افغان طالبان کو جیت کے بعد داعش کے چیلنج کا سامنا


امریکہ اور اسکی اتحادی افواج 20 برس پہلے اس مشن کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوئیں تھیں کہ انہوں نے القاعدہ اور طالبان جیسی دہشتگرد تنظیموں کا خاتمہ کرنا ہے۔ تاہم اب جبکہ دو دہائیاں طویل جنگ کے بعد امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان سے نکل رہے ہیں تو تو وہاں دوبارہ قابض ہونے والے طالبان کے لیے دنیا کی خطرناک ترین دہشت گرد تنظیم داعش خراسان ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ گئی ہے۔
داعش خراسان نے 26 اگست کو کابل کے کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے باہر خودکش بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں معصوم بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ مغربی ممالک کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پھر بھی اس کے حملہ آور کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے قریب واقع بیرن ہوٹل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موقع پر جب کہ طالبان کا دعوی ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی اب بھی موجود ہے اور یہ طالبان کے دور حکومت میں بھی جاری رہے گی، جہاں افغان شہریوں کی زندگیاں خطرے میں رہیں گی۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ پہلے افغان عوام طالبان کے ہاتھوں مارے جارہے تھے اور اب داعش کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔
خیال رہے کہ کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے کابل پر قبضے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے جیل میں قید اپنے امیر ابو عمر خراسانی کو قتل کرنے کا بدلہ لیا ہے۔ 2015 میں داعش کی جانب سے جنوبی ایشیا، جسے وہ صوبہ خراسان کہتے ہیں، کے لیے باضابطہ طور پر اپنی اس مقامی شاخ کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گروپ افغانستان میں شیعہ مساجد اور ان کے اداروں پر بمباری سمیت ملک میں ہونے والے بدترین حملوں کی ذمہ دار ہے، ان حملوں سے پہلے ہی جنگ کے شکار ملک میں فرقہ وارانہ خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔اس گروپ نے پاکستان کے اندر بھی حملہ کیے جہاں سرکاری فورسز کے ساتھ ساتھ ملک کی صوفی اقلیت کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ داعش کا مرکزی ٹھکانہ افغانستان کا صوبہ ننگرہار ہے جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہے۔
ویسے تو طالبان 20 برس تک افغان افواج اور انکے امریکی سرپرستوں کے خلاف بر سر پیکار رہے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر کبھی کبھار تو امریکہ اور طالبان جیسے جنگی حریف بھی صوبہ ننگرہار میں اپنے اختلافات بھلا کر توپوں کا رخ اپنے مشترکہ دشمن یعنی یا داعش کی طرف موڑ دیتے تھے۔ ننگرہار اب بھی داعش کا مظبوط ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے جہاں عالمی دہشت گرد تنظیم نے دنیا بھر سے جنگجو جمع کرکے انہیں پاکستان افغان سرحد سے متصل پہاڑی علاقے میں چھپا رکھا ہے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں 2019 میں ایسٹر کے موقع پر چرچ بم دھماکوں میں ڈھائی سو افراد کو ہلاک کرنے والی داعش کی خراسان شاخ اس گروپ کے کم از کم ایک درجن یا اس سے زیادہ عسکریت پسند دھڑوں میں سے ایک ہے جو داعش کی چھتری کے نچے سرحدوں کے پار ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں داعش کے حملوں کی نوعیت اور وقت میں پائی جانے والی مماثلتیں نشاندہی کرتی ہیں کہ پاک افغان خطے میں داعش کی اس شاخ کی سرگرمیاں کافی حد مربوط ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ داعش کی خراسان شاخ کے پاس پانچ ہزار کے لگ بھگ جنگجو ہیں، جن میں سے نصف کا تعلق جنوبی ایشیا سے باہر سے ہے جو ’پرتشدد جہاد‘ کی طرف راغب ہو کر اس خطے میں چلے آئے۔ ابو عمر خراسانی کی ہلاکت سے پہلے گرفتاری کے وقت سے ہی اس گروپ کی قیادت ایک سابق طالبان کمانڈر شہاب المہاجر کر رہے ہیں جو طالبان کے القاعدہ سے منسلک حقانی نیٹ ورک کے سابق رکن ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد اب حقانی نیٹ ورک نے کابل شہر کی سکیورٹی سنبھال رکھی ہے۔
دراصل داعش القاعدہ کی ایک شاخ کے طور پر تشکیل پائی تھی جو بالآخر عراق اور شام میں اتنی منہ زور ہو گئی کہ اس نے اپنے پیش رو گروپ کو زیر کرلیا اور لیونت خطے میں پھیلی ہوئی وسیع پٹی پر ایک خود ساختہ خلافت کا اعلان کر دیا۔ لیکن جنوبی ایشیا، جہاں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مجموعی مسلم آبادی سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، ہمیشہ اس گروپ کی نگاہوں میں رہا۔ خلافت کی بنیاد رکھنے والے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی افغانستان، پاکستان اور بھارت پر مشتمل علاقے، جسے وہ خراسان صوبہ مانتے ہیں، کو اپنے گروپ کے عزائم کے لیے اہم تصور کرتے تھے۔
بغدادی کے الفاظ اور خلافت کی ابتدائی کامیابیوں نے دنیا بھر میں جنوبی ایشیا کی شاخ سمیت کئی تحریکوں کو متاثر کیا اور اس گروپ سے وابستہ شاخوں نے عراق اور شام میں داعش کی مرکزی قیادت کے پہنچنے والے نقصانات کے باوجود خود کو بہت مؤثر ثابت کیا ہے۔ سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق داعش ایک ایسا گروہ ہے جس کی شمالی افریقہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک شاخیں موجود ہیں لیکن اس کی افغانستان میں شاخ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ اپنی تشکیل کے وقت سے ہی داعش کی جنوبی ایشیا میں خراسان شاخ مضبوط تر ہو رہی ہے کیونکہ مسلسل امریکی فضائی حملوں اور افغان فورسز کے ساتھ ساتھ طالبان کے حملوں کے باوجود اس کی ہلاکت خیز حملوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ جب دنیا بھر کے جہادی گروپوں نے کابل میں طالبان کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا اور امریکی اتحادی افواج کو شکست دینے پر ان کی ستائش کی تو داعش نے افغانستان کے نئے آقاؤں کی مذمت کی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کابل پر قابض ہونے کے فوری بعد 15 اگست کو افغان طالبان نے داعش کے مرکزی امیر ابو عمر خراسانی کو جیل سے نکال کر قتل کر دیا تھا جس کے رد عمل میں اب کابل میں خودکش بم دھماکے کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملے افغانستان کے مستقبل کے لیے اسی طرح خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جیسے کہ 2003 میں بغداد میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے ہوئے تھے اور عراق کا مستقبل تاریک کر گئے تھے۔

Back to top button