وزیر اعظم کے ایک دست راست کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے بجلی اور پٹرولیم تابش گوہر پر الزام عائد جا رہا ہے کہ وہ اربوں ڈالر مالیت کے گیس پائپ لائن پراجیکٹس مکمل کروانے کی بجائے کراچی کی ایک نجی آئل ریفائنری کو غیر قانونی طور پر نوازنے کی کوشش میں ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔ تابش گوہر ماضی میں اس ریفائنری کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں چنانچہ ناقدین انہیں توانائی کے شعبے کا ولن قرار دے رہے ہیں۔
روزنامہ جنگ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تابش گوہر پر الزام ہے کہ وہ اربوں ڈالرز کے زیر تکمیل پاکستانی منصوبوں خصوصا پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن پی ایس جی پی اور ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرا اسٹرکچر یا اے ایم آئی ایس، کی تکمیل میں دلچسپی لینے کی بجائے مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کی آڑ میں کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع ایک نجی ریفائنری کو فائدہ پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یا تابش گوہر اس ریفائنری کے ڈائریکٹر رہے چکے ہیں اور اسی لیے وہ پیٹرولیم ایشوز سے متعلق اپنا کردار محدود کئے جانے کے باوجود وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنے پر تیار نہیں تا کہ متعلقہ آئل ریفائنری کے لئے حکومت سے مراعات حاصل کرسکیں۔ تاہم انکے اس طرز عمل سے ملک میں توانائی کا بحران سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وزارت توانائی کے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار 13 ستمبر 2021 کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے پانچ کابینہ اراکین نے مقامی ریفائنریز کے لیے پیشگی مراعات پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی و پٹرولیم تابش گوہر کی تجاویز ماننے سے انکار کر دیا جبکہ تجارت اور ٹیکسٹائل کے ایک مشیر کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ تابش گوہر کی پسندیدہ نجی ریفائنری نے 1920 کا پرانا پلانٹ لگایا ہے جسے کہ ڈیمڈ (deemed) ڈیوٹی کی اس رقم سے دوبارہ بنایا گیا ہے جو کہ ماضی میں ادا کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تابش گوہر کی جانب سے مقامی نجی ریفائنری کے لئے پیشگی مراعات کی ڈیمانڈ ماننے سے وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی انکار کر دیا ہے۔ حماد اظہر کا 3 ارب ڈالر کی پی ایس جی پی پی کے بارے میں تابش گوہر سے مختلف نقطہ نظر ہے جو روس کی مدد سے تعمیر کیا جائے گا۔ حکومت اس منصوبے کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے اور چاہتی ہے کہ روس اس منصوبے میں اپنا حصہ ڈالے لیکن تابش گوہر اس کے مخالف ہیں۔ تاہم حماد اظہر اسے پاکستان کے حق میں سمجھتے ہیں اور اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کے حق میں ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ طاقتور حلقوں نے بھی تابش گوہر کی جانب سے پی ایس جی پی کی مخالفت کو نہیں سراہا حتیٰ کہ وزیراعظم آفس نے بھی ان کے طرز عمل تنقید کی ہے۔ کچھ وزراء نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر وہ حکومت کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کی حمایت سے گریز کرتے ہیں تو پھر وہ اب تک حکومت کا حصہ کیوں ہیں؟ بعض وزرا کا خیال ہے کہ تابش گوہر 6 سال تک ٹیرف پروٹیکشن یعنی ڈیمڈ ڈیوٹی کی طرح بڑی مراعات حاصل کرنے کی غرض سے اب تک کابینہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مجوزہ آئل ریفائنری کے تحت مقامی پانچ ریفائنریز، جن میں پارکو یعنی پاک عرب ریفائنری کمپنی، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ، اٹک ریفائنری لمیٹڈ اور بائیکو شامل ہیں، 4.2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گی بشمول 40 فیصد رقم جو ٹیرف پروٹیکشن کے ذریعے جمع کی جائے گی جو تقریباً 1.68 ڈالرز کے لگ بھگ ہوگی جو ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے۔ اس بار شوکت ترین، علی زیدی، اسد عمر اور رزاق داؤد نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ریفائنریز خاص طور پر نجی کمپنیوں کے لیے مفت لنچ نہیں ہوگا جن میں بائیکو ، این آر ایل اور اے آر ایل شامل ہیں کہ حکومت نجی مقامی ریفائنریز میں ٹیرف پروٹیکشن کے خلاف ایکویٹی کے بنیادی حق کو یقینی بنانا چاہتی ہے جیسا کہ ماضی میں ڈیمڈ ڈیوٹی کی مد میں کچھ رقم ریفائنریز نے اپنے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی تھی۔ انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کو ایکوئٹی کے بنیادی حق کی بنیاد پر پیشگی ترغیبی پیکج کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔
ان فیصلوں نے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو اپنے کاروباری منصوبوں میں استعمال کرنے کے تین نجی مقامی ریفائنریز کے خواب کو چکنا چور کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پانچ کابینہ وزراء کا موقف تھا کہ اگر اسطرح کی مراعات دینے کی نظیر قائم کی جائے گی تو پھر معیشت کے دوسرے شعبوں بھی مراعات کے اسی پیکج کی مانگ کریں گے جو حکومت کے لیے ممکن نہیں۔ دودری جانب تابش گوہر کے مطابق وہ اس مخصوص نجی ریفائنری میں ڈائریکٹر رہے ہیں لیکن بجلی اور پٹرولیم پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا چارج سنبھالنے کے بعد سے وہ اب ریفائنری کا حصہ نہیں ہیں۔
