افغان عوام اور حکومت پاکستان میں دہشتگردوں کے حامی کیوں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ افغانوں کی اکثریت پاکستان کو اپنا محسن نہیں سمجھتی ۔ ایک طویل جنگ کے ذریعے ”غلامی کی زنجیریں“ توڑ کر ا مریکہ کو ”افغانستان سے بھگانے“ والے طالبان ہمیں کمزور ایمان والے تصور کرتے ہیں۔نظریاتی اعتبار سے وہ ہمارے سیاسی نظام کو ”اسلامی“ شمار نہیں کرتے۔اسی باعث ہمارے ہاں کے مذہبی انتہا پسندوں کے بارے میں ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہ انتہا پسند افغانستان سے امریکہ کے انخلاءکے بعد پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہوگئے۔
اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ افغان عوام کی اکثریت پاکستان کو اپنا ”محسن“ شمار نہیں کرتی۔ بلکہ ان کی بے پناہ تعداد یہ سوچتی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو خوش رکھنے کی خاطر 1980ءکی دہائی میں ”جہاد“ کی سرپرستی کی اور بعدازاں جنرل مشرف کے دور میں نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کا کلیدی اتحادی بن کر بے تحاشہ ڈالر کمائے۔ عمران حکومت اور اس کے ساتھ ”سیم پیج“ پربیٹھے ”ماہرین قومی سلامتی“ کی یہ خام خیالی تھی کہ امریکہ کے خلاف جنگ کے اختتام کے بعد پاکستان سے افغانستان منتقل ہوئے انتہا پسندوں کو اگر وطن لوٹ کر عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کردئے جائیں تو ہمارے ہاں امن وامان یقینی بن جائے گا۔ انہیں پاکستان لوٹنے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ حقیقت احمقانہ انداز میں فراموش کردی گئی کہ مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر متشدد ہوئے عناصر معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ ”جہاد“ ان کا طرز زندگی بن جاتا ہے۔اس کے بغیر وہ زندگی بسر کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
نصرت جاوید کے مطابق سوچے سمجھے بغیر اپنائی پالیسی کی بدولت پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ہولناک حد تک اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ طالبان حکومت ان واقعات کا ذمہ دار داعش جیسی تنظیموں کو ٹھہراتی ہے جو ان کے اقتدار کو بھی تسلیم نہیں کرتیں۔طالبان کے ”انصار“ رہے پاکستانی طالبان بھی تاہم کئی واقعات میں واضح انداز میں ملوث رہے ہیں۔ طالبان سے ان کا ذکر کرو تو وہ ایسے عناصر کے ساتھ ”مذاکرات“ کا مشورہ دیتے ہیں۔مگر اپنے ہاں پناہ گزین ہوئے پاکستانی طالبان کے خلاف ازخود کارروائی کرنے کو آمادہ نہیں۔ایسے حالات میں جب دہشت گردی کی تقریباََ ہر دوسری واردات کے پیچھے نہ صرف افغانستان میں ”پناہ گزین“ طالبان بلکہ افغان شہری بھی ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ملوث پائے گئے تو حکومت نے فیصلہ کیا کہ افغان شہریوں کی پاکستان آمدورفت کا نظام مزید منظم اور باقاعدہ بنایا جا ئے۔ طورخم اور چمن جیسے شہروں میں امیگریشن کے نظام کو اب جدید تر بنادیا گیا ہے۔افغان شہریوں کی ا کثریت اس سے ہرگز خوش نہیں۔پاکستان میں امن وامان یقینی بنانے کے لئے مگر پا کستان کی یہ مجبوری ہے کہ پاک-افغان سرحد پر کڑی نگاہ رکھے اور وہا ں سے پاکستان آنے والوں کی تفصیلات سے مکمل طورپر آگاہ رہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تقریباََ ایک ماہ قبل ریاست پاکستان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ ہمارے ہاں غیر قانونی طورپر مقیم ہر غیر ملکی کو 31اکتوبر تک پاکستان چھوڑنا ہوگا۔ بدقسمتی سے اس اجلاس کے فیصلے جس انداز میں رپورٹ ہوئے اس سے یہ تاثر ابھرا کہ ہمارے ہاں مقیم ”ہر افغان“ کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔مذکورہ تاثر کے سنگین عواقب کو ہمارے ”ذہن سازوں“ نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہ بات سمجھانے میں بہت دیر لگائی کہ اقوام متحدہ کی جانب سے باقاعدہ طورپر ”مہاجر“ تسلیم کئے لاکھوں افغان پاکستان ہی میں رہیں گے۔ 6سے 7 لاکھ کے درمیان فقط ان افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنا ہوگا جو کسی بھی شناختی دستاویز کے بغیر پاکستان در آئے ہیں اور غیر ملکیوں کے کسی بھی ریکارڈ پر موجود نہیں۔ یہ حقیقت مگر تفصیل کے ساتھ دنیا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام تک بھی نہیں پہنچ پائی ہے۔عام پاکستانیوں کی اکثریت بھی یہ تصور کئے بیٹھی ہے کہ 31اکتوبر تک ہمارے ہاں مقیم ”ہر افغان“ کو جبراََ بیدخل کردیا جائے گا۔
اپنے ہی عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے والی حکومت کی وجہ سے افغان عوام کی اکثریت اور عالمی میڈیا کے بے تحاشہ قاری اور ناظرین یہ سوچنے کو لہٰذا مجبور ہیں کہ کئی دہائیوں سے افغانستان کا ”ماما“ بنا پاکستان اب وقت گزرجانے کے بعد اپنے ہاں مقیم افغان مہاجرین کو ”بوجھ“ شمار کرنا شروع ہوگیا ہے اور انہیں سفاکانہ انداز میں افغانستان لوٹنے کو مجبور کررہا ہے۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے کئی شہروں میں مقامی انتظامیہ اور پولیس بھی رشوت کی طلب میں باقاعدہ دستاویز کے ساتھ وہاں مقیم افغان شہریوں کے ساتھ دھونس اور زیادتی کے واقعات میں ملوث ہونا شروع ہوگئی ہے۔ خدشہ ہے کہ ایسے واقعات بے بنیاد افواہوں کی صورت بڑھاچڑھاکر ا فغانستان تک پہنچے تو طالبان اور پاکستان کے مابین بدگمانیوں میں مزید اضافہ ہوگا جو ایسی تلخیوں کا موجب بھی ہوں گی جن کا ازالہ شاید کسی کے بھی بس میں نہ رہے۔
