انفارمیشن کمیشن نے تحفوں پر کپتان کا مؤقف رد کر دیا


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سرکاری توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف اور ان کی قیمت بتانے سے انکار پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن نے کابینہ ڈویژن کے موقف کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ ایسی انفارمیشن حساس یے اور اس کے پبلک ہونے سے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہو سکتے ہیں؟
انفارمیشن کمیشن نے وزیر اعظم کے کے ایماء پر دیا گیا کابینہ ڈویژن کا یہ موقف بھی مسترد کیا ہے کہ ایسی انفارمیشن باہر آنے سے میڈیا میں سنسنی پھیلے گی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ سنسنی آدھے سچ یا آدھے جھوٹ سے پھیلتی ہے جبکہ مکمل اور مصدقہ معلومات کے پبلک ہونے سے نہ تو میڈیا میں سنسنی پھیلتی ہے اور نہ ہی عوامی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان جنم لیتا ہے۔ انفارمیشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مصدقہ معلومات کی فراہمی سے توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف اور عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کی جانب سے انہیں اپنے پاس رکھنے کیلئے دی گئی قیمت بارے معلومات جاری ہونے سے تمام افواہیں دم توڑ جائیں گی۔ لہذا توشہ خانہ سے تحفوں بارے مانگی گئی تمام معلومات فوری طور پر فراہم کی جانی چاہیئں تاکہ اس معاملے میں شفافیت قائم ہو سکے۔
یاد رہے کہ تحائف کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کے بعد سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہیں جنم لے رہی ہیں کہ وزیراعظم تفصیلات اس لیے نہیں بتانا چاہتے کہ ان کے خاندان کی خواتین نے توشہ خانہ سے پانچ سو تولے سے زائد وزن کے سونے کے زیورات آدھی سے بھی کم قیمت پر حاصل کیے ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کہنا ہے کہ ماضی میں تو توشہ خانہ کے تحائف 15 فیصد قیمت پر دے دیے جاتے تھے جب کہ موجودہ حکومت نے ان تحائف کی قیمت 50 فیصد کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے وزیراعظم کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وفاقی حکومت سے کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ ’’تحائف کس نے دیے‘‘ بلکہ حکومت نے خود ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرکے توڑ مروڑ کر یہ بیان جمع کرایا کہ تحائف کے متعلق معلومات افشاء کرنے سے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نقصان ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ توشہ خانہ کیس تب ایک بڑا تنازع بن گیا جب حکومت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اُس فیصلے کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس میں کمیشن نے فیصلہ دیا تھا کہ وزیراعظم کو مختلف سربراہانِ مملکت اور سربراہانِ حکومت کی جانب سے دیے گئے قیمتی تحائف کی تفصیلات دی جائیں۔حکومت نے اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کو ’’خفیہ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ ایسے تحائف کی تفصیلات افشاء ہونے سے میڈیا میں غیر ضروری افراتفری پھیلے گی جس سے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہو سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شہری نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا تھا کہ ان تحائف کی تفصیلات بتائی جائیں جو وزیراعظم نے اپنے پاس رکھ لیے ہیں؛ اس نے وزیر اعظم کو تحائف دینے والی غیر ملکی شخصیات اور ممالک کے نام نہیں پوچھے تھے بلکہ صرف یہ پوچھا تھا کہ وزیراعظم کو کتنے تحائف ملے اور انہوں نے کتنے اپنے پاس رکھے ہیں۔ انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق، کابینہ ڈویژن سے رابطہ کرکے یہ سوالات پوچھے گئے تھے: ۱) وزیراعظم کو 18؍ اگست 2018ء سے 31؍ اکتوبر 2020ء تک غیر ملکی سربراہانِ حکومت اور سربراہانِ مملکت سے کتنے تحائف ملے؟
۲) وزیراعظم کو ملنے والے تمام تحائف کی مکمل تفصیل (اسپیسی فکیشن) کیا ہے؟
۳) جتنے تحائف ملے ان میں سے وزیراعظم نے اپنے پاس کتنے رکھے ہیں؟
۴) جتنے تحائف وزیراعظم نے اپنے پاس رکھے ہیں ان کی تفصیلات (اسپیسی فکیشن، ماڈل، مارکیٹ میں قیمت) کیا ہے اور یہ تحائف اپنے پاس رکھنے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے قواعد و ضوابط کے مطابق قومی خزانے میں کتنی رقم جمع کرائی ہے؟
۵) تحائف کی رقم جو وزیراعظم عمران خان نے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے وہ کس بینک اکائونٹ میں جمع کرائی گئی ہے، اس اکائونٹ کا ہیڈ آف اکائونٹ اور اکائونٹ نمبر بتایا جائے؟
ان سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کابینہ ڈویژن نے ایسی معلومات کو خفیہ قرار دے دیا تھا۔ یہ معاملہ اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جا چکا ہے جہاں حکومت نے نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ تاہم انفارمیشن کمیشن نے کابینہ ڈویژن کا مطلوبہ ریکارڈ دینے سے انکار مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس شہری نے یہ سوالات پوچھے ہیں اسے مانگی گئی معلومات دی جائیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سرکاری امور چلانے کیلئے شفافیت ضروری ہے۔ غیر ضروری رازداری سے کرپشن پیدا ہوتی ہے جس سے عوام کے مفادات کو نقصان ہوتا ہے، جبکہ مصدقہ خبر کے نتیجے میں میڈیا میں غیر ضروری سنسنی نہیں پھیل پاتی۔ انفرمیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریکارڈ اور درست اعداد و شمار کی بنیاد پر جاری کی جانے والی معلومات کے نتیجے میں کیسے دوسرے ملکوں سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں؟
تاہم وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے توشہ خانہ کے تحائف بارے معلومات فراہم کرنے کا انفارمیشن کمیشن کا حکم نامہ حکم غیر قانونی اور بغیر قانونی اختیار کا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی کے دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ کے مختلف تحائف کم قیمت یا بغیر قیمت ادا کیے اپنے قبضہ میں رکھنے پر نیب کے ریفرنس قائم کیے گئے ہیں جو اس وقت بھی زیرِ سماعت ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیل نہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت ماضی میں جن کاموں پر پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے وہی کام اب خود کر رہی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مانگی گئی انفرمیشن چھپانا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نے کچھ غلط ضرور کیا ہے۔

Back to top button