الیکشن کمیشن کا ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب کروانے کا حکم

الیکشن کمیشن پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 ڈسکہ میں 20 فروری کو ہونے والا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا ہے۔
الیکشن کمیشن میں مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں مسلم لیگ (ن)کی امیدوار نوشین افتخار نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی تھی جن کے نتائج روکے گئے تھے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے این اے 75 مبینہ انتخابی دھاندلی کیس کی سماعت کی۔سماعت میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار کی نمائندگی کرنے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جن پولنگ اسٹیشن کے پریزایڈنگ افسران غائب ہوئے وہاں پولنگ کی شرح 86 فیصد تک رہی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ معاملے کی تہہ تک تحقیقات کریں کہ ڈی ایس پی ذوالفقار ورک کی دوسری مرتبہ تعیناتی کا کون ذمہ دار ہے۔
WhatsApp Image 2021 02 25 at 6.26.15 PM
WhatsApp Image 2021 02 25 at 6.26.16 PM
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدوار کے سب سے بڑے سپورٹر نے کہا تھا کہ یہ ڈنڈے اور سوٹے کا الیکشن ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گاؤں میں ڈنڈے سوٹے تو ویسے بھی چل جاتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے رکن سندھ نے کہا کہ ویڈیو سے لگتا ہے ڈنڈے سوٹے کا لفظ محاورے کے طور پر بولا گیا تھا۔
وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ غیر متنازع تمام 337 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کو روکا گیا۔وکیل نے کہا کہ نوشین افتخار نے ریٹرننگ افسر (آر او) کو جو درخواست دی اسے پڑھا جائے، نوشین نے 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی جبکہ آر او نے بھی اپنی رپورٹ میں بیس پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تاخیر سے پہنچنے اور صرف 14 پر ری پولنگ کی تجویز دی۔
سماعت میں سلمان اکرم راجا نے متنازع 20 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی استدعا کی۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر الیکشن تنازع کا سیاسی اور میڈیا پہلو ہوتا ہے، جرمن فلاسفر نے کہا تھا شکار، جنگ اور الیکشن ہارنے کے بعد جھوٹ بولا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ این اے-75 کے 360 میں سے 337 پولنگ اسٹیشنز کا کوئی تنازع نہیں، ریٹرننگ افسر نے قیاس آرائیوں کی بنیاد پر دوبارہ پولنگ کی سفارش کی، یہ کہنا درست نہیں کہ نتیجہ تاخیر سے آنے کا مطلب رزلٹ تبدیل ہونا ہے۔جو پر رکن سندھ نے کہا کہ جس انداز میں تاخیر ہوئی اس سے نتائج میں تبدیلی کا گمان ہو سکتا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پریزائڈنگ افسران کے آر او آفس پہنچنے کا کوئی وقت مقرر نہیں، صبح سے شام تک موبائل کی بیٹریاں ختم ہوجاتی ہیں جس پر رکنِ خیبرپختونخوا ارشاد قیصر نے کہا کہ کیا ڈرائیورز سمیت سب کی بیٹریاں ختم ہوگئی تھیں؟وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ انتخابی عملے کا دفاع نہیں کروں گا، جن کے نتائج میں تبدیلی نہیں ہوئی کیا ان کے موبائل آن تھے؟ پریزائڈنگ افسران کادیر سے آنا کوئی غیر قانونی چیز نہیں کہ اس پر دوبارہ الیکشن کرایا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ ووٹرز کے لیے خوف و ہراس کی فضا ہو تو کیا ہوگا؟ اگر ماحول ایسا بنا دیا جائے کہ ووٹر ووٹ نہ ڈال سکے تو پھر کیا ہونا چاہیے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہتر تھا ریٹرننگ افسر نتائج کا اعلان کرتے، نتائج کا اعلان ہونے کے بعد ٹربیونل سے رجوع کیا جا سکتا تھا، کسی پریذائڈنگ افسر نے اغوا ہونے یا نتیجہ تبدیل کرنے کا نہیں کہا، انکوائری کرنا الیکشن کمیشن نہیں ٹربیونل کا کام ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ علی اسجد کے پارٹی سربراہ نے 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا بیان دیا۔
رکن سندھ نے کہا کہ کیا 10 پریزائڈنگ افسران کے لاپتا ہونے کا مطلب قانون کی صریحاً خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس کے لیے کمیشن کو پہلے قرار دینا ہوگا کہ پریزائڈنگ افسران نے جھوٹ بولا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سال 2018 کے عام انتخابات میں فارم 45 کا مسئلہ سامنے آیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کو فارم 45 نہ ملنے کی شکایت نہیں آئی۔سماعت میں پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی نے کہا کہ مریم نواز نے رات 12:30 بجے ہی فتح کا اعلان کر دیا تھا، کئی بار الیکشن ہارنے پر پولنگ ایجنٹس فارم 45 کی کاپی نہیں لیتے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 75 (سیالکوٹ 4) میں ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا تھا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ این اے 75 سیالکوٹ کے نتائج غیرضروری تاخیر سے موصول ہوئے اور اس دوران متعدد مرتبہ پریزائڈنگ افسران سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔
اعلامیے کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر حلقہ این اے 75 نے آگاہ کیا ہے کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے، لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقے کا غیرحتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر کو این اے 75 سیالکوٹ کے غیرحتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا ہے اور مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایات کی گئی ہیں۔مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خاں نے ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 پر ہوئے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار سے 20 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دینے کا کہا تھا۔
WhatsApp Image 2021 02 25 at 6.26.14 PM

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button