ورلڈکپ میں پاکستان کی پے در پے شکستوں کی آخر وجہ کیا ہے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ورلڈکپ میں مایوس کن آغاز سے شائقین نہ صرف ناراض ہیں بلکہ ایسی پرفارمنس کی وجوہات جاننے کیلئے بے چین ہیں، کہ نمبر ون ٹیم ہونے کے باوجود سیمی فائنل تک رسائی مشکل کیوں ہو گئی ہے۔ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف میچ میں 8 وکٹوں سے شکست کے بعد پاکستان کی ایونٹ کے سیمی فائنل تک رسائی پر ایک بار پھر گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی دونوں میچوں میں کامیابی کے بعد قومی ٹیم کو لگاتار تین شکستوں کا منہ دیکھنا پڑا جس کے بعد گرین شرٹس ایونٹ میں مشکلات سے دوچار ہیں۔شاہین شاہ آفریدی نے بھارت کے خلاف 5 میچوں میں 10 وکٹیں لے رکھی ہیں لیکن وہ بھارت کے خلاف ورلڈ کپ میچ میں ابتدائی طور کوئی تاثر چھورنے میں ناکام رہے، بائیں ہاتھ کے باؤلر نے بھارت کے خلاف 36 رنز کے عوض دو اور آسٹریلیا کے خلاف 54 رنز کے بدلے 5 وکٹیں لیں لیکن دونوں ہی میچوں میں وہ پاکستانی ٹیم کو بڑی شکست سے بچانے میں ناکام رہے۔دوسری جانب حارث رؤف کا مسئلہ بھی انتہائی گمبھیر ہے جو اب تک عالمی کپ کے 5 میچوں میں 286 رنز دے چکے ہیں جبکہ بھارت کی اسپنرز کے لیے سازگار وکٹوں پر پاکستان کے اسپنرز بھی اب تک مکمل طور پر ناکام اور غیرمؤثر رہے ہیں۔بابر اعظم محدود اوورز کی کرکٹ میں دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں اور ورلڈ کپ میں بھی دو نصف سنچریاں بنا چکے ہیں لیکن ان کی کپتانی کے حوالے سے سنگین تحفظات پائے جاتے ہیں، بابر نے پیر کو افغانستان کے خلاف میچ میں شکست کے بعد کہا کہ جہاں تک قیادت کا تعلق ہے کہ تو مجھ پر یا میری بیٹنگ پر کوئی خاص دباؤ نہیں ہے، میں بیٹنگ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی بے پناہ تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں جہاں ایک سال کے دوران تین چیئرمین آ چکے ہیں جس سے کسی حد تک ورلڈ کپ کی تیاریوں کو دھچکا لگا، پاکستانی حکام پر کھلاڑیوں کی فٹنس پر توجہ دینے اور فاسٹ باؤلرز نسیم شاہ اور شاہین کی تینوں فارمیٹ میں ورک لوڈ مینجمنٹ نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا، قومی ٹیم کے سابق عظیم فاسٹ باؤلر اور کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ آپ ایک کوچ تک نہ ڈھونڈ سکے اور کیونکہ آپ کو غیرملکی کوچز پسند تھے اس لیے آپ نے آن لائن کوچ بھرتی کر لیا، ہم نے نظام میں تبدیلیاں کیں اور یہی چیز ورلڈ کپ میں ہماری کارکردگی کی عکاس ہے۔
