امریکہ اور پاکستان میں فاصلے تیزی سے مٹنے لگے

اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اب امریکہ اور پاکستان کے مابین پائی جانے والی دوریاں اور فاصلے مٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس کا ایک بڑا ثبوت پاکستانی ایف 16 طیاروں کیلئے 45 کروڑ ڈالر کی امریکی امداد کا اعلان ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہونے لگے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو دیئے گئے ایف 16 طیاروں کی دیکھ بھال، آلات کی خریداری اور سروسز کیلئے 45 کروڑ ڈالر امداد جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے، یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے ماضی کی طرح امریکہ سے ایف 16 طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کو برقرار رکھنے کی تحریری درخواست کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ جولائی 2019 میں امریکی محکمہ دفاع نے پاکستان کو ایف 16 جنگی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا، یہ سلسلہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی جاری تھا، امریکی ساختہ ایف سولہ طیارے پاکستان کی فضائی جنگی صلاحیت کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ پاکستان کے پاس مجموعی طور پر 85 ایف سولہ طیارے ہیں جن میں سے 66 پرانے بلاک 15 طیارے ہیں اور 19 جدید ترین بلاک 52 ہیں۔ یہ طیارے امریکی ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم کی نگرانی میں ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے جنگی طیاروں سمیت مختلف قسم کا اسلحہ اور جنگی سازو سامان امریکہ سے خریدتا رہا ہے، پاکستان یہ جنگی سازو سامان نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ میں استعمال کرتا رہا ہے بلکہ مشرقی سرحد کی حفاظت کے لیے بھی اسی پر انحصار کرتا ہے۔
پاکستان نے امریکہ سے ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاہدہ روسی اور افغانی طیاروں کے مقابلے کیلئے کیا، کیونکہ سویت یونین اور افغان طیارے ترتیب وار سرحد پار کر کے مجاہدین کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بناتے تھے۔ 1986 سے 1990 کے دوران پاکستانی ایف سولہ طیاروں نے کم از کم 10 افغان اور روسی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ٹرانسپورٹ طیارے مار گرائے تھے۔ 1990 میں امریکہ نے 28 ایف سولہ طیارے پاکستان کو دینے سے انکار کر دیا جس کیلئے پاکستان 658 ملین ڈالر کی رقم ادا کر چکا تھا اگرچہ امریکہ نے آخر کار یہ رقم واپس کر دی تھی، اسلام آباد نے امریکہ کو ایک قابل اعتبار اتحادی کے طور پر شک سے دیکھنا شروع کر دیا اور تحفظات پیدا ہوئے تھے۔
تاہم نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو 18 جدید ترین بلاک 52 ایف سولہ طیارے دینے پر اتفاق کیا جس کی لاگت تقریباً 1.4 ارب ڈالر تھی۔ پاکستان کے 52 پرانے ماڈل کے ایف سولہ طیاروں کی اپ گریڈیشن کٹس بھی دی گئی تھیں اور یہ ساز و سامان ملنے کے بعد ایف سولہ طیارے بلاک 52 قسم کے طیاروں کے ہم پلہ ہو گئے تھے۔
2016 میں پاکستان کی جانب سے امریکہ سے مزید ایف 16 طیارے خریدنے کے لیے مالی امداد کی درخواست امریکی کانگریس کی جانب سے رد کر دی گئی تھی، خیال رہے کہ کارگل جنگ کے دوران پاکستانی ایئر فورس کو پوری طرح فعال نہیں کیا گیا تھا تاہم 2019 میں انڈین ایئر فورس کی بالاکوٹ میں سرجیکل سٹرائک کے دوران پاکستان ایئر فورس نے انڈین ‘مِگ’ طیارہ مار گرایا تھا لیکن آج تک یہ شک کیا جاتا ہے کہ اس آپریشن میں ایف سولہ جہاز استعمال ہوئے تھے، پاکستان اس الزام سے انکار کرتا ہے جبکہ انڈیا واویلا کرتا ہے کہ پاکستان نے امریکی ساختہ ایف سولہ طیارے اس کارروائی میں استعمال کیے تھے۔
