امریکہ پر سازش کا الزام لگانے والا عمران امریکہ کے نعرے کیوں لگانے لگا؟

امریکی کانگریس کی طرف سے پاکستانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے مطالبے نے پاکستان میں نئی سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ جہاں ایک طرف تحریکِ انصاف اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے تو وہیں حکومت اسے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کا پاکستان پر کوئی اثر نہیں ہو گا کیوں کہ پاکستان اس پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہے۔تجزیہ کار وں کے مطابق امریکہ کی طرف سے قرار داد میں الیکشن بارے مختلف معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ نان بائندنگ قرارداد ہے اور اس کا پاکستان پر کچھ اثر نہیں ہے۔تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قرارداد اس موقع پر کیوں آئی ہے؟ اس حوالے سے تجزیہ کاورں کا کہنا ہے کہ امریکہ سمیت بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے اور ان میں سے زیادہ تر تحریکِ انصاف کی حمایت کرتے ہیں۔اُن کے بقول ان پاکستانی امریکی شہریوں نے آئندہ انتخابات میں امریکہ میں اپنا ووٹ بھی کاسٹ کرنا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف نے امریکہ میں لابنگ فرمز بھی ہائر کی ہیں۔ بیشتر ارکان کانگریس کو پاکستان کے انتخابی عمل، فارم 45، فارم 47 یا دیگر امور کا صحیح طریقے سے ادراک بھی نہیں ہو گا۔جبکہ سینئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ امریکی کانگریس میں آنے والی قرارداد پاکستان کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔اُن کے بقول اس قرارداد کے ذریعے موجودہ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو اس بارے میں سخت مؤقف اپنانا چاہیے۔’قرارداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کتنا فقدان ہے’ایسے میں کانگریس کی طرف سے ایسی قرارداد کا آنا پاکستان کے لیے مستقبل میں مشکل صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردِعمل آیا ہے جس میں امریکی قرارداد کو سیاق و سباق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کی دوسری بڑی پارلیمانی اور پانچویں بڑی جمہوریت ہے۔ ہم آئین، قانون کی حکمرانی اور اپنے قومی مفادات جیسی اقدار کے ساتھ مکمل وابستگی رکھتے ہیں۔پاکستان یکساں احترام اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر تعمیری گفت و شنید اور تعلقات آگے بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم ایسی قراردادیں نہ ہی تعمیری ہیں اور نہ ہی معروضی۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان نے پاکستان میں رواں برس ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی ‘مکمل اور آزادانہ’ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی جس میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں ہراسانی، دھمکیوں، تشدد، من مانی حراست، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن تک رسائی روکنے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے امریکی کانگریس کی قرارداد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسے ملک کی طرف سے آئی ہے جو پچھلی پوری صدی میں دنیا بھر میں جمہوری حکومتوں کے تختے اُلٹتا آیا ہے۔وزیرِ دفاع نے امریکہ میں 2016 اور 2020 کے صدارتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔جبکہ لیگی رہنما سینیٹر مصدق ملک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمارا ملک اتنا ہی خودمختار ہے جتنا امریکا ہے،امریکی کانگریش کی منظور کردہ قرار داد کی پاکستان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں،پاکستان سے الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ کیا کل کو پاکستان نے امریکی الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا تو پھر کیاہو گا؟تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی حنیف عباسی نے الزام لگایا ہے کہ تحریکِ انصاف نے امریکہ میں اپنی لابنگ فرمز کے ذریعے یہ قرارداد منظور کرائی ہے۔

امریکی کانگریس کی قرارداد کی پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی گونج سنائی دی۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بجٹ کارروائی کی وجہ سے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم دوسری طرف امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کا الزام عائد کرنے والی پی ٹی آئی امریکی قرارداد کی منظوری پر خوشی سے نہال نظر آئی۔تحریکِ انصاف کے ترجمان رؤف حسن کہتے ہیں کہ امریکی کانگریس کی قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا دھاندلی سے متعلق مؤقف درست ہے۔ حکومت سمجھ رہی تھی کہ امریکی حکومت ان کے ساتھ ہے۔ لیکن 368 ووٹوں کے ساتھ پاس ہونے والی اس قرارداد کے ساتھ سب کو پتہ چل گیا کہ ان کا ساتھ کوئی نہیں دے رہا۔

Back to top button