عالمی ادارہ صحت کے فنڈز روکنے پر ٹرمپ تنقید کی زد میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے عالمی ادارہ صحت یعنی WHO کے فنڈز روک دیے ہیں جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صدی کی بدترین عالمی وبا سے نمٹنے میں ناکامی اور دنیا بھر میں امریکہ میں سب سے زیادہ اموات ہونے پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر وہ مستقل اپنا غصہ عالمی ادارہ صحت پر نکال رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے ہفتے ٹرمپ اور عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا غصہ نکالتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے فنڈز کا اجراء روک دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے حوالے سے چین کی جانب سے فراہم کردہ غلط معلومات کو فروغ دیا جس سے یہ مہلک وبا کئی گنا بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت اپنے بنیادی فرض کی ادائی میں ناکام رہا ہے لہٰذا اسے ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے سلسلے میں شفافیت برقرار رکھنے میں بھی ناکام رہا اور میں اپنی انتظامیہ کو اسکے تمام فنڈز روکنے کی ہدایت کرنے لگا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ اور سنگین بدانتظامی میں عالمی ادارہ صحت کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا اور چیک کئا جائے گا کہ جو رقم عالمی ادارہ صت کو دی جاتی تھی اس کا کس طرح استعمال کیا گیا اور آگے کیسے چلنا چاہئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے طبی ماہرین کو چین بھیج کر اصل صورتحال کا جائزہ لینے کا اپنا فرض انجام دیا ہوتا اور چین کے فراہم کردہ کرونا کے اعداد شمار کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہوتے تو اس وائرس کا پھیلاؤ روک کر کئی ہزاروں افراد کو مرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ یہ ڈبلیو ایچ او کےوسائل میں کمی کا وقت نہیں، وائرس کا پھیلاؤ اور اس کے خطرناک نتائج کو روکنے کیلئے اب عالمی برادری کے ساتھ مل کر یکجہتی سے کام کرنے کا وقت ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا ڈونر ہے جس نے 2019 میں 400 ملین ڈالرز سے زائد کی رقم عطیہ کی تھی جو مجموعی بجٹ کا 15فیصد بنتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او پر تنقید کرتے ہوئے آسٹریلین وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے امریکی صدر سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور انکی تنقید کو کسی حد تک جائز قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ عالمی اداری صحت نے چین کو مکمل سپورٹ کرتے ہوئے وہ گوشت مارکیٹس کھولنے کی اجازت دی جہاں ذبح کیے جانے والے جانور فروخت کیے جاتے ہیں اور جہاں گزشتہ سال ووہان میں پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
یاد رہے کہ دنیا کی حالیہ تاریخ میں امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث ریکارڈ ہلاکتیں ہوئی ہیں جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ تنقید کی زد میں ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کا موقف ہے کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کی بنیادی طور پر ذمہ داری چین اور ادارہ عالمی صحت پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اس وبا کو روکنے کے لیے اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کیا۔
امریکا میں نیویارک شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک کم از کم 10ہزار افراد مر چکے ہیں۔ امریکا کی جانب سے فنڈز روکے جانے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان سمیت دیگر ممالک اور ماہرین نے خبردار کیا کہ فنڈز روکنے سے ادارے کی وائرس سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدترین بحران میں ہر گزرتے دن کے ساتھ صدر اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے عالمی ادارہ صحت، سیاسی مخالفین، چین، اپنے پیشرو کو ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں تاکہ اس حقیقت سے لوگوں کی توجہ ہٹا سکیں کہ ان کی انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے میں ناکام رہی اور اب اس سے ہزاروں امریکی انسانی جانوں کا ضیاں ہو رہا ہے۔
امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو غلط سمت میں خطرناک قدم قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کووڈ-19 کو شکست دینے میں کوئی مدد نہیں ملے گی اور انہیں اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button