حکومت نے عوام پر گیس بم گرا دیا، قیمتوں میں 3گنا اضافہ

موسم سرما کی آمد پر گیس کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گیس کی قیمتوں میں 194 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ صارفین ماہانہ فکسڈ چارجز کی مد میں 3900 فیصد کا غیر معمولی اضافہ بھی دیکھیں گے، نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے ای سی سی کا اجلاس طلب کیا، جہاں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تمام شعبوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔گیس کی قیمتوں میں نظرثانی یکم جولائی 2022 سے ہونی تھی، تاہم مسلم لیگ (ن) کی زیر سربراہی اتحادی حکومت نے اس فیصلے کو مؤخر کر کے اس حساس معاملے کو نگران حکومت کے لیے چھوڑ دیا تھا، ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل پہلے ہی جولائی تا ستمبر کے دوران 46 ارب روپے کا خسارہ رپورٹ کر چکی ہیں۔پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے بھی ماہانہ فکسڈ چارجز 10 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کر دیے گئے ہیں، دیگر گھریلو صارفین کے لیے دو مختلف سلیبز بنائے گئے ہیں، پہلی کیٹیگری میں 1.5 ایچ ایم 3 تک گیس استعمال کرنے والوں کے لیے فکسڈ چارجز 460 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کر دیے گئے ہیں، دوسری کیٹیگری میں 1.5 ایچ ایم 3 سے زائد استعمال کرنے والے صارفین کے چارجز 460 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دیئے گئے ہیں جس سے ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر ہر سال 5 سے 7 فیصد کم ہو رہے ہیں۔پروٹیکٹڈ صارفین جو گھریلو صارفین کا 57 فیصد بنتے ہیں، ان کے لیے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم ان کے ماہانہ فکسڈ چارجز نمایاں طور پر بڑھائے گئے ہیں، جو موجودہ 10 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کیٹیگری کے لیے سالانہ بل میں 150 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔کمرشل صارفین کے لیے 136 فیصد کے نمایاں اضافے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد اس کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 3 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے، سیمنٹ فیکٹریوں اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے 193 فیصد اور 144 فیصد سے زیادہ اضافے کی توقع ہے، جس کے بعد ان کے لیے ٹیرف 4 ہزار 400 روپے ہو جائے گا۔دعویٰ یہ کیا جارہا ہے کہ صارفین سے حاصل ہونے والی اضافی 350 ارب روپے سے گیس کمپنیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں مدد ملے گی، حکومت کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین سے 350 ارب روپے کی اضافی وصولی ہوگی اور اس سے گیس کمپنیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں مدد ملے گی۔گیس زیادہ استعمال کرنے والوں کے لیے ایک چوتھائی اضافہ کر کے ٹیرف ایک ہزار 600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 2 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، کمرشل صارفین کے لیے 136 فیصد کا نمایاں اضافے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد اس کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 3 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے، سیمنٹ فیکٹریوں اور سی این جی اسٹیشنوں کے لیے 193 فیصد اور 144 فیصد سے زیادہ اضافے کی توقع ہے، جس کے بعد ان کے لیے ٹیرف 4 ہزار 400 روپے ہو جائے گا۔
