امریکہ مخالف عمران خان کا پرو امریکہ سکینڈل بے نقاب


امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگانے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف امریکہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تین مختلف امریکی لابنگ فرموں سے معاہدے کر چکی ہے جن میں سے ایک فرم کے سربراہ رابرٹ لارنٹ گرینیئر مشرف دور میں پاکستان میں سی آئی اے سٹیشن چیف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے جس امریکی فرم کے ساتھ 2022 میں تیسرا معاہدہ کیا اس پر واشنگٹن میں تعینات رہنے والے سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسد مجید خان نے وہ بدنام زمانہ خط لکھا تھا جسے عمران خان نے امریکی خط قرار دے کر اپنی فراغت کا الزام امریکہ پر عائد کر دیا تھا۔ تاہم بعدازاں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اسد مجید خان نے فوجی قیادت کی موجودگی کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ان کی جانب سے لکھے گئے خط میں نہ تو کسی امریکی دھمکی کا ذکر تھا اور نہ ہی کسی سازش کی نشاندہی کی گئی تھی جیسا کہ عمران دعویٰ کر رہے ہیں۔

ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کی ویب سائٹ پر موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق تحریک انصاف کے امریکی فرم سے ہونے والے آخری معاہدے پر اسد مجید خان نے 22 مارچ 2022 کو دستخط کیے تھے جب کہ عمران نے بطور وزیر اعظم اسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں اسد مجید کا لکھا ہوا سازشی خط چار روز بعد 27 مارچ 2022 کو لہرایا تھا۔ عمران کا موقف تھا کہ امریکہ نے پی ڈی ایم کی قیادت کے ساتھ مل کر انہیں اقتدار سے نکالنے کی سازش کی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب وہی عمران خان پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے ساتھ خفیہ رابطہ کرتے پکڑے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے امریکی لابنگ فرم کے ساتھ معاہدہ کا بنیادی مقصد امریکی انتظامیہ اور میڈیا میں اپنے لئے مثبت رائے عامہ پیدا کرنا تھا۔ اب معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کا کسی امریکی لابنگ فرم سے یہ کوئی پہلا معاہدہ نہیں تھا۔ پی ٹی آئی اس طرح کے کئی معاہدے کر چکی ہے جن کی ضرورت تب پیش آئی جب بائیڈن انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا۔ یاد رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے عمران خان حکومت کے تعلقات بہت بہتر تھے۔ جب صدر ٹرمپ کے دور میں بطور وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے انکی بہت آؤ بھگت کی تھی۔ امریکی دورے سے وطن واپسی پر عمران نے کہا تھا کہ انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ ایک مرتبہ پھر ورلڈ کپ جیت کر واپس آئے ہیں۔ تاہم، بائیڈن انتظامیہ کے ٹیک اوور کے بعد امریکہ اور عمران حکومت کے تعلقات میں سرد مہری آتی چلی گئی اور امریکی صدر عمران خان کی حکومت کے خاتمے تک پاکستانی وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کرنے سے بھی انکاری رہے۔

ایسے میں پی ٹی آئی نے اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لئے امریکی لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحریک انصاف نے جن امریکی فرمز کے ساتھ لابنگ کے لیے معاہدے کیے ان میں سے ایک کمپنی رابرٹ گرینیئر کی تھی جو کہ مشرف دور میں پاکستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سٹیشن چیف رہ چکے ہیں۔ یہ معاہدہ عمران خان کی جانب سے ان کے تب کے مشیر افتخار درانی نے کیا۔ اس معاہدے کے تحت رابرٹ گرینئیر کی کمپنی کو 25 ہزار ڈالرز ماہانہ مشاہرہ دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ دیگر فیس اور خرچے علیحدہ ادا کیے جانے تھے۔

سابق امریکی سی آئی اے چیف کی کمپنی کے ساتھ تحریک انصاف کے معاہدے کی مدت چھ ماہ تھی جو کہ مئی 2021 میں شروع ہوا اور دسمبر 2021 میں ختم ہوا۔ اس معاہدے کے صفحہ نمبر 6 پر افتخار درانی کے اسلام آباد کے گھر اور اس کمپنی کے امریکہ میں موجود دفتر کا پتہ موجود ہے۔

یاد رہے کہ رابرٹ گرینیئر 2001 میں پاکستان میں CIA کے سٹیشن چیف تھے جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا اور مشرف نے سرنڈر کر دیا تھا۔ یہ وہی دور ہے جب مشرف حکومت نے امریکی سی آئی اے کے دباؤ پر سینکڑوں پاکستانی اور افغان جہادیوں کو امریکہ کے حوالے کیا تھا اور اس کے عوض رقم منظور کی تھی جس کا اعتراف مشرف نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ رابرٹ گرینئیر بعد میں عراق میں بھی بطور سی آئی اے سٹیشن چیف تعینات رہے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک لابنگ فرم کھول لی جس کے ساتھ اب عمران نے بھی معاہدہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ جس زمانے میں یہ موصوف پاکستان میں تعینات تھے، عمران خان بھی مشرف کے پرجوش حامی اور افغانستان جنگ پر ان کا دفاع کیا کرتے تھے۔ عمران خان کو جنرل مشرف نے اپنا ایک کتا بھی بطور تحفہ دیا تھا۔ بعد ازاں مشرف سے تعلقات خراب ہوئے تو عمران نے افغانستان میں امریکی جنگ کی بھی بھرپور مخالفت شروع کر دی۔

امریکی قانون کے مطابق لابنگ کمپنیز کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام معاہدے پبلک کریں تاکہ حکومت اور عوام کو پتہ ہو کہ کونسی امریکی کمپنی کس غیر ملکی شخص یا ادارے کے لئے کام کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی فینٹن نامی ایک اور لابنگ فرم سے بھی تین معاہدے کر چکی ہے۔ پہلا معاہدہ جون 2021 میں کیا گیا جو کہ پاکستان کی طرف سے کونسل آن پاکستان ریلیشنز نے کیا۔ یہ ہیوسٹن میں واقع ایک کمپنی ہے جو محمد اشرف قاضی، عادل جمال اور اقبال عبداللہ نے بنائی تھی اور انہوں نے فینٹن کے ساتھ معاہدہ پاکستان کی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا۔ یہ معاہدہ بھی چھ ماہ کا تھا اور اس کی رقم بھی 25 ہزار ڈالر ماہانہ تھی۔

اس کے بعد اسی کمپنی کے ساتھ مارچ 2022 میں ایک اور معاہدہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی وقت تھا کہ جب عمران حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آ چکی تھی اور وہ امریکی انتظامیہ کو اپنے خلاف سازش کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ اس معاہدے پر 21 مارچ 2022 کی تاریخ درج ہے اور اس پر دستخط کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کے وہی سابق سفیر اسد مجید ہیں جنہوں نے ڈانلڈ لو سے ہونے والی گفتگو کا احوال بذریعہ بدنامِ زمانہ مراسلہ پاکستان بھیجا تھا۔ یہاں پتہ بھی پاکستان ایمبیسی کا دیا گیا ہے۔

اس معاہدے کے ختم ہونے سے پہلے ہی تحریکِ انصاف نے اسی کمپنی سے ایک اور معاہدہ کر لیا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پچھلے چھ ماہ اس کمپنی کو پیسے کس مد سے ادا کیے گئے اور اس دوران کی جانے والی لابنگ کس مقصد کے لئے ہو رہی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ لابنگ PTI کی ہو رہی تھی اور پیسہ حکومتِ پاکستان کے خزانے سے ادا ہو رہا تھا؟ اس معاہدے پر دستخط یکم اگست کو ہوئے ہیں اور یہ 21 اگست کے بعد سے نافذ العمل ہوگا۔ لگتا یہی ہے کہ پچھلے معاہدے کو ہی توسیع دے دی گئی ہے۔

Back to top button