امریکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بری طرح پھنس گیا

اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود جوبائیڈن کی نئی امریکی انتظامیہ کے لیے اپنی اعلان کردہ یکم مئی کی ڈیڈ لائن تک افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ناممکن لگ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ افغان صدر اشرف غنی اور افغان طالبان کا غیر لچکدار رویہ ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ سے اپنی فوجوں کے انخلاء سے پہلے افغانستان میں عبوری حکومت قائم کرنے کا جو منصوبہ پیش کیا تھا اسے اشرف غنی اور طالبان دونوں نے مسترد کردیا ہے۔ امریکی منصوبے میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے لیے نئے آئین پر اتفاق اور انتخابات منعقد ہونے تک ایک نئی عبوری حکومت موجودہ حکومت کی جگہ لے اور ایک مشترکہ کمیشن جنگ بندی کی نگرانی کرے۔ منصوبے میں جنگ بندی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ معاہدے کے فوراً بعد فریقین کی جانب سے مکمل جنگ بندی ہوگی اور طالبان افغانستان کے اندر اور دوسرے ملکوں میں قائم اپنا تمام جنگی انفراسٹرکچر ختم کرنے کے پابند ہوں گے، کوئی حریف بھی ملیشیا نہیں بنا سکے گا اور نہ ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں جواب دے گا بلکہ جنگ بندی کمیشن سے رجوع کرے گا۔ یہ بھی تجویز دی گئی تھی کہ جنگ بندی کی نگرانی اور اسے یقینی بنانے کے لیے فریقین کے چار چار نمائندوں اور ایک صدر کے نمائندے پر مشتمل جنگ بندی کمیشن بنایا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے چند روز قبل افغان صدر اشرف غنی کو ایک خط کے ذریعے اس تجویز سے آگاہ کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ”ہم اقوام متحدہ سے خواہش کا اظہار کریں گے کہ افغانستان میں امن کے قیام پر اتفاق رائے کے لیے امریکا، روس، چین، بھارت، ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس طلب کرے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگلے مرحلے میں حکومت اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں مذاکرات کا آغاز ہوگا، جن میں واشنگٹن کی شراکت اقتدار کی تجویز کی بنیاد پر گفتگو ہوگی۔ لیکن اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوجے کابل میں صدارتی محل کے ایک اعلی عہدیدار نے اعلان کیا یے کہ صدر اشرف غنی نے عبوری حکومت کے لیے اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کانفرنس یا سیاسی معاہدے کے ذریعہ قائم کسی عبوری نظام کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ دودری جانب افغان طالبان نے بھی جنگ بندی اور انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ فروری 2020 میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر کے شہر دوحہ میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق ایک معاہدہ ہوا تھا، جس میں طالبان اور کابل حکومت کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے علاوہ بین الافغان مذاکرات اور یکم مئی تک افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر اتفاق ہوا تھا۔ اسی معاہدے کے تحت گزشتہ ستمبر میں دوحہ میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے، جو تاحال گفتگو کا ایجنڈا طے کرنے کے مرحلے پر ہی رکے ہوئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک میں عبوری حکومت کے معاملے پر افغان حکومت اور طالبان دونوں کی جانب سے ہی مزاحمت کی جارہی ہے۔ طرفین کے اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے رہنے کی وجہ سے اب معاملات آگے نہیں بڑھ پارہے۔
دوسری جانب یہ بات واضح ہے کہ امریکا کو اب افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے۔ تاہم حالات کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کےلیے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہوگا۔ بین الافغان مذاکرات میں آنے والا تعطل اور ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکا میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ اس بے چینی کا اظہار امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کی جانب سے افغان صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں بھی ہوا۔ اس خط میں بلنکن نے سخت الفاظ میں اشرف غنی پر زور ڈالا کہ وہ امن مذاکرات کی کامیابی کےلیے دیگر افغان رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے اشرف غنی کو دوحہ مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کے خطرے اور حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ افغان صدر ہنگامی حالات میں ملک کو قیادت فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور طالبان کے حملے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ خط میں اختیار کی گئی سختی اس بات کا مظہر ہے کہ امریکا مذاکرات میں آنے والے تعطل کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ بین الافغان مذکرات میں ایک بڑی رکاوٹ خود اشرف غنی کی کرختگی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا کے نزدیک اشرف غنی کا سخت مزاج ایک مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ امن عمل کو تیز کرنے کےلیے دباؤ ڈال رہی ہے لیکن اشرف غنی کسی صورت بھی مشترکہ عبوری حکومت کی تجویز ماننے کو تیار نہیں ہیں اور یہی نکتہ تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔
