عمران نے معافی مانگی تو جج مشکل میں کیوں پھنس جائیں گے؟

عدالتی امور کے ماہر سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے کہا ہے کہ عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ججز نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح کپتان بلا مشروط معافی مانگ لے لیکن ایسا نہ ہو پایا اور یوں عدالت فرد جرم عائد کرنے پر مجبور ہو گئی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب اگر 22 ستمبر کو عمران خان نے ممکنہ سزا اور نااہلی سے بچنے کے لئے غیر مشروط معافی مانگ لی تو ججز کے لئے انکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی جاری رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ توہین عدالت پر معافی مانگنے کی قانونی گنجائش اب بھی موجود ہے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ معافی مانگنے کی گنجائش ہر لمحہ موجود رہتی ہے لیکن دوسری جانب قانونی ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسی عدالتی کارروائی کے دوران عمران اور ان کے وکلاء کو بار بار یاد دلایا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہمیشہ ہائی کورٹ پر بائنڈنگ ہوتے ہیں اور ماضی میں سپریم کورٹ تین سیاستدانوں کو توہین عدالت پر نااہل قرار دے چکی ہے حالانکہ انہوں نے بلا مشروط معافی بھی مانگ لی تھی۔
نیا دور کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس پانچ منٹ کا کیس تھا، اس کا نوٹس لینا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فرض تھا، آج جہاں صورتحال پہنچی ہے اس کی وجہ خان صاحب کی انا ہے، انہیں چاہئے تھا کہ پیچھے ہٹ کر معافی مانگ لیتے لیکن انہوں نے ججوں کو گنجائش ہی نہیں دی حالانکہ عدالت نے انہیں پوری گنجائش دی، اس سے زیادہ عدالت یہی کر سکتی تھی کہ خود ہی خان صاحب سے معافی مانگ لیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اگر 22 ستمبر کو عمران خان نے عدالت سے معافی مانگ لی تو وہ مشکل میں پھنس جائے گی کیونکہ فرد جرم عائد کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔
بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں تین لیگی رہنماؤں نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو توہین عدالت کے کیسز میں بلا مشروط معافی مانگنے کے باوجود نااہل قرار دیا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی عدالت کی جانب سے دو ہفتوں بعد 22 ستمبر کو توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ماضی میں ایسے کیسز میں بڑی تیزی سے کارروائی کی گئی، اگر عدالت نے اب بھی عمران خان کے لیے گنجائش پیدا کرنی ہے اور انہیں ڈھیل دینی ہے تو پھر توہین عدالت کا سووموٹو نوٹس نہیں لینا چاہئے تھا۔
پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے عدالتی رپورٹنگ کے ماہر صحافی سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں عمران خان کے لیے معاملہ کافی حد تک سنگین ہو چکا ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی گفتگو کے دوران میں نے خان صاحب سے سوال کیا کہ حامد خان نے بتایا ہے کہ شو کا نوٹس کا جو جواب انہوں نے لکھ کر دیا تھا آپ نے اس پر دستخط نہیں کیے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ میں تو عدالت کے سوالات کے جواب دینا چاہتا تھا لیکن مجھے موقع ہی نہیں دیا گیا۔ یاد رہے کہ توہین عدالت کی فرد جرم عائد ہونے کے فیصلے کے بعد رات گے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جس ملک میں عدلیہ آزاد نہیں ہوتی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل پاکستان عرفان قادر کا کہنا ہے کہ اب مجھے عمران خان کا بچنا بہت مشکل نظر آتا ہے کیونکہ توہین عدالت کی فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور عموما اگر ایسے کیسز میں بلا مشروط معافی مانگ بھی لی جائے تو معافی نہیں دی جاتی کیونکہ معافی دل سے مانگی جاتی ہے اور سزا سے بچنے کے خوف سے نہیں۔
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ توہین عدالت پر نااہلی کی چار عدالتی مثالیں تو ہمارے سامنے ہیں جن میں بلا مشروط معافی مانگنے کے باوجود معافی نہیں دی گئی، انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کا کیس ہمارے سامنے ہے جن کو عدالت نے آصف زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر نا اہل کیا۔ اس کے علاوہ نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو بھی توہین عدالت پر عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا حالانکہ کہ انہوں نے بلا مشروط معافی مانگی تھی۔
عرفان قادر نے کہا کہ یہ سب فیصلے سامنے رکھیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے عمران کی جانب سے معافی مانگنے کی صورت میں بھی معاف کرنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی معاونین نے ٹھیک کہا کہ توہین عدالت کا قانون ہونا ہی نہیں چاہیے لیکن جب یہ قانون موجود ہے اور لوگوں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں تو پھر عدالت کے لیے عمران کو چھوڑنا کافی مشکل ہوگا۔
