امجد اسلام امجد کرکٹ چھوڑ کرلکھاری کیسے بنے؟

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ معروف مصنف، شاعر اور ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کرکٹ کے بہت اچھے کھلاڑی تھے جو فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیلے تھے، لیکن جب قومی ٹیم میں سلیکشن کا وقت آیا تو میرٹ کا قتل عام ہوا اور امجد پر ایک طاقت ور بیوروکریٹ کے سفارشی بیٹے کو ترجیح دی گئی، یوں وہ کرکٹر بننے کی بجائے ادیب بن گئے۔ امجد اسلام دراصل اپنی درس گاہ اسلامیہ کالج کی اس کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھے جنہوں نے گورنمنٹ کالج کی ٹیم کو شکست سے ہمکنار کیا تھا۔ اس زمانے میں قومی ٹیم کے 11 کھلاڑیوں میں سے چھ سات کا تعلق گورنمنٹ کالج سے ہوا کرتا تھا۔کرکٹ کا سفر آگے بڑھا تو اسلامیہ کالج 12 سال بعد چیمپئن بنا جس میں امجد اسلام امجد کی کارکردگی بہت عمدہ تھی مگر ان کی جگہ قومی ٹیم میں ایک بیوروکریٹ کے بیٹے کو منتخب کر لیا گیا اور امجد کو ریزرو کھلاڑیوں میں رکھا گیا حالانکہ ان کی کارکردگی شاندار تھی۔یہ امجد اسلام امجد کی زندگی کا بہت بڑا شاک تھا لہذا انھوں نے غصے میں اپنا بلا توڑ دیا۔ لیکن پھر وقت نے ثابت کیا کہ کرکٹ ٹیم میں منتخب نہ ہونا ان کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہوا۔
لاہور کی ایک مشہور علمی اور ادبی شخصیت تھے آغا بیدار بخت، جن کے پاس علوم و فنون کی بے شمار کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ ان کے پڑوس میں ایک بچہ رہتا تھا جسے لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر اس کے گھر میں ایک تو تعلیم کا تصور ہی ناپید تھا دوسرا ان کا خاندانی کام بھی دستکاری اور دکانداری تھا۔اس بچے کا نام امجد اسلام تھا۔ شاعری شروع کی تو تخلص کی ضرورت پیش آئی تو اس نے اپنے نام ہی کو تخلص بنا لیا اور امجد اسلام امجد کے نام سے معروف ہوا۔اسی زمانے میں کرکٹ کا بھی شوق ہوا لیکن جلد ہی کرکٹ سے کنارہ کش ہو گئے ۔ امجد اسلام امجد خود کہتے تھے کہ اگر میں کرکٹ کھیلتا رہتا تو میں 1965-66 میں شروع کر کے 1971-72 تک فارغ ہوچکا ہوتا اور ادبی دنیا میں ان کی جو شناخت بنی وہ اس سے محروم رہتے۔اب انھوں نے شاعری کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی اورادبی جرائد میں چھپنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی زمانے میں انھوں نے عربی شاعری کے تراجم کیے، جس کا مجموعہ بعدازاں ’عکس‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔1972 میں امجد اسلام امجد نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ایک ڈرامہ ’یا نصیب کلینک‘ تحریر کیا، یہاں سے ان کی ڈرامہ نگاری کے سفر کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں اکا دکا ڈرامے لکھے اور اردو کے مختلف افسانوں کی ڈرامائی تشکیل کی۔مگر جس ڈرامہ سیریل نے انھیں شہرت کے بام عروج تک پہنچایا وہ ’وارث‘ تھا۔
اس ڈرامے کی پہلی قسط 13 اکتوبر 1979 کو نشر ہوئی، اس کی کہانی جاگیردار معاشرے کے گرد گھومتی تھی، یہ ایک سادہ اور حقیقی کہانی تھی جس کے کردار ہمارے چاروں طرف موجود ہیں۔ اس سادہ سی کہانی نے وارث کو پاکستان کا مقبول ترین ڈرامہ سیریل بنا دیا۔یہ سیریل اس قدر مقبول ہوا کہ یہ عوامی جمہوریہ چین کے قومی نیٹ ورک پر چینی زبان میں ڈب کر کے بھی پیش کیا گیا۔ وارث کے بعد ان کے لکھے ہوئے جو ڈرامہ سیریل ناظرین میں بے حد پسند کیے گئے ان میں دہلیز، سمندر، دن، وقت، گرہ، بندگی، اگر، اپنے لوگ، رات، ایندھن، زمانہ، شیرازہ اور انکار کے نام سرفہرست رہے۔ڈراموں کی مقبولیت انھیں فلمی دنیا میں بھی لے گئی۔ انھوں نے چند فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی تحریر کیے جن میں قربانی، حق مہر، نجات، چوروں کی بارات، جو ڈر گیا وہ مر گیا، سلاخیں اور امانت شامل ہیں۔ان ڈراموں اور فلموں کے ساتھ ساتھ امجد اسلام امجد کا شعری سفر بھی جاری رہا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’برزخ‘ تھا جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا۔اس کے بعد ان کے پچیس تیس مجموعے شائع ہوئے جن میں ساتوں در،فشار، ذرا پھر سے کہنا، اتنے خواب کہاں رکھوں گا، آنکھوں میں تیرے سپنے، سحر آثار، سپنے کیسے بات کریں، ساحلوں کی ہوا، پھر یوں ہوا، رات سمندر میں اور اسباب شامل ہیں۔
ان کی کئی شعری کلیات بھی شائع ہوئیں جن میں خزاں کے آخری دن، ہم اس کے ہیں، نزدیک، شام سرائے، باتیں کرتے دن، سپنوں سے بھری آنکھیں اور میرے بھی ہیں کچھ خواب سرفہرست ہیں۔انھوں نے عالمی شاعری کے تراجم بھی کیے۔ ان نظموں کے مجموعے ’عکس‘ اور ’کالے لوگوں کی روشن نظمیں‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔1970کی دہائی میں امجد اسلام امجد کی ایک نظم ’محبت کی ایک نظم‘ نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی اور زندگی بھر امجد اسلام امجد کی پہچان بنی رہی، وہ جہاں بھی جاتے تھے ان سے اسی نظم کی فرمائش ہوتی تھی۔ پھر ان کی مقبولیت کا یہ سفر عمر بھر جاری رہا۔امجد اسلام امجد کا نثری سفر بھی بہت طویل ہے۔ ان کے کئی سفرنامے شائع ہوئے جن میں شہر در شہر، ریشم ریشم، سات دن اور چلو جاپان چلتے ہیں سرفہرست ہیں۔وہ قومی اخبارات میں بھی مستقل کالم نگاری کرتے رہے۔ ان کالموں کے بھی متعدد مجموعے شائع ہوئے ، ان مجموعوں میں چشم تماشا، کٹھے میٹھے، دیکھتے چلے گئے، نئی آنکھیں پرانے خواب، چھاؤں، تیسرے پہر کی دھوپ، کوئی دن اور، دھند کے اس پار اور چراغ رہ گزر شامل تھے۔
امجد اسلام امجد کی شاعری کے متعدد زبانوں میں تراجم بھی ہوئے جن میں انگریزی، اطالوی، ترک اور عربی زبانیں شامل ہیں۔ یہ مجموعے لاہور کے علاوہ استنبول اور قاہرہ سے شائع ہوئے۔ ان کی شخصیت اور فن پر 30 سے زیادہ مقالے لکھے گئے جو پاکستان، انڈیا، مصر اور ترکی کی مختلف یونیورسٹیوں میں پایۂ تکمیل کو پہنچے۔مجد اسلام امجد نے اپنے کیریئر کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا تھا بعدازاں وہ کئی انتظامی عہدوں پر بھی فائز رہے جن میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور، اردو سائنس بورڈ اور چلڈرن کمپلیکس لاہور کے نام شامل تھے۔ وہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ متعدد اداروں کی سنڈیکیٹ اور بورڈ آف گورنرز کے رکن رہے۔امجد اسلام امجد کو دنیا بھر سے مختلف اعزازات بھی عطا ہوئے جن میں حکومت پاکستان کے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز کے نام سرفہرست ہیں۔اس کے علاوہ انھیں پاکستان ٹیلی ویژن، اکادمی ادبیات، نگار ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ اور مجلس فروغ اردو کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
