الیکشن کمیشن پر الزامات،فواد اور سواتی کو نوٹس جاری

وفاقی وزراء فواد چودھری اور اعظم سواتی پر نااہلی کی تلوارلٹکنے لگی، الیکشن کمیشن پر الزامات کے بعد وفاقی وزراء فواد چودھری اور اعظم سواتی کو نوٹس جاری کر دیئے۔
الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد دونوں وفاقی وزراء سے الزامات پر ثبوت مانگ لیا ہے۔ فواد چودھری اور اعظم سواتی کے پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات نوٹس کا حصہ ہیں۔ دونوں وزراء سے 14 روز میں تحریری جواب مانگا گیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی کارروائی کا بھی نوٹس میں حوالہ دیا گیا ہے۔
وفاقی وزرا کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر الیکشن کمیشن میں اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفراقبال ملک نے کی۔ذرائع کے مطابق پیمرا نے الیکشن کمیشن کو وفاقی وزرا کے الزامات والے کلپس بھجوائے جن کا اجلاس میں تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کا کہناہےکہ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس جاری کردیے جس میں ان سے ادارے پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت مانگے ہیں اور جواب طلب کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد فواد چودھری نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس آیا تو تفصیلی جواب دیں گے۔ٹویٹر پر د عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا احترام اپنی جگہ لیکن شخصیات کے سیاسی کردار پر بات کرنا پسند نہیں تو اپنا کنڈکٹ غیر سیاسی رکھیں۔ ادارے کی طرف سے نوٹس آیا تو تفصیلی جواب دیں گے، بحیثئت ادارہ الیکشن کمیشن کی حیثئت مسلمہ ہے لیکن شخصیات غلطیوں سے مبرا نہیں اور تنقید شخصیات کے کنڈکٹ پر ہوتی ہے ادارے پر نہیں۔
واضح رہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر یلغار کردی تھی اور الزام عائد کیا کہ تھا الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 10 ستمبر کو وزیرِ ریلوے اعظم سواتی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر برس پڑے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے کا باعث ہے، آپ جہنم میں جائیں، ایسے اداروں کو آگ لگا دیں۔بعد ازاں وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کو سیاست کرنی ہے تو استعفیٰ دے کر عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں، چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے ماؤتھ پیس بن گئے ہیں ، وہ نواز شریف سے قریبی رابطے میں رہے ہیں۔الیکشن کمیشن حکام نے وفاقی وزراء کے الزامات پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، اس پر الزامات بے بنیاد اور ناقابل قبول ہیں۔
واضح رہے کہ 10 ستمبر کو مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ شاہدخاقان عباسی اینڈ کمپنی سارے معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے الیکشن کمیشن اس وقت اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹربن گیا ہے۔ الیکشن کوشفاف بنانے کے لیے ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کی منطق عجیب وغریب ہے۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن کا رویہ،پارلیمان کے استحقاق کوٹھکرانے کے مترادف ہے، بدقسمتی سے اپوزیشن کے بونوں کی سوچ اپنے کیسزمیں تاریخ لینے تک محدود ہے، اگرپارلیمنٹ مضبوط ہوگی توملکی سیاست بہترہوگی۔ 2018کے الیکشن میں عوام نے عمران خان پراعتماد کا اظہارکیا، تحریک انصاف کے منشورمیں الیکشن کوشفاف بنانے کا وعدہ تھا، عمران خان کی واحد حکومت ہے جس نے شفاف الیکشن کے لیے تجاویز پیش کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون الیکشن کمیشن نہیں، قانون بنانے کا اختیارپارلیمان کے پاس ہے، چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے ماؤتھ پیس کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نواز شریف سے قریبی رابطے میں رہے ہیں، ان کی نوازشریف سے ذاتی ہمدردی بھی ہوسکتی ہے۔ اگرہمیں چیف الیکشن کمشنرپراعتماد نہیں تووہ الیکشن کیسے کرائیں گے، چیف الیکشن کمشنرچھوٹی، چھوٹی جماعتوں کے آلہ کارنہ بنیں، ای وی ایم پراحمقانہ ابجکشن اورسیاست کی، اگراس طرح سیاست کریں گے توپھررسپانس آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کے الیکشن کے طریقہ کارکا جائزہ لیا گیا، ہم نے اپوزیشن کو الیکشن اصلاحات پر دعوت دی، جہاں اپوزیشن ہار جاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگاتی ہے۔ عدالت نے کہا الیکشن کمیشن پر لوگوں کواعتماد نہیں ہے، پوری دنیا کے الیکشن کے طریقہ کارکا جائزہ لیا گیا، ہم نے اپوزیشن کوالیکشن اصلاحات پردعوت دی، جہاں اپوزیشن ہارجاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013کے انتخاب کے بعد عمران نے پہلی تقریرمیں کہا چارحلقوں کوکھولیں، عمران خان کی تقریرپرکوئی دھیان نہیں دیا گیا تھا، عمران خان نے بہت بڑی تحریک کا آغازکیا تھا، جسٹس ناصرالملک صاحب نے تمام جماعتوں کوسن کرریمارکس دیئے پاکستان میں منصفانہ انتخابات کا طریقہ کارسوفیصد موجود نہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر قومی اسمبلی میں 8 ماہ میں بل منظور کیا گیا مگر اپوزیشن کی جانب سے انتخابی اصلاحات پر ایک بھی تجویز سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ریفارم کی دشمن ہے، 90 دن میں قومی اسمبلی سے پاس بل سینیٹ سے منظور ہونا ہوتا ہے، بدھ کو ہم قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے، ہم نے انتخابی اصلاحات کےبل کو مشترکہ اجلاس میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button