امریکہ نے سوشل میڈیا سے قاسم سلیمانی کی حمایت میں لگی پوسٹ ہٹوا دیں

انسٹاگرام اور فیس بک نے امریکی پابندیوں پرعمل کرتے ہوئے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے حق میں لگائی جانے والی پوسٹیں ہٹادیں۔
اس حوالے سے ایرانی حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہےکہ وہ انسٹاگرام کے خلاف بطوراحتجاج قانونی کارروائی کا مطالبہ کریں جب کہ ایپ کے صارفین کے لیے سرکاری ویب سائٹ پر ایک پورٹل بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ کمپنی کی جانب سے ہٹائی جانے والی صارفین کی پوسٹوں کی مثالیں اس پورٹل پر پیش کی جاسکیں۔ انسٹاگرام ان چند مغربی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جس پرایران میں پابندی نہیں تھی جب کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر ایران میں پابندی ہے لیکن کچھ ایرانی وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے ان سائٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
ایرانی سوسرکھلاڑی علی رضا جہاں بخش کا انسٹاگرام کا ویری فائد اکاؤنٹ ہے، انہوں نے قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے کے بعد ان کی تصویر اپنے اکاؤنٹ پر شئیر کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹ انسٹاگرام کی جانب سے ہٹا دی گئی ہے۔دوسری جانب انسٹا گرام نے ایسی پوسٹیں بھی ہٹائی ہیں جن میں پابندیوں کی شکارجماعتوں اورافراد کی تعریف یا اور ان کی حمایت کی گئی ہو۔ ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربائی کی جانب سے ٹوئٹ پیغام میں کہا گیا کہ ’انسٹاگرام کی یہ حرکت غیر جمہوری ہے‘۔
خیال رہے کہ ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کو اپریل میں اس وقت بند کردیا گیا تھا جب امریکی حکومت نے آئی آر جی سی کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم نامزد کردیا تھا۔ اس حوالے سے فیس بک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم امریکی پابندیوں کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ امریکی قانون پر عمل کرتے ہوئے فیس بک ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایسے اکاؤنٹس جنہیں پابندی لگائی جانے والی تنظیموں کے ذریعے چلایا جارہا ہے وہ ان اکاؤنٹس کو بند کردیتی ہے۔
