الیکٹرانک ووٹنگ مشین شیطانی مشین قرار

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف اور صدر مسلم لیگ ن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کو ایول اینڈ ویشیئز مشین یعنی شیطانی مشین قرار دے کر اسے مسترد کرنے کی اپیل کر دی ۔

قائد حزب اختلاف نے یہ بات پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران کی جس میں دو درجن سے زائد اہم بلوں پر غور کیا گیا ، ان بلز میں انتخابی اصلاحات سمیت وہ بلز بھی شامل تھے جن کی یا تو مدت ختم ہو چکی یا سینیٹ نے مسترد کر دیے تھے۔

ایک گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں ہی مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل پر سپیکر سے ووٹنگ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بابر اعوان کو ایجنڈا نمبر ٹو یعنی الیکشن ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ کا بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی دعوت دی تو بابر اعوان نے جواب دیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی ہے، اس لیے اسے فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اس سلسلے میں کمیٹی کی تشکیل پر نہ ہم سے مشاورت کی گئی نہ آئندہ کا لائحہ عمل بتایا گیا، یہ ڈھکوسلہ تھا اور وقت حاصل کرنے کا حربہ تھا تا کہ کسی طرح ووٹس کی تعداد پوری کی جائے اور اتحادیوں کو راضی کیا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ انتخابات کے بعد اگر دھاندھلی ہوئی ہو تو اس کا شور ہوتا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ الیکشن سے پہلے نہ صرف یہ ایوان بلکہ 22 کروڑ عوام دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یہ جانتے ہیں کہ اب انہیں عوام سے ووٹ ملنا محال ہے لہٰذا کوشش یہ ہے کہ یہ سیلیکٹڈ حکومت مشین کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دے سکے کیوںکہ یہ ووٹ کے لیے نہیں جاسکتے۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کو ایول اینڈ ویشیئز مشین یعنی شیطانی مشین قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس پر تکیہ کیے بیٹھی ہے۔

ا

Back to top button