ڈاکٹر ارسلان خالد ہیلی کاپٹرواقعے پرمنفی مہم کا سرغنہ نکلا

لسبیلہ ہیلی کاپٹر واقعے کے بعد پاک فوج کے شہدا کے خلاف سوشل میڈیا پرمنفی مہم چلانے والوں کو بے نقاب کرنے والی تحقیقات میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے مشہور زمانہ "ارسلان بیٹا” مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس زہریلی مہم کے تمام کرداروں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ان تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ادارے اور انٹیلی جنس بیورو کے علاوہ آئی ایس آئی کے افسران بھی شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج مخالف گھناؤنی مہم چلانے والوں سے تفتیش کے نتیجے میں ان کے سرپرستوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شہدا کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم میں کچھ انڈین اکاؤنٹس بھی استعمال کیے گئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس سوشل میڈیا مہم کا آغاز تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ نے کیا تھا جو ڈاکٹر ارسلان خالد کی زیر قیادت کام کرتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مہم شروع ہونے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس میں شامل ہوگئے جن میں سے 17 ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ پی ٹی آئی کے ٹرول بریگیڈ کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس کو ری ٹویٹ کر رہے تھے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس مہم میں شامل سیاسی جماعت کے کارکنوں کے ویڈیو بیانات پہلے ہی منظرعام پر آچکے ہیں، اس مہم کے پیچھے چھپے دیگر کرداروں اور ان کے ہینڈلرز تک بھی پہنچا جارہا ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ بھارتی اکاؤنٹس کے نام پر فوج مخالف ٹوئیٹر اکاؤنٹس پاکستان سے تو نہیں چل رہے تھے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اس مہم کا سربراہ ڈاکٹر ارسلان خالد تھا۔ لیکن زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ارسلان خالد کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی کابینہ میں شامل کروا دیا گیا ہے۔ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے ساتھ فون پر فوج کے خلاف غداری کا ٹرینڈ چلانے کا منصوبہ بناتے ہوئے پکڑے جانے والے "ارسلان بیٹا” کو پرویز الٰہی کا سپیشل اسسٹنٹ مقرر کر کے وزیر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ فیصلہ شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وہی شخص ہے جو عمران کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سے سوشل میڈیا پر آرمی چیف اور افواج پاکستان کے خلاف غداری کے ٹرینڈ چلواتا رہا ہے لہذا ایسے شخص کو دوبارہ کسی سرکاری عہدے سے نوازنا سراسر بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے۔ حکومت پنجاب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ تعیناتی عمران خان کے براہ راست احکامات پر ہوئی جس میں بشریٰ بی بی کی خواہش بھی شامل ہے۔ ارسلان خالد وزیر اعلیٰ پنجاب کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سپیشل اسسٹنٹ ہونگے لیکن وہ اپنے عہدے کا استعمال ماضی کی طرح عمران خان کی خواہش کے عین مطابق اداروں پر کیچڑ اچھالنے کے لیے کریں گے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ارسلان خالد کو 20 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد تنخواہ،الائونسز اور سرکاری مراعات بھی دیں جائیں گی۔
عمرانڈو بریگیڈ کے روح رواں قرار دیے جانے والے ارسلان عمران خان کے دور حکومت میں حکومت کے ڈیجیٹل میڈیا ترجمان کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔یاد رہے کہ 9 اپریل کو عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے اگلے ہی روز ارسلان خالد کے گھر گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا تھا لیکن انہوں نے عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ میں پناہ لے لی تھی اور بچ گئے تھے۔
ارسلان خالد کا نام ایک مرتبہ پھر تب منظر عام پر آیا تھاجب ان کی بشریٰ بی بی سے گفتگو کی آڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہوگئی۔ اس آڈیو میں بشری ٰبی بی ارسلان خالد کو "ارسلان بیٹا ” کہہ کر مخاطب کرتی رہیں اور مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا پر غداری کے فتوے سے بھرپور مہم چلانے کی ہدایت کرتی ہیں۔ اس آڈیو میں بشریٰ بی بی کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’خان صاحب نے آپ کو کہا تھا غداری کا ہیش ٹیگ چلانا ہے۔۔۔ آج کل آپ لوگوں کو بہت ایکٹیو ہونا چاہیے۔۔۔ ان سب کو غداری کے ساتھ لنک کرنا ہے اور کہنا ہے کہ یہ خود کو بچانے کے لیے غداروں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ غدار باہر کی قوتیں بھی ہیں اور وہ سب آپ کو پتا ہے۔۔۔ ٹرینڈ بنا دینا ہے کہ ان کو بھی پتا ہے کہ ملک اور خان کے ساتھ غداری ہو رہی ہے۔ بشریٰ بی بی نے مزید کہا کہ فرح کے بارے میں انھوں نے بہت گند اڑانا ہے۔ اسکو بھی آپ نے لنک کر دینا ہے اس بات سے کہ ہمیں پتا ہے غداری کون کر رہا ہے۔ دوسری طرف اس آڈیو میں ارسلان خالد کی آواز سنی جاسکتی ہے جو بشریٰ بی بی کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔
