امریکا کی جانب سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر پابندیاں دھچکا قرار

جنوبی ایشیا کے امور کےلیے امریکا کی اعلیٰ سفارتکار ایلس ویلز نے پاکستانی حکومت کے سوشل میڈیا سے متعلق نئے قواعد و ضوابط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کےلیے دھچکا ہوگا۔ جب کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے بیان کو سمجھ سے بالا تر قرار دے دیا۔
New restrictions on social media platforms in #Pakistan could be setback to freedom of expression & development of digital econ. Unfortunate if Pakistan discourages foreign investors & stifles domestic innovation in such a dynamic sector. Encourage discussion w/ stakeholders. AGW
— State_SCA (@State_SCA) February 25, 2020
امریکی محکمہ خارجہ کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایلس ویلز سے منسوب ایک جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئی پابندیاں اظہار رائے اور ڈیجیٹل اکانومی کےلیے ایک دھچکہ ہو سکتی ہیں۔ اگر پاکستان اتنے ابھرتے ہوئے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاروں اور نجی تخلیق کی حوصلہ شکنی کرے گا تو یہ بدقسمتی ہوگی۔‘ بیان میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو اس حوالے سے متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے، برطانیہ اور سنگاپور میں سوشل میڈیا کے قوانین کیوں آ رہے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیامیں سوشل میڈیا کو ریگولرائز کیا جا رہاہے، سوشل میڈیا کو ریگولرائز کرنےکی ضرورت ہے۔
مزید براں ایلس ویلز کی تنقید کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رولز، شہریوں کی حفاظت کےلیے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ایسا کوئی طریقہ کار نہیں تھا جس سے ہمارے شہریوں کے مفادات اور قومی سالمیت کا تحفظ کیا جاسکے، تاہم اس پالیسی کے لاگو ہونے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے سے پہلے سوچیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے قوانین نا صرف پاکستان کے مخالفین کو بےنقاب کریں گے بلکہ ان سے حکام کو انتہا پسندوں کو روکنے میں بھی مدد ملے گی جو مذہب اور نسل کی بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا سے متعلق نئے قواعد کی منظوری دی تھی جن کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ تین ماہ کے اندر پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں اور سوشل میڈیا صارفین کی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔
اس کے بعد فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل سمیت سوشل میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ’ایشیا انٹرنیٹ کولیشن‘ (اے آئی سی) نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط میں نئے سوشل میڈیا قواعد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ ان قواعد کی روشنی میں سوشل میڈیا کمپنیوں کےلیے مشکل ہوگا کہ وہ اپنی خدمات پاکستانی صارفین اور کاروبار کو مہیا کر سکیں۔ اے آئی سی کی ویب سائٹ پر موجود وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں تنظیم کے مینجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے لکھا کہ دنیا کے کسی اور ملک نے اس طرح کے وسیع البنیاد قواعد نہیں بنائے، اس لیے خدشہ ہے کہ کہیں اس سے پاکستان دنیا بھر میں تنہا نہ ہو جائے اور پاکستانی صارفین اور کاروباری حضرات خواہ مخواہ انٹرنیٹ کی معیشت کے فوائد سے محروم نہ رہ جائیں۔
یاد رہے کہ اے آئی سی ایک صنعتی تنظیم ہے جو فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، ایمازون، یاہو اور دیگر انٹرنیٹ کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے اور ایشیا بھر میں حکومتوں کے ساتھ ان کمپنیوں کے معاملات پر بات چیت کرتی ہے۔
اپنی تفصیلی رائے میں اے آئی سی نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے مواقع موجود ہیں مگر بغیر مشاورت اس طرح کے قواعد کو اچانک نافذ کرنے سے حکومت کے ان دعوؤں کی نفی ہوئی ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری اور کاروبار کےلیے دستیاب ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان قواعد کو ختم نہ کیا گیا تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔
