اب خفیہ رائے شماری کا فائدہ گیلانی کو ہوگا یا سنجرانی کو؟


12 مارچ کو ہونے والےسینٹ چیئرمین کے الیکشن کے لیے میدان سج چکا ہے اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی خفیہ رائے شماری کا فائدہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی ہی اٹھائیں گے یا صادق سنجرانی دوبارہ اگست 2019 والی واردات ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یاد رہے کہ 2019 مین سینٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے وقت اپوزیشن کے چودہ اراکین نے خفیہ رائے شماری میں سنجرانی کو ووٹ دے کر کامیاب بنا دیا تھا جبکہ اپوزیشن اتحاد اس وقت سینیٹ میں اکثریت رکھتا تھا۔
پاکستان کی سیاست میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا کا نیا چیئرمین کون ہوگا۔ اس وقت نئے چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔ تاہم یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر جتنا بھی ہنگامہ برپا ہو، جماعتوں کو سینیٹ انتخابات میں سیاسی بیانیے، اخلاقیات اور اپنے ہی بنائے گئے زریں اصولوں سے بھی بعض دفعہ نظریں چرانی پڑ جاتی ہیں۔ سینیٹ چیئرمین کے لیے دو اتحادوں اور پارٹی پوزیشن پر نظر دوڑانے سے قبل یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ایوان بالا کے الیکشن میں خفیہ رائے شماری کی وجہ سے ناممکن کے بھی ممکن ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کی بڑی مثال تو خود اس وقت چیئرمین سینیٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی ہی ہیں، جو اس قدر پیچیدہ انتخابی مقابلے میں اپ سیٹ دینے کے حوالے سے اب ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی کم تعداد کے باوجود یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے کر سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے اور اب وہ چیئرمین سینیٹ کی دوڑ میں بھی بہتر پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن اتحاد کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کے لیے بظاہر 51 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے مگر یہ ووٹنگ خفیہ رائے شماری سے ہوگی اور اس میں نتائج کا گراف غیر متوقع طور پر بدل بھی سکتا ہے۔ یعنی یوسف رضا گیلانی 51 سے زیادہ بھی ووٹ لے سکتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خفیہ رائے شماری کے دوران انکی ظاہری اکثریت بھی سمٹ جائے۔
ابھی تک یوسف رضا گیلانی کا یہی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ’بظاہر اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نظر آ رہی ہے‘، جس پر کچھ اہم اپوزیشن رہنما خود حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی تو کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں آخری دو روز کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے امیدوار کے حق میں اراکین اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ مریم نواز نے دو کہ تم آگے بڑھتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کے لیے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا ممکن نہ ہوتا اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں ان کی مدد نہ کرتیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اعتماد کے ووٹ سے ایک رات پہلے دو ممبران قومی اسمبلی کو اغوا کرکے ایک خفیہ ایجنسی کے سیف ہاؤس میں راولپنڈی کے قریب واقع گولڑہ کے مقام پر رکھا گیا اور صبح عمران کے حق میں ووٹ ڈلوایا گیا۔
تاہم ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اسی طرح حکومت کا ساتھ دیتی ہے جس طرح اس نے صادق سنجرانی کے خلاف 2019 میں تحریک عدم اعتماد کے دوران دیا۔ یاد ریے کہ صادق سنجرانی پہلی بار آزاد حیثیت سے بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے جس کے بعد وہ اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی اور حکومت دونوں کی حمایت سے تین سال کے لیے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے۔پھر 2019 میں ان پر عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی، جو ناکام ہوئی۔ اپنی تین برس کی مدت پوری کرنے کے بعد وہ اب دوسری مدت کے لیے حکومتی اتحاد کی طرف سے سینیٹ چیئرمین کے امیدوار ہیں۔ لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ ان کے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار سیاستدان گیلانی میدان میں موجود ہیں، جن کی وزارت عظمیٰ کے دوران حفیظ شیخ کی طرح صادق سنجرانی نے بھی ان کے ماتحت کام کیا۔
حال ہی میں صادق سنجرانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے وزیر داخلہ شیخ رشید کو یہ واضح کرنا پڑا کہ صادق سنجرانی نہ صرف حکومت کے امیدوار ہیں بلکہ وہ ‘ریاست‘ کے بھی امیدوار ہیں تاہم انھوں نے لفظ ’ریاست‘ کی مزید وضاحت نہیں کی۔ اس وقت حکومتی ترجمان یہ دعوے کر رہے ہیں کہ انھیں اکثریت کی حمایت حاصل ہو چکی ہے لیکن ان دعوؤں سے قبل اس وقت سینیٹ میں چھوٹی جماعتوں کی غیر معمولی اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس وقت 100 کے ایوان میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے لیے 51 ووٹ درکار ہیں۔ بظاہر نمبرز گیم میں اس وقت حکومتی اتحاد اپوزیشن سے پیچھے ہے مگر اپوزیشن اتحاد کے لیے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اپوزیشن کے پاس اس وقت سینیٹ میں 52 ووٹ ہیں جن میں سے 20 سینیٹرز کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جکبہ 18 پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ سینیٹرز کا تعلق جے یو آئی (ف) سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پاس دو، دو جبکہ جماعت اسلامی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پاس ایک، ایک ووٹ موجود ہے۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شمیم آفریدی آزاد حیثیت سے فاٹا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ فاٹا کی خصوصی حیثیت ختم ہونے اور اس علاقے کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد وہ پیپلز پارٹی کے قریب ہو گئے۔ اس بار فاٹا سے کوئی شخص سینیٹ میں منتخب نہیں ہوا مگر اس علاقے کی خصوصی حیثیت ختم ہونے سے پہلے شمیم آفریدی سمیت چار سینیٹرز قبائلی علاقوں سے سینیٹ میں پہنچے تھے، جو مزید تین سال بھی ایوان بالا کا حصہ رہیں گے۔ بلوچستان سے بی این پی میں شامل ہونے والی نسیمہ احسان کے سینیٹ تک کے سفر میں انھیں بلوچستان عوامی پارٹی کی بھی حمایت حاصل رہی۔ ان کے خاوند احسان شاہ اس وقت پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی بھی ہیں اور انکے لیے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دینا ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ اگر ان کا ووٹ نہ گنا جائے تو اپوزیشن کے پاس کل نشستیں 51 رہ جاتی ہیں۔ ابھی جماعت اسلامی نے اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ سینیٹ میں حکومت کا ساتھ دے گی یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے گی۔ اگر جماعت اسلامی ووٹنگ کے عمل سے اجتناب کرے تو اپوزیشن کی تعداد 50 بنتی ہے اور یوں یوسف رضا گیلانی اس وقت تک چیئرمین سینیٹ نہیں بن سکتے جب تک جماعت اسلامی یا حکومتی اتحاد میں سے کوئی انھیں ووٹ نہیں ڈالتا۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں وفاق اور سندھ سے حصہ نہیں لیا۔ اس سے قبل بھی جب اپوزیشن اتحاد نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی تو جماعت اسلامی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار کے مطابق صدر عارف علوی 12 مارچ کے اجلاس کے لیے کسی ایک سینیٹر کو صدر نشین مقرر کریں گے وہ اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔ حروف تہجی کے حساب سے ہر سینیٹر آ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرے گا۔ نو منتخب چیئرمین سینیٹ سے صدر نشین حلف لیں گے جس کے بعد نو منتخب چیئرمین سینیٹ ایوان بالا کے اجلاس کی صدارت کریں اور اسی ترتیب سے پھر ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔
خیال رہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی میں سے کوئی بھی 51 ووٹ حاصل نہ کر سکا تو پھر یہ چناؤ از سر نو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ کوئی امیدوار واضح اکثریت یعنی کم از کم 51 فیصد ووٹ حاصل نہ کر لے۔ قومی اسمبلی کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری طاہر حنفی نے بتایا کہ قواعد، ضابطہ کار اور انصرام کارروائی سینیٹ کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کی صورت میں ایک امیدوار کو ایوان کے اراکین کی مجموعی تعداد کی اکثریت یعنی کم از کم 51 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔ اگر کوئی امیدوار بھی مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا تو اس صورت میں بغیر کسی وقفے کے ان کے درمیان اس وقت تک از سر نو خفیہ رائے شماری کرائی جاتی رہے گی جب تک ان دو میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں ذیادہ ووٹ حاصل نہیں کر لیتا۔ طاہر حنفی کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ نمبر گیم کی پریشان کن صورتحال کو دیکھ کر دونوں امیداوار ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو زیادہ سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہو جائے۔
خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی اس وقت ہر ایک پارٹی اور ہر ایک امیدوار سے رابطہ قائم کر کے ان سے حمایت کی درخواست کر رہے ہیں۔ اگرچہ وفاقی وزیر علی زیدی نے یوسف رضا گیلانی پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ سینیٹر منتخب ہونے کے لیے ووٹوں کی بھیک مانگ رہے ہیں، مگر اس وقت خود حکومتی امیدوار صادق سنجرانی بھی کوئی ایسا دروازہ نہیں چھوڑ رہے ہیں جہاں وہ دستک نہ دے رہے ہوں۔ سنجرانی نے تو اپوزیشن کی جانب سے نامزد کردہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار عبدالغفورحیدری کو بھی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کی پیشکش کر دی۔ یپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ گجرات کے چوہدریوں کے گھر کا بھی رخ کیا۔ بھٹو خاندان کے کسی فرد کی طرف سے یہ کئی دہائیوں بعد گجرات کے چوہدریوں کو میزبانی کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اگرچہ ق لیگ کے پاس اس وقت سینیٹ میں ایک ووٹ ہے مگر ان انتخابات میں ایک ایک ووٹ ہی کسی امیداوار کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت اور ریاست کے امیدوار کی کامیابی کے لیے سر توڑ کوششیں اپنی جگہ مگر اب ایک نظر جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے مؤقف پر کہ وہ اس بار کس کی حمایت یا مخالفت کریں گے اور کن شرائط پر وہ ایسا کریں گے۔ جماعت اسلامی ایک ووٹ کے ساتھ اس وقت خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ پہیلی بھی سلجھانا اہم ہے کہ آخر جماعت اسلامی کپتان حکومت کے ساتھ ہے یا پھر اسکا دل اپوزیشن کے ساتھ دھڑکتا ہے؟ جب یہ سوال جماعت اسلامی کے دو سینیئر رہنماؤں سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ سینیٹ انتخابات کے تناظر میں یہ تھوڑا مشکل سوال ضرور ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نہ صرف حکومت کی سخت ناقد ہے بلکہ وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی برابر کی حصہ دار ہیں۔ تاہم ایک رہنما نے یہ بتایا کہ وہ ذاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت کو سینیٹ میں ووٹنگ میں ضرور حصہ لینا چائیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ جماعت اسلامی ماضی میں خیبر پختونخوا تحریک انصاف کی اتحادی رہی ہے مگر اس وقت جماعت کی ہمدریاں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ ہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کی پارٹی اس بار اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرے گی۔ ان کے مطابق اگر جماعت اسلامی کا اس بار چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹ اہمیت اختیار کر گیا ہے تو اس بدلتی صورتحال کو جماعت کی قیادت ضرور زیر غور لائے گی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے سینیٹ انتخاب کے لیے اتحاد کیا تھا۔ دونوں جماعتوں نے ماضی کے انتخابات میں بھی ایک دوسرے کی حمایت کی۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اے این پی کی حمایت سے ایوان بالا تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ کے مطابق ایک بات بڑی واضح ہے کہ ان کی جماعت کسی صورت حکومتی امیدوار کی حمایت نہیں کرے گی تاہم یوسف رضا گیلانی کی حمایت سے متعلق فیصلہ مرکزی مجلس عاملہ نے کرنا ہے۔۔ یہ ایک ایسا تنظیمی ڈھانچہ ہوتا ہے جو مرکزی شوریٰ کے قائم مقائم ادارے کے طور پر فوری فیصلے کرتی ہے۔ سابق صوبائی وزیر کے مطابق اگر ماضی کی طرح صادق سنجرانی طرز کا انتخاب نہ ہوا تو پھر ان انتخابات میں اپوزیشن کی اکثریت واضح ہے۔ اے این پی کے زاہد خان نے بتایا کہ اے این پی مکمل طور پر اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہے۔ انکے مطابق اے این پی نے پی ڈی ایم کے مشاورتی اجلاس میں بھی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔ ‘ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں اور جو فیصلہ پی ڈی ایم نے کرنا ہے، وہ ہمارے قابل قبول ہو گا۔‘
اگر حکومت اور اس کے اتحادیوں کی پارلیمان کے ایوان بالا میں ووٹوں پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت تحریک انصاف کی سربراہی میں حکومتی اتحاد کو کل 48 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ ان میں تحریک انصاف کے 26 سینیٹرز ہیں جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ کے سینیٹرز کی تعداد 13 بنتی ہے۔ حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے سینیٹرز کی تعداد تین بنتی ہے جبکہ ق لیگ اور جے ڈی اے کے پاس ایک ایک ووٹ ہے۔ حکومت کو قبائلی علاقوں کی صوبائی حکومت میں شمولیت سے قبل فاٹا سے آزاد حیثیت سے منتخب ہو کر آنے والے چار میں سے تین سینیٹرز کی بھی حمایت حاصل ہے۔ خیال رہے کہ یہ سینیٹرز فاٹا کی خصوصی حیثیت ختم ہونے سے قبل منتخب ہوئے تھے اور ان کی مزید تین سال کی مدت ابھی باقی ہے۔ بلوچستان سے تحریک انصاف اور باپ کی حمایت سے آزاد حیثیت سے سینیٹر منتخب ہونے والے عبدالقادر نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جن پر یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے کہ وہ پیسے کے زور پر سینیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تاہم ہو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ خیر اس وقت حکومتی اتحاد کے پاس عبدالقادر کو ملا کر کل 48 ووٹ بنتے ہیں۔ اگر کوئی ووٹ اِدھر اُدھر نہ ہو اور جماعت اسلامی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے تو پھر ان اعدادوشمار کو تو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ 51 ووٹ لے کر یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینٹ منتخب ہو جائیں گے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے بائیکاٹ کی صورت میں اگر دیگر ووٹر اپنے اتحاد کے ساتھ وفادار رہتے ہیں تو پھر کوئی امیدوار بھی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ از سر نو انتخاب میں جماعت اسلامی اگر بائیکاٹ ختم کر کے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے تو پھر وہ چیئرمین سینیٹ کے منصب تک پہنچ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button