے افغان صدر نے اپنے سفیر کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے انہیں افغانستان واپس بلا لیا ہے۔

افغانستان کی وزارت خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق صدر اشرف غنی کے حکم پر پاکستان میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل سمیت تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ افغان صدر نے سفارتی عملے کو پاکستان سے واپس بلانے کا فیصلہ افغان سفیر کی بیٹی کے اسلام آباد میں مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے کی روشنی میں کیا۔ ادھر بونگی باز وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے افغان سفیر کی بیٹی کے ’اغوا‘ پر شکوک کا اظہار کر دیا ہے۔
جیو کے ایک پروگرام میں شیخ رشید نے کہا : ”ایک لڑکی گھر سے پیدل نکلتی ہے۔ کھڈا مارکیٹ سے ٹیکسی لیتی ہے۔ ہمارے پاس لڑکی خی فوٹیج ہے۔ وہ راولپنڈی جاتی ہے اور راولپنڈی سے دامن کوہ آتی ہے اور دامن کوہ سے تیسری ٹیکسی لیتی ہے۔ ہمارے پاس سارے ٹیکسی ڈرائیوروں کے رابطے ہیں”۔
یاد رہے کہ وزیر داخلہ نے اس سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتا چلا ہے کہ وہ ’راولپنڈی کے ایک شاپنگ مال گئی تھیں‘ اور انھیں وہاں سے اسلام آباد کے سیاحتی مقام دامن کوہ چھوڑا گیا۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرنے کی کوشش کی تاہم ملزمان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اس پر تشدد کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔ اس واقعے پر پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں افغان سفیر کی بیٹی کا کہنا ہے کہ ٹیکسی میں ساتھ بیٹھے ایک شخص نے انھیں مارا پیٹا جس کے بعد وہ خوفزدہ ہو کر بے ہوش ہوگئی تھیں۔ تاہم انھوں نے راولپنڈی یا اسلام آباد میں کسی مقام کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابتدائی طور پر واقعے کو اسلام آباد تک محدود سمجھا جا رہا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو واقعے کی اولین ترجیح کے طور پر تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شیخ رشید نے بتایا ہے کہ نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کی درخواست پر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 365، 354، 506 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں نامعلوم ملزمان پر اغوا، خاتون پر تشدد اور دھمکی آمیز رویے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی کو ’ایک ٹیکسی ڈرائیور نے (اسلام آباد میں) ایف سکس یا سیون سے (جی سیون کی) کھڈا مارکیٹ اتارا ہے۔ یہاں سے انھیں ایک ٹیکسی راولپنڈی لے کر گئی۔۔۔ دامن کوہ یا ایف نائن پارک سے ایک ڈرائیور ان کے رابطے میں تھا، تینوں ڈرائیوروں کے انٹرویو موجود ہیں۔‘
وزیر داخلہ کے مطابق ‘ہماری فوٹیج انھیں (سیکٹر جی سیون کی کھڈا مارکیٹ سے) راولپنڈی جاتے دکھا رہی ہیں۔ انھیں راولپنڈی میں ایک شاپنگ مال کے باہر ٹیکسی نے اتارا اس کی فوٹیج بھی موجود ہے۔ بعد میں (اسلام آباد کے) دامن کوہ میں تیسری ٹیکسی نے اتارا۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمیں اب بس یہ پتا لگانا ہے کہ وہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے پہنچیں۔۔۔ حالانکہ وہ ایف سکس سے گھر جاسکتی تھیں لیکن انھوں نے ایف نائن (پارک) جانے کو اہمیت دی۔ انکا کہنا تھا کہ جیسے جیسے وہ ہم سے تعاون کر رہے ہیں، کیس کی کڑیاں کھل رہی ہیں۔ لیکن ہماری فوٹیج میں ان کا کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی جانا اور وہاں شاپنگ مال پر اترنا، ہماری تحقیقات میں یہ بھی شامل ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے آئیں۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام کے پاس تمام فوٹیج موجود ہیں ‘بس پنڈی سے دامن کوہ جانے کی فوٹیج موجود نہیں ہے۔’

شیخِ رشید کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے پمز ہسپتال سے ان کا میڈیکل کروایا گیا۔ شیخ نے انڈیا پر سفیر کی بیٹی کی تشدد زدہ جعلی تصویروں چلانے کا الزام بی لگایا۔ دوسری جانب افغان سفیر نجیب اللہ کی بیٹی نے پولیس کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے گفٹ لینے گھر سے تنہا پیدل گئیں۔ ایک ٹیکسی والے نے کہا کہ اسے گفٹ کی دکان کا پتا ہے اور مجھے لے جاسکتا ہے۔ میں رضا مند ہوگئی۔‘
’تحفہ خریدنے کے بعد میں واپسی کے لیے ٹیکسی ڈھونڈ رہی تھی۔ اس دوران ایک ٹیکسی میرے سامنے رُکی، میں اس میں بیٹھ گئی۔ قریب پانچ منٹ چلنے کے بعد یہ ٹیکسی رکی اور ایک مزید شخص کو بٹھا لیا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ انکی جانب سے شکایت کرنے پر اس شخص نے ان پر تشدد دیا اور ان کے والد کا ذکر کرتے ہوئے انھیں دھمکیاں دیں۔ ’میں اتنی ڈر گئی تھی کہ میں بے ہوش ہو گئی۔‘ انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی آنکھ جب کھلی تو وہ گندگی کے ڈھیر میں لیٹی ہوئی تھیں مگر وہ سڑک دیکھ سکتی تھیں۔ میرے گھر پر ملازمین تھے اس لیے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کہاں جاؤں۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے ایسی حالت میں دیکھیں۔ تو میں نے ایک ٹیکسی سے کہا کہ مجھے ایف نائن پارک لے جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ایف نائن پارک سے ’میں نے اپنے والد کے ایک ساتھی کو بلایا اور وہ مجھے گھر لے گئے۔‘

افغانستان کے سفیر نجیب اللہ کی جانب سے اس واقعے بارے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ روز میری بیٹی کو اسلام آباد میں اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کی طبیعت اب بہتر ہے۔ اس غیر انسانی حرکت کی دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔‘
افغان سفیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی بیٹی سے منسوب ایک تصویر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی اصل تصویر بھی ٹویٹ کی۔ پولیس کے کہنا ہے کہ یہ واقعہ تھانہ کوہسار کی حدود میں واقع بلیو ایریا میں پیش آیا جہاں پر افغان سفیر کی بیٹی خریداری کے لیے گئی تھی کہ واپسی پر گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد انھیں اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقامی پولیس کو اس واقعے کی اطلاع ایک سویلین خفیہ ادارے کے اہلکار نے دی جسکے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ کی بیٹی اپنے بھائی کے لیے گفٹ خریدنے بلیو ایریا گئی اور واپس گھر جانے کے لیے انھوں نے ایک ٹیکسی کو روکا۔ مقامی پولیس کے مطابق جب وہ گاڑی میں سوار ہونے لگیں تو ایک نامعلوم شخص ان کی گاڑی میں سوار ہو گیا جس پر پولیس کے بقول لڑکی نے اعتراض کیا اور گاڑی سے نکلنے کی کوشش کی تو اسی دوران ایک اور نامعلوم شخص زبردستی ان کی گاڑی میں بیٹھ گیا اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ کروایا اور پھر تشدد کیا جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی کو جب ہوش آیا تو انھوں نے خود کو ایک جنگل میں پایا۔ جب انھوں نے ایک راہگیر سے اس جگہ کے بارے میں دریافت کیا تو ان کو بتایا گیا کہ یہ سیکٹر ایف سیون کا علاقہ ہے۔ پولیس کو ملنے والی اطلاع کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی نے وہاں سے ایک اور ٹیکسی کرائے پر لی اور ایف نائن پارک میں جا کر وہاں سے اپنے ایک جاننے والے جس کا نام حکمت بتایا جاتا ہے، کو فون کیا اور پھر وہاں سے سرکاری گاڑی میں واپس اپنے گھر پہنچ گئیں۔

تقہم افغانستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں افغانستان کے سفیرکی بیٹی کو کئی گھنٹوں تک اغوا کیا گیا اور نامعلوم افراد نے انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اغوا کاروں کی قید سے رہا ہونے کے بعد وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وزارت خارجہ اس گھناؤنے اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور پاکستان میں سفارتی عملے، ان کے اہل خانہ اور افغان سیاسی اور قونصلر مشنز کے عملے کے ممبروں کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘ بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنوں کے مطابق افغان سفارت خانے اور قونصل خانے کی مکمل حفاظت کے ساتھ ساتھ سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری ضروری اقدامات اٹھائے۔ مزید کہا گیا کہ ہم پاکستانی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ جلد از جلد مجرموں کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نعیم اقبال کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس واقعہ کے بارے میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور پولیس حکام اس واقعہ سے متعلق تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کی تحققیاتی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان سفیر کی بیٹی کا بیان تو ریکارڈ کر لیا گیا ہے تاہم ان کے بیان اور جو واقعہ ہوا ہے اس کے کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ اغوا کے بعد جب افغان سفیر کی بیٹی کو ہوش آیا تو وہ اس وقت ایف سیون میں تھیں تو پھر وہاں سے ٹیکسی پولیس کروا کر ایف نائن پارک کیوں گئیں جبکہ ان کی رہائش گاہ سیکٹر ایف سیون میں ہی ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم اس ٹشو پیر میں لپٹے پچاس روپے کے نوٹ پر بھی تفتیش کرر ہی ہے جو افغان سفیر کی بیٹی کے دوپٹے کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور جس پر یہ تحریر تھا کہ ’اگلی باری تمہاری ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس نے افعان سفیر کی بیٹی کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا ہے اور جب بھی یہ موبائل فون آن ہو گا تو اس کی لوکیشن معلوم ہو جائے گی جو کہ ملزمان کی گرفتاری میں معاون ثابت ہو گی۔
پولیس اہلکار کے مطابق بلیو ایریا میں جس جگہ کا وقوعہ بتایا جا رہا ہے وہاں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان کی جانب سے پاکستان پر مسلسل طالبان کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے رہنماؤں میں لفظی جنگ جاری ہے۔ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد سے ملک میں طالبان کے ملک کے بیشتر حصوں پر قبضے کیے جانے کے بعد افغان حکومت پریشانی کا شکار ہے اور ایسے میں افغان رہنماؤں کی جانب سے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم اس افسوسناک واقعے کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ تر ہو گئے ہیں۔

Back to top button