افغان طالبان کا TTP کے خلاف کارروائی سے یوٹرن

افغان طالبان نے ٹی ٹی پی اور داعش کی پاکستان مخالف کارروائیوں کے سد باب اور حکومت پاکستان کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایک کمیشن کے قیام کی تجویز سے یوٹرن لے لیا ہے اور کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ، القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں سے ملکی قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
واضح رہے کہ پہلے یہ اطلاع آئی تھیں کہ طالبان نے شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا ہے جو افغانستان میں ان کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گا۔ وزیرداخلہ شیخ رشید نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے سے روک دیا ہے۔ لیکن نئی افغان انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹی ٹی پی بارے پاکستان کے خدشات دور کرنے کے لیے ایک کمیشن کے قیام بارے اطلاعات غلط ہیں۔ہمارے ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے ذریعے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ہم کسی کو بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔‘ جب طالبان ترجمان سے سوال کیا گیا کہ جیلوں سے رہائی پانے والے ٹی ٹی پی کارکنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو ا نہوں نے اپنا موقف دہرایا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف کوئی حرکت کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی سے تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش سمیت شدت پسند تنظیموں کےدوبارہ منظم ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید دہشت گردوں سمیت تمام قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کے سربراہ مولوی فقیر محمد بھی شامل ہیں۔جیل سے رہائی کے بعد ٹی ٹی پی کے اہلکاروں نے مولوی فقیر کا والہانہ استقبال کیا اور انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے تمام طالبان کو متحد رہنے پر زور دیا۔مولوی فقیر سمیت ٹی ٹی پی کے دیگر عسکریت پسندوں کی رہائی پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹی ٹی پی کے افغان طالبان کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں اور افغانستان میں طالبان کے قبضے سے ان کے نظریات کو تقویت مل سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں ہونے والے متعدد بڑے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ ایسے میں افغان جیلوں میں قید شدت پسندوں کی رہائی پر پاکستان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان کو کہا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان کی سابق حکومت کے سامنے بھی ٹی ٹی پی کے افغان سرزمین استعمال کرنے کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔ اس دوران یہ اطلاعات آئی تھیں کہ افغان طالبان نے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے پرآمادہ کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے تاہم اب ذبیح اللہ مجاہد نے اس اس اطلاع کی تردید کردی ہے۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے متحرک جنگجوؤں کی تعداد چھ ہزار کے قریب ہے جب کہ کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد جیلوں سے تحریک طالبان کے 780 جنگجوؤں کو رہائی ملی ہے۔
چنانچہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں سرِ فہرست ٹی ٹی پی ہے۔ اسکے علاوہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔
