افغان طالبان اب پاکستان کے کہنے میں ہیں بھی یا نہیں؟

https://www.youtube.com/watch?v=mZOGm9wxTIs&feature=youtu.be

افغان طالبان کے ساتھ دوحہ میں بالمشافہ مذاکرات کے بعد امن معاہدہ کر لینے کے باوجود امریکہ اور افغان حکومت دونوں امن معاہدے پر عمل درآمد کروانے کے لیے چاہتے ہیں کہ پاکستان افغان طالبان پر دباؤ ڈالے۔

امریکہ اور افغان طالبان کے مابین دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے باوجود افغان امن عمل جمود کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ جس تیزی سے رواں برس کے اوائل میں اس عمل میں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی تھی اب دکھائی نہیں دیتی اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ ٹرمپ کے جانے اور جوبائیڈن کے آنے سے دوحہ امن معاہدے میں طے پانے والے معاملات پر عمل درآمد کے لئے اور زیادہ زور لگانا پڑے۔ ایسے میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا افغان امن عمل میں کیا کردار ہے اور کیا اب بھی افغان طالبان پاکستانی حکام کی بات کو اتنی ہی اہمیت دیتے جتنی کچھ برس پہلے تک دی جاتی تھی؟ اس سوال کا سادہ سا جواب نہ میں ہے کیونکہ اب افغان طالبان اپنے سابقہ پاکستانی سرپرستوں کی بات ویسے نہیں مانتے جیسا کہ وہ ماضی میں مانا کرتے تھے۔

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور طالبان اور افغانستان پر متعدد کتابوں کے مصنف احمد رشید کے مطابق افغان عوام بھی ابھی تک یہ شک ہے کہ پاکستان طالبان کو چابی دے کر چلا رہا ہے لیکن ’میرے خیال میں یہ ایک غلط فہمی ہے۔‘ 16 دسمبر کے روز وزیرِ اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کے علاوہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہ فون کال ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ملا غنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کا ایک اعلی سطحی وفد اسلام آباد میں موجود تھا۔ اس وفد کی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد یہ بیان آیا ہے کہ افغانستان میں تشدد کم کرنے کے لیے ذمہ داری صرف طالبان پر عائد نہیں کی جا سکتی بلکہ اس میں افغان حکومت کو بھی اتنا ہی کردار ادا کرنا ہو گا۔ تاہم کوئی کچھ بھی کہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ دوحہ امن عمل میں کوئی پیش رفت نہ ہونا سب کی مشترکہ ناکامی ہے اور اس بارے میں پورے خطے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

وقت کے ساتھ افغان طالبان پر پاکستانی حکام کا اثر رسوخ کم ہو جانے کے باوجود امریکہ اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ پاکستان امن عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ شاید افغان طالبان کا تازہ ترین دورہ اسلام آباد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس حوالے سے احمد رشید کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ اب پاکستان کا افغان طالبان پر وہ اثر رسوخ نہیں ہے مگر کچھ نہ کچھ اثر و رسوخ پھر بھی باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو یہ دباؤ ضرور ڈالنا چاہیے کہ افغان شہریوں کو ایک ڈیڈ لائن دیں کہ آپ اور کتنے عرصے تک یہاں رہیں گے لیکن پاکستان اس سے زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ’تین مہینے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ہر خطے کے لوگ اس بارے میں بڑے پریشان ہیں۔ ایک بات پر تقسیم اس لیے ہے کہ طالبان جنگ بندی پر نہیں مان رہے اور افغان حکومت جنگ بندی کی حامی ہے۔

احمد رشید کہتے ہیں کہ کابل میں اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملے اب بھی جاری ہیں اور ان حملوں کے پیچھے طالبان اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ دونوں کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے مذاکرات میں طالبان کے مؤقف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ طالبان کس قسم کی حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ کس قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں۔ طالبان نے کہہ دیا ہے کہ وہ آئین نہیں مانتے، وہ صرف اسلامی نظام مانتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کون سا اسلامی نظام، کہاں سے آئے گا اسلامی نظام؟‘

احمد رشید کا مزید کہنا تھا کہ ’1990 میں جو آپ کا اسلامی نظام تھا وہ افغان شہریوں کو ابھی تک یاد ہے اور لوگ ڈرتے ہیں طالبان سے۔ پورے ملک میں طالبان کی حمایت بہت ہی کم ہے۔ اکثریت میں لوگ یہی چاہ رہے ہیں کہ امن آئے، آئینی حکومت بنے اور جنگ بندی ہو لیکن ہم ہر قدم پر دیکھ رہے ہیں کہ بہت پیچیدہ صورتحال بن گئی ہے۔ احمد رشید نے افغانستان کی پیچیدہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہت سے طالبان گروہ ہیں جو ابھی تک پاکستان میں بسے ہوئے ہیں۔ طالبان نے ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ اگر بات چیت چلتی ہے تو اس معاہدے میں امریکہ کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان جو اب ان گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں، مستقبل میں نہیں دیں گے۔

احمد رشید نے ان گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’وسطی ایشیا کے گروہ ہیں، چین کے عسکریت پسند گروہ ہیں، پاکستان کے درجنوں گروہ ہیں وہاں، القاعدہ ہے وہاں۔ لہذا افغاستان ابھی ان گروہوں کا ایک اڈہ بنا ہوا ہے اور طالبان کو اس معاملے کو حل کرنا ہو گا، جو انھوں نے ابھی تک نہیں کیا۔‘ انھوں نے القاعدہ اور طالبان کے درمیان معاملات کے حوالے سے کہا کہ القاعدہ کو جو تحفظ طالبان نے 25 برس دیا ہے وہ ایک منٹ میں ختم نہیں کر سکیں گے۔ ’ظاہر ہے کہ القاعدہ جو افغانستان میں بس رہا ہے ان کے لوگوں کو بھی تو طالبان سے تحفظ مل رہا ہو گا اور القاعدہ یقیناً طالبان کی کچھ مدد بھی کرتا ہو گا، جنگ میں، لڑائی میں اور ٹریننگ میں۔‘ لہذا ان حالات میں افغان امن معاہدے پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

ذیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے اب تک ہمارے سروں پر جنگ مسلط کرنے والے مستقل پرچار کرتے رہے کہ ہم نے بڑی محنت سے یہ جنگ تیار کر دی ہے لہٰذا اب آپ اسے سنبھالیں، سینچیں اور پھر امن امن کھیلیں۔ اس پرائی جنگ میں پاکستانی عوام بارود کی طرح استعمال ہوئے۔ ہمارے جوان شکید ہوئے، ہمارے بچے معذور اور ہماری عورتیں در بدر ہوئیں۔ پھر ’ون فائن مارننگ‘ عظیم امریکی طاقت نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی فوجیں اب یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ انہوں نے ایسا فیصلہ یہ سوچے سمجھے بنا کیا کہ افغان قوم کا کیا ہو گا۔

سچ تو یہ ہے کہ امریکی سی آئی اے نے پہلے تو سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو تخلیق کیا، پھر پاکستان کو بھی استعمال کیا، اور بعد میں اسامہ کا ساتھ دینے پر اُنھی مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ اب وہی امریکہ اُنھی طالبان دہشت گردوں کے خلاف 20 برس جنگ لڑنے کے بعد انکو امن کا سفیر قرار دے کر امن معاہدے بھی کر رہا ہے۔ ان حالات میں نہ جانے آگے افغان سیکوئل میں ان کا کردار کیا ہو گا۔ مگر تب تک کے لیے اتنا بی ہے کہ ’افغان طالبان تو اچھے ہوتے ہیں!‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button