کیا قومی ائیر لائنز کا فضائی آپریشن پکا بند ہونے والا ہے؟

پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے ایندھن کی فراہمی سے انکار پر پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کا فضائی آپریشن معطل ہو کر رہ گیا ہے، ایک ہفتے کے دوران درجنوں پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے، صرف اتوار کے روز 77 پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے درمیان واجبات کی ادائیگی کا تنازع اتوار کے روز مزید سنگین صورت اختیار کر گیا، پی ایس او نے پی آئی اے کو ایندھن کی سپلائی میں کٹوتی کردی جس کی وجہ سے 77طیاروں کی پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو 750 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، واجبات کی عدم ادائیگی میں مسلسل تاخیر کے سبب پی آئی اے کو ایندھن کی سپلائی کم کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے، سات روز سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع تھا جب دونوں ریاستی ادارے ایک دوسرے کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں، پی آئی اے ترجمان کے مطابق اتوار کے روز 52 بین الاقوامی اور 29 ڈومیسٹک سمیت کل 81 پروازیں شیڈول تھیں لیکن چار بین الاقوامی پروازوں کو چھوڑ کر تمام دیگر منسوخ کر دی گئیں۔اعلیٰ انتظامیہ پی ایس او سے ایندھن کی سپلائی بحال کرنے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اتنے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو پریشانی اور مایوسی کا سامنا ہے، مسافر اس لیے بھی پریشان ہوتے رہے کہ پی آئی اے یہ بتانے سے قاصر تھی کہ ان کی متبادل پروازیں کب ہوں گی۔پی آئی اے رجمان نے بتایا کہ آج پیر کو 61 پروازیں شیڈول ہیں، ان میں سے 42 فلائٹس بین الاقوامی روٹس پر جبکہ 19 ڈومیسٹک روٹس پر پرواز کریں گی، ایندھن کی ادائیگی کے لیے کریڈٹ لائن دستیاب ہوتے ہی آج پیر کی شام کو طے شدہ پروازیں بھی فعال ہو جائیں گی۔پی آئی اے کا یہ بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب نگران حکومت خسارے کا شکار ہے اور اس ادارے کے بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے، گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن کے اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے واضح ٹائم لائن پر اتفاق کیا گیا تھا۔پی آئی اے کے ملازمین کے مطابق اس قومی ایئرلائن کی "اتنی زیادہ بُری حالت کبھی نہیں رہی، پی آئی کے سینیئر اسٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری صفدر انجم نے الزام لگایا کہ قومی ایئر لائن کو” ایک منصوبہ بند سازش” کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔

Back to top button