الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش


وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت کے خلاف دائر فارن فنڈنگ کیس کے متوقع فیصلے سے خوفزدہ ہوکر کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرنے کی کوشش کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے حکومتی وزرا شفقت محمود اور فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن پر یہ الزام عائد کیا کہ اس نے سپریم کورٹ کے سینٹ الیکشن کے طریقہ کار کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرکے توہین عدالت کی ہے اور اسے فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کو تحریک انصاف کا ممبر قرار دیے جانے کے پرانے فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کمیشن کو ایسا فیصلہ دینے کا اختیار نہیں تھا۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے عمران خان خود کو بچانے کے لیے الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو ابھی دیکھنا باقی ہے لیکن پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ ہماری غلام عدلیہ ہمیشہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی لائن لے کر چلتی ہے۔
الیکشن کمیشن کو متنازع بنانے کے لیے اسکی ساکھ پر حملہ کرتے ہوئےحکمران جماعت تحریک انصاف نے گذشتہ سال اپوزیشن کی مشاورت سے تعینات کیے گئے الیکشن کمیشنر پر خود ہی جانبداری کا الزام لگا کر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور سکروٹنی کمیٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 22 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء مسلسل الیکشن کمیشن پر الزامات لگا رہے ہیں اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر یا اسکے اراکین کو ہٹانے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں، کیونکہ الیکشن کمشنر کا عہدہ آئینی ہے اور اسے ہٹانے کے لئے وہی طریقہ کار اپنانا پڑتا ہے جو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کو فارغ کرنے کے لیے اپنایا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزرا شفقت محمود، شبلی فراز اور فواد چوہدری ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ الیکشن کمشنر اور اراکین نے پیسےلے کر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کا راستہ روکنے کے لیے عدالتی تجویز پر عمل نہیں کیا کیونکہ سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دی تھی کہ آئینی ترمیم کے ذریعے اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن نہیں ہوسکتا لیکن ایسا انتظام کیا جائے کہ وفاداری تبدیل کرنے والوں کا پتہ چل سکے۔ وزرا کا مزید کہنا تھا کہ ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں بھی جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی وفاقی وزرا نے الیکشن کمیشن کو ’ناکام‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غیر جانبدار ایمپائر کا کردار ادا نہیں کر رہا، اس لیے اسے بحیثیت مجموعی استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ تاہم وزراء کی اس پریس کانفرنس پر الیکشن کمیشن نے ماضی کی طرح کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے استعفے کے مطالبے کا مقصد دراصل فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی پر دباؤ ڈالنا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگلا قدم سکروٹنی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے جانچ پڑتال کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہوسکتا ہے، کیونکہ انہوں نے اربوں روپے نجی بینک اکاؤنٹس میں چھپا رکھے ہیں۔‘ پی ٹی آئی کے ناراض رکن اکبر ایس بابر نے اس معاملے پرگفتگو میں کہا کہ ’انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا کوئی ایسا فیصلہ نہیں کہ ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیاجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران فارن فنڈنگ کیس میں اپنے خلاف فیصلے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس ان 23 پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے متعلق ہے، جن میں سے بیشتر ظاہر نہیں کیے گئے اور جن میں اربوں روپے کے فنڈز دوسرے ممالک سے بھی ٹرانسفر ہوئے، جن کی پی ٹی آئی نے کوئی دستاویز پیش نہیں کیں کہ وہ کہاں خرچ ہوئے۔ اکبر ایس بابر کے مطابق: ’سکروٹنی کمیٹی کی تحقیقات کے بعد جلد ہی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع ہوگی اور فیصلہ سنایا جانا ہے اور حکومت اس سے خوفزدہ ہے۔‘
یاد رہے کہ آئینی طور پر الیکشن کمشنر اور اراکین کی تعیناتی حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے اتفاق رائے کے بعد ہوتی ہے۔موجودہ الیکشن کمشنر سکندر سلطان کا نام وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بذریعہ خط اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بجھوایا گیا تھا، جس پر اپوزیشن متفق ہوئی تو پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد اس کمیٹی کی چیئرپرسن شیریں مزاری نے جنوری 2020 میں سکندر سلطان کی تقرری سے متعلق حکومتی منظوری کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔
شیریں مزاری نے اجلاس کے بعد نوید سناتے ہوئے کہا تھا کہ سربراہ الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کی تقرری پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا جمہوریت کی مضبوطی کا تسلسل ہے اور پارلیمان اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے آئندہ بھی ایسی ہی روایت کو لےکر چلیں گے۔دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق حکومت موجودہ الیکشن کمشنر سکندر سلطان اور اراکین کو ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن جیسے بااختیار اور آئینی ادارے کو اس طرح متنازعہ بنانا جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بظاہر ایسا کوئی متنازعہ عمل سامنے نہیں آیا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف ردعمل دیا جاتا۔ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے ہی ملک کے ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔حامد خان کے مطابق: ’آئینی طور پر حکومت الیکشن کمشنر یا کمیشن کے کسی رکن کو نہیں ہٹاسکتی، انہیں ہٹانے کا وہی طریقہ ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ہٹانے کا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’حکومت الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر سکتی ہے، وہاں ایسے ثبوت پیش کرنا لازمی ہیں جن سے ان کے غیر قانونی یا بدعنوانی سے متعلق الزامات ثابت ہوں جبکہ ایسے الزامات موجود نہیں ہیں۔ دوسرا یہ کہ الیکشن کمشنر خود مستعفی ہوسکتے ہیں یا پھر کوئی حادثہ ہوتو پھر یہ عہدہ خالی ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ سکندر سلطان راجہ سیکرٹری ریلوے کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے تو اس وقت کے وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی ان کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کی سفارش کی تھی۔ ان کی تقرری پر رائے دی گئی تھی کہ اس سے قبل یہ عہدہ ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حصے میں آتا رہا، لیکن پہلی بار کسی بیورو کریٹ کو تعینات کیاگیا۔ یہ تاثر بھی سامنے آیا تھا کہ سکندر سلطان راجہ عمران خان اور نواز شریف سے قریب رہے ہیں، اس لیے ان کے نام پر اتفاق ہوا۔ وہ نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کے داماد بھی ہیں اور عمران خان کا بھی زمان پارک، لاہور میں رہائش کے وقت سعید مہدی سے اچھا تعلق تھا۔تاہم راجہ سکندر سلطان پر حکومتی وزراء کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے باوجود ابھی تک کسی حکومتی شخصیت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا حکومت الیکشن کمیشن کے خلاف ریفرنس دائر کرے گی یا نہیں۔
ملکی آئین کے مطابق چیف الیکشن کمیشنر اور ممبران کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 215 (2) کے تحت الیکشن کمشنر یا ممبر ای سی کو صرف جج کے عہدے سے ہٹانے کے لیے آرٹیکل 209 میں طے شدہ انداز میں اور دفتر کے لیے آرٹیکل کی درخواست میں ہی عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں جج کے حوالے سے اس آرٹیکل میں کوئی بھی حوالہ کمشنر کے حوالے یا کسی ممبر کے طور پر سمجھا جائے گا۔سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سربراہ عدالت عظمیٰ کے دو سینیئر ترین جج اور اعلیٰ عدالتوں کے دو چیف جسٹس شامل ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 209 (5) (بی) میں لکھا گیا ہے اگر کسی بھی وسیلہ سے ملنے والی معلومات پر کونسل یا صدر کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ کے جج یا کسی ہائی کورٹ کے کوئی جج بدانتظامی کے مرتکب ہوئے ہوں تو صدر مملکت کونسل کو ہدایت دیں یا کونسل اپنی تحریک پر اس معاملے کی انکوائری کرسکے گی۔ آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے مطابق اس معاملے کی تفتیش کے بعد کونسل، صدر کو اطلاع دیتی ہے کہ اس کی رائے ہے کہ جج اپنے عہدے کے فرائض کی انجام دہی سے قاصر رہ اہے یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے اور یہ کہ انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے اس کے بعد صدر مملکت جج کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ آرٹیکل 209 (7) میں درج ہے کہ سپریم کورٹ کے جج یا کسی ہائی کورٹ کے جج کو عہدے سے ہٹایا نہیں جائے گا سوائے اس کے کہ آرٹیکل کے فراہم کردہ اور سی ای سی اور چاروں ممبروں میں سے کسی کو بھی ہٹانے کا طریقہ کار یکساں ہے۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے سی ای سی اور چار ممبروں پر مشتمل کمیشن سے استعفیٰ کا مطالبہ ای سی پی کی جانب سے حالیہ سینیٹ انتخابات کو ایمانداری سے کرانے میں مبینہ ناکامی کی بنا پر کیا گیا ہے، لیکن عمومی رایے یہ ہے کہ یہ نتائج توقعات کے مطابق تھے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی عددی طاقت سوائے اس کے کہ اسلام آباد کی ایک عام نشست کے لئے رائے شماری میں مسائل ہوئے جہاں حزب اختلاف کے امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف شروع کی گئی تحریک کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button