اپنی تصاویر بارےقاسم علی شاہ نے چپ توڑ دی

معروف موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے سوشل میڈیا پر اپنی ‘تصاویر’ لیک ہونے کے بعد خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصاویر کسی نے ان کے فون سے لیک کیں اور انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں شکایت بھی درج کرادی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر اسی حد تک ہیں اور اس سے زیادہ کچھ موجود نہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں قاسم علی شاہ کی چند ذاتی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جس کے بعد سے ان کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جارہے تھے کہ آئندہ چند روز میں مزید تصاویر بھی سامنے آئیں گی۔
تصاویر وائرل ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا ‘ٹوئٹر’ پر قاسم علی شاہ کے نام کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے منقسم رائے کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے قاسم علی شاہ کی تصاویر پر میمز بناتے ہوئے مختلف مزاحیہ تبصرے کیے جارہے ہیں تو دیگر ان کی حمایت کررہے ہیں۔ بعد ازان قاسم علی شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر میری ذاتی اور گھر کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں، ان کے ساتھ ایسے شاندار تبصرے پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ میں اور میرے اہلخانہ ہنس رہے ہیں کہ کیا کمال قسم کی منفی سوچ اور اینگلنگ بنا کر انتظار کرایا جارہا ہے کہ اس کے بعد بھی کچھ تصاویر اور ویڈیوز آنی ہیں۔
قاسم علی شاہ نے کہا کہ ‘میرا یا میرے گھر والوں کا فون جن پر پاسورڈز بھی نہیں لگے ہوتے، ٹھیک ہونے کے لیے جاتا ہے، اس میں کوئی مسئلہ آتا ہے، فون تبدیل کرتے ہیں، یا ڈیٹا ٹرانسفر ہوتا ہے تو یہ یقیناً کہیں نہ کہیں سے چوری ہوئی ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے گھر کی تصاویر ہیں اور 3 سے 4 سال پرانی ہیں، اس دوران انہوں نے گھر کی مزید تصاویر بھی دکھائیں۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے قاسم علی شاہ نے کہا کہ ‘ان تصاویر میں کوئی لڑکی موجود نہیں، مجھے ان میں کوئی قابلِ اعتراض بات بتا دیں، شرعی طور پر میں جو کپڑے پہن سکتا ہوں وہ میں نے پہنے ہیں’۔ قاسم شاہ کا کہنا تھا کہ ‘گھر میں تو میں دھوتی اور بنیان بھی پہن لیتا ہوں، بنیان اتار بھی دیتا ہوں لیکن ان تصاویر کے جو اینگلز اور معنی بنائے جارہے ہیں اس پر میں اس کے علاوہ کیا کہوں کہ اللہ آپ سب کا بھلا کرے’۔انہوں نے کہا کہ ‘لوگوں کو انتظار کرایا جارہا ہے کہ میری مزید تصاویر اور ویڈیوز بھی آنی ہیں۔ ا ہوں نے کہا کہ مزید تصاویر بھی آسکتی ہیں جو کہ لیک ہوئی ہوں گی اور وہ میرے اہلخانہ کی تصاویر ہوسکتی ہیں، اہلیہ کے ساتھ، کھانا کھاتے ہوئے، بچوں کے ساتھ ہو سکتی ہیں لیکن اسکے علاوہ جن تصاویر اور ویڈیوز کا انتظار ہے وہ نہیں آنی’۔
قاسم علی شاہ نے کہا کہ ‘میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جس انداز سے یہ تصاویر لیک ہوئیں تو میں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں شکایت کردی ہے، آئندہ چند روز میں پتا چل جائے گا کہ یہ شرارت اور مہربانی کس نے کی’۔انہوں نے اپنی ویڈیو میں ایف آئی اے کو ارسال کی گئی درخواست کی تصویر بھی شیئر کی۔
قاسم علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی عزتوں کا محافظ ہو، اگر آپ مشہور ہیں اور لوگ آپ کو جانتے ہیں تو آپ کو اپنے بیانیے یا اپنے خلاف ایک جنگ لڑنی پڑتی ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ان تصاویر میں کوئی محترمہ ہوں تو آپ مجھ پر اعتراض کرسکتے ہیں، میں بچوں کے ساتھ سوئمنگ کرتا ہوں اس دوران بھی تصاویر بنی ہوں گی، فیملی کے ساتھ بچوں کے ساتھ ہوسکتی ہیں تو مجھے اتنی سی گنجائش دیں’۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس مئی میں قاسم علی شاہ کی ایک ویڈیو کا 36 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ گردش کررہا تھا جس میں قاسم علی شاہ نے ایک اچھی بیوی اور ماں سے متعلق بات کی تھی۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قاسم علی شاہ پر کئی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔
