انتہا پسندی کا ٹک ٹک کرتا ٹائم بم کب پھٹنے والا ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے حکومتی معاہدے کو ریاست کی شکست قرار دیئے جانے کے بعد اس معاہدے کی اخلاقی حیثیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ فواد چوہدری نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ریاست انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں اور اسی لیے تحریک لبیک کا مقابلہ کرنے کی بجائے ریاست کو اسکے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اہم بات یہ ہے کہ فواد چوہدری نے اس معاملے پر ریاست کے پیچھے ہٹنے کی بات کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شاید حکومت اس معاملے پر سٹینڈ لینا چاہتی تھی لیکن ریاستی اداروں کی جانب سے ہاتھ کھڑے کر دینے کے بعد اس کے پاس سرنڈر کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ تاہم وفاقی وزیر نے واضح وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی وہ ٹائم بم ہے جو ٹک ٹک کر کے بج رہا ہے اور کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان لبیک کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بجائے انتہا پسندوں کیخلاف سخت کارروائی کرنا چاہتے تھے لیکن قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس تجویز کی مخالفت کی جس کے بعد حکومت کو پیچھے ہٹتے ہوئے نہ صرف لبیک پر عائد پابندی ختم کرنا پڑی بلکہ سعد رضوی کو بھی رہا کرنا پڑ گیا۔ ان حکومتی فیصلوں نے نہ صرف ریاست پاکستان کی رٹ کا کباڑہ کر دیا ہے بلکہ تحریک لبیک کی طاقت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ حکومتی معاہدے کے منفی اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پہلے سے ہی ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کا سامنا ہے اور اسے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے انتہا پسند تنظیموں کے خلاف سخت کارروائیوں کا ہدف دیا گیا تھا، لہذا ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ معاہدہ اور اس سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر مرتبہ ایسے معاہدوں کے لیے فوج یا اس کے خفیہ اداروں کو کھلی یا درپردہ مداخلت کرنا پڑتی ہے اور ہر مرتبہ حکومت وقت اپنے موقف سے پیچھے ہٹتی ہے۔ یوں ہر بار تحریک لبیک اپنے ’مطالبات‘ منوانے میں کامیاب ہو جاتی یے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومتی وزیر نے اخلاقی جرات دکھاتے ہوئے اپنی پسپائی کو اس طرح کھلم کھلا تسلیم کیا ہے جیسے فواد چوہدری نے کہا ہے۔
یاد رہے کہ 18 نومبر کو ایک تقریر میں فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ’سچی بات تو یہ ہے کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی ریاست انتہا پسندی سے مکمل طور پر لڑنے کے لیے اتنی تیار ہے جتنی ہونی چاہیے تھی۔ ٹی ایل پی کے کیس میں ہم نے دیکھا کہ ریاست کو کیسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ عمل انتہا پسندی کے اس بم کی نشاندہی کرتا ہے جو ٹِک ٹِک کر کے بج رہا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا کہ جو ریاست قانون کا نفاذ نہیں کر سکتی، اُس کے وجود پر سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں آپ خانہ جنگی کیطرف بڑھتے جائیں گے۔۔۔‘ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں فواد نے کہا کہ ہمارے ہاں انتہا پسندی کی بڑی وجہ مدارس نہیں، سکولز ہیں، 80 اور 90 کی دہائی میں سکولز اور کالجز میں انتہا پسندی کی تعلیم دینے والے اساتذہ بھرتی کیے گئے، اور اسی لیے پاکستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات میں مدارس کے نہیں بلکہ بڑی یونیورسٹیوں کے سابق طالب علم ملوث پائے گئے۔ لہذا ہمیں یورپ اور امریکہ سے نہیں، کہ اپنے آپ سے خطرہ ہے۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ایک نظریے کے سوا دوسری کسی بھی نظریے یا سوچ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام توازن اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔ فواد نے کہا کہ انتہا پسندی کا بیانیہ سوسائٹی نے خود ٹھیک کرنا ہے، مختلف نقطہ نظر ہوتے ہیں، انتہا پسندانہ نقطہ نظر بھی ہوتے ہیں، کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں نے فلاں حکومت کے ساتھ جنگ کرنی ہے، اسے آپ نہیں روک سکتے، لیکن اسے یہ اجازت بھی نہیں دی جا سکتی کہ بندوقیں اور کلاشنکوفیں لے کر حکومت پر چڑھ دوڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی نقطہ نظر رکھنا اور اسکی خاطر جنگ لڑنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ لیکن ریاست کا ایک ہی کام ہےکہ وہ یقینی بنائےکہ رائٹ آف وائلنس کسی گروپ کے پاس نہیں جائےگا، تاکہ سوسائٹی میں نقطہ نظر کا تنوع رہے، تنوع ہوگا تو انتہا پسندی بھئ نہیں ہو گی۔
یاد رہے کہ سعد رضوی کو 12 اپریل کے روز اپنے ورکرز کو احتجاج اور تشدّد پر اکسانے جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان کی رہائی 31 اکتوبر کو حکومتِ پاکستان اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ لیکن نہ تو یہ تحریک لبیک کا پہلا احتجاج تھا اور نہ ہی حکومتِ کا اس تنظیم سے یہ پہلا معاہدہ۔ اپنی چھ برس کی سیاسی عمر میں مختلف مطالبات منوانے کے لیے تحریک لبیک سات مرتبہ اسی نوعیت کے احتجاج منظم کر چکی ہے۔ ہر مرتبہ ان احتجاجوں نے پُرتشدد شکل اختیار کی اور ان کا اختتام ہر بار حکومتِ وقت سے کسی نہ کسی معاہدے پر ہوا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس ’نومولود‘ تحریک نے اتنی سی مُدّت میں اتنی بڑی عوامی طاقت کیسے حاصل کر لی اور ملک کی اس پانچویں اور پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی قوت سمجھی جانے والی اس تنظیم کی بے مثال مقبولیت کا راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بڑا آسان ہے اور وہ یہ کہ یہ سب ہماری طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جو پاکستان کی اصل مالک ہے۔
