مجھے ابھی تک پلاسٹک سرجری کی ضرورت نہیں پڑی


معروف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین نے بعض جونیئرز ماڈلز کی جانب سے اب تک اپنا ماڈلنگ کیریئر جاری رکھنے پر اعتراض کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ابھی تک ڈیمانڈ میں ہوں اور اپنے ناقدین سے 10 گنا زیادہ معاوضہ بھی حاصل کر رہی ہوں۔ لہذا جلنے والوں کو حسد کرنے کی بجائے اپنا کام بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
نادیہ حسین نے کہا کہ باہر کے ملکوں میں تو خواتین ماڈلز 30 سال تک بھی کام کر لیتی ہیں، لیکن پاکستان میں باتیں شروع ہو جاتی ہیں کہ تم بھلا کب تک ماڈلنگ کرتی رہو گی۔
نادیہ حسین نے پلاسٹک سرجری کروانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی سرجری کروانے کے حق میں ہیں، اور اگر کبھی انہیں لگا کہ انہیں پلاسٹک سرجری کروانی چاہیے تو وہ ایسا ضرور کروائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پلاسٹک سرجری ایک مہنگا شوق ہے اور جو لوگ ایسا کرنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں، انہیں یہ ضرور کروانی چاہیے۔
نادیہ نے کہا کہ لیکن لوگوں کو سرجری اور بوٹوکس ٹریٹمنٹ میں فرق کو ضرور سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی نان سرجیکل ٹریٹمنٹ کرواتی ہیں اور دوسروں کی بھی کرتی ہیں، نادیہ نے ان خبروں کی تردید کی کہ انہوں نے کبھی سرجیکل ٹریٹمینٹ کروائی ہے۔ نادیہ نے فیشن انڈسٹری میں تخلیقی کام کے حوالے سے کہا کہ چند برسوں سے مسلسل فیشن ویکس کا انعقاد ہو رہا ہے لیکن تخلیقی کام کی بہت ذیادہ کمی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کام اچھا ہو رہا ہے۔ نادیہ نے کہا کہ طلبہ و طالبات کے فیشن شوز ضرور ہونے چاہییں، ان میں بہت زیادہ تخلیقی کام دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل فیشن شوز میں ڈیزائنرز پیسے دے کر شرکت کرتے ہیں۔ وہ بزنس کے نقطہ نظر سے ہی ریمپ پر آتے ہیں اور اپنی کلیکشن دکھاتے ہیں۔
نادیہ حسین نے کہا کہ پوز بنا لینا اور ریمپ پر چلنا، کپڑوں کی نمائش کرنا ہی ایک ماڈل کا بنیادی کام ہوتا ہے۔ ماڈل چاہے بہت خوب صورت نہ ہو لیکن اس کے چہرے کے خدوخال اور قد اچھا ہونا چاہیے، بعض اوقات قد اچھا ہوتا ہے لیکن ماڈل کی جسامت اتنی اچھی نہیں ہوتی۔
نادیہ حسین کہتی ہیں کہ وہ زندگی میں بہت سی ایسی لڑکیوں سے ملیں جو ماڈلنگ کرنا چاہتی تھیں لیکن انہیں اجازت نہ مل سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں ماڈلنگ کےلیے اجازت کا ملنا بھی ایک بہت بڑا مرحلہ ہوتا ہے، والدین کو چاہیے کہ بچے بچیوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ نادیہ کا کہنا ہے کہ اچھے ماڈل کا اچھا اداکار ہونا۔کوئی ضروری نہیں ہے، بعض اوقات بہت ہی خوب صورت ماڈلز خود کو اچھا اداکار ثابت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اداکاری بہت ہی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اب آپ کا اگر سین نہیں ہے اور کسی دوسرے اداکار کا سین شوٹ ہو رہا ہے تو آپ کو انتظار میں بیٹھنا پڑے گا، اور آپ گھنٹوں انتظار کرتے رہیں گے۔ اسی طرح سے ماڈلنگ کے لیے بھی میک اپ کرکے بیٹھے رہنا، ریہرسلز کرنا اور شو کے شروع ہونے کا انتظار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لہذا میرے خیال میں اداکاری اور ماڈلنگ دونوں ہی صبر آزما کام ہیں۔
نادیہ حسین نے بتایا کہ انہوں نے 20 برس تک ماڈلنگ کی، جب اپنا سیلون بنایا تو طے کر لیا تھا کہ سیلون کو پورا وقت دینا ہے۔ مجھے اس دوران بھی آفرز آتی رہیں، لیکن مصروفیت کی وجہ سے میں نے آفرز قبول نہیں کیں۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آفرز آنا بند ہوگئیں، لیکن میں نے جتنا بھی کام کیا، اچھا کیا اور خوب مطمئن رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں عوام کی طرف سے بہت پیار ملا، لیکن بعض اوقات جونیئرز کو کہتے سنا ہے کہ نادیہ جیسی ماڈلز تو جان ہی نہیں چھوڑ رہیں۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ نادیہ جیسی ماڈلز خود کسی شو کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ آرگنائزر انہیں ہائیر کرتے ہیں، اور تم لوگوں سے دس گنا زیادہ پیسے بھی دیتے ہیں۔
نادیہ کہتی ہیں کہ انہیں رضوان بیگ، ایچ ایس وائے، دیپک پروانی، منٹو کاظمی، فائزہ سمیع، ایلان، شمائل بیگ، نومی انصاری، فزار منان، عمر سعید اور دیگر لوگوں کا کام بہت پسند ہے، یہ تمام ڈیزائنرز ہر حال میں اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہیں۔ نادیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنی شادی کا جوڑا ایک انڈین ڈیزائنر انا میکا کھنہ سے بنوایا تھا، کیوں کہ رنگوں کا جو میل انہیں چاہیے تھا وہ پاکستان میں کسی ڈیزائنرز کے پاس موجود نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میرا پہلا شوٹ میری زندگی کا یادگار ترین شوٹ ہے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فیشن انڈسٹری ٹھیک سمت کی طرف چل رہی ہے، کام ہو رہا ہے جو کہ بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ کراچی میں پیدا ہونے والی نادیہ حسین نے اپنے شوبز کیرئیر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا تھا اور بعد میں انہوں نے ٹی وی انڈسٹری میں قدم رکھا۔ نادیہ نے بے شمار ٹی وی سیریلز میں ادکاری کی۔ انکی مشہور ٹی وی سیریلز میں”عشق جنون دیوانگی، لیڈیز پارک، مانے نہ یہ دل، نور بانو اور ستمگر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نادیہ حسین نے ڈینٹسٹری میں تعلیم حاصل کی تھی اور چھ ماہ کام بھی کیا لیکن اس کے بعد کبھی دوبارہ واپس اس کام میں نہیں گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button