مقبوضہ کشمیر کا یکطرفہ فیصلہ کر کے بھارت نےتعلقات خراب کیے

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر یکطرفہ فیصلے کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، اگر بھارت اگست 2019 کا یکطرفہ فیصلہ واپس لے تو تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انڈیا کے کشمیر پر یک طرفہ فیصلے نے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی بلکہ بات چیت کے لیے گنجائش کو ختم کر دیا۔
ان کے مطابق اب دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا بات چیت کے لیے سازگار ماحول بنائے تو ایک دستاویز بھی بن سکتی ہے جس پر دونوں فریقین دستخط کرسکتے ہیں تاہم اب ایک بھروسے کی فضا کی کمی ہے جس میں دو طرفہ بات چیت کا اگر آغاز بھی ہوجائے تو یہ ممکن ہے کہ اس کی خلاف ورزی ہوگی۔‘
انڈین ہم منصب سے ہاتھ ملانے پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور جے شنکر نے مخصوص انداز جو کہ ’سندھ میں بھی‘ رائج ہے اس میں سلام اور مصاحفہ کیا۔انڈین ہم منصب سے ہاتھ ملانے پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور جے شنکر نے مخصوص انداز جو کہ ’سندھ میں بھی‘ رائج ہے اس میں سلام اور مصاحفہ کیا، انڈین ہم منصب کا ان سے اور دیگر وزرائے خارجہ سے ملنے کا ایک ہی انداز تھا اور اس میں کوئی تفریق نہیں تھی۔
انہوں نے کہ 2026 میں پاکستان ممکنہ طور پر ایس سی او کے اجلاس کی ’کامیاب‘ میزبانی کرے گا اور امید ہے کہ انڈین وزیر خارجہ اس میں شرکت کریں گے۔دونوں ممالک کی زیادہ تر عوام امن کی خواہاں ہے۔ ہم اپنی تاریخ خود بنائیں گے۔
دہشت گردی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے انڈیا کے کہنے پر نہیں لڑ رہا بلکہ اس لیے نمٹ رہا ہے کیونکہ پاکستان نے اس جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور وقت کی ضرورت ہے کہ اس مسئلے سے مشترکہ طور پر نمٹا جاسکے۔
اپنے اس دورے کو انہوں نے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن مقاصد کے لیے یہ دورہ کیا گیا وہ حاصل کر لیے گئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے جمعے کو کہا کہ غربت خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او کا پلیٹ فارم غربت کے خاتمے کے لیے قریبی تعاون کی ایک مضبوط مثال ہے۔ چین سے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانے کے حوالے سے سیکھا جا سکتا ہے۔ چین نے 40 سالوں میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا۔
انہوں نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غربت کے خاتمے کا آغاز کیا گیا، جس سے خواتین کو بااختیار بنایا گیا اور اس پروگرام پر ان کو فخر ہے، مشترکہ کوششوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ کر غربت کے مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موسمیاتی بحران انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ ہے اور دنیا مل کر کام کرے تو کرہٗ ارض کو موسمیاتی بحران کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اہم آواز بن کر ابھرا ہے۔
زرا سوچیں اس پیمانے کی تباہی (جو پاکستان میں ہوئی) اگر آپ کے ملک میں آئی ہوتی تو کیا ہوتا؟ اگر ایک تہائی انڈیا سیلابی پانی میں ڈوبا ہوتا تو صورت حال کیا ہوتی یا چین کا ہر سات میں سے ایک شخص راتوں رات موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاری کا شکار ہو جاتا۔ ہم بڑی قیمت پر اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کر رہے ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سفارتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار نہیں بنانا چاہئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے اپنے انڈین ہم منصب کی جانب سے سرحد پار ’دہشت گردی‘ کے بیان پر بظاہر رد عمل ظاہر کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’آئیے سفارتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار بنانے میں نہ الجھیں۔‘ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف علاقائی اور اقتصادی تعاون بلکہ عالمی امن و استحکام کی کنجی ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اپنے خطے کی عوام کی اجتماعی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر بڑی طاقتیں امن ساز کا کردار ادا کرتی ہیں تو ہم اپنے لوگوں کے لیے وسیع تر تعاون، علاقائی انضمام اور اقتصادی مواقع کی راہ ہموار کرتے ہوئے امن کے امکانات کو کھول سکتے ہیں۔‘نہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاستوں کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے خلاف ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو جو اہمیت دیتا ہے اس کا سی ایف ایم کے اجلاس میں میری موجودگی سے زیادہ زیادہ طاقتور اشارہ نہیں ہو سکتا۔اس سے قبل میزبان انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے افتتاحی تقریر میں کہا تھا کہ دہشت گردی کا عفریت بلا روک ٹوک جاری ہے اور اس لعنت پر نظر نہ رکھنا ان کے سلامتی کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
’ ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور اسے سرحد پار دہشت گردی سمیت اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں روکا جانا چاہیے۔دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کے چینل کو ضبط کیا جانا چاہیے اور بغیر کسی تفریق کے بلاک کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ارکان کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ایس سی او کے اصل مینڈیٹ میں سے ایک ہے۔اس اجلاس میں 15 نکات پر بات چیت کے بعد جولائی میں ہونے والے سربراہان مملکت اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی۔گذشتہ شب ثقافتی تقریب کے موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈین ہم منصب جے شنکر سے مصافحہ کیا تھا۔
مصافحہ وزارئے خارجہ کونسل کے شرکا کے اعزاز میں انڈین وزیر خارجہ کے عشائیے کے موقع پر کیا گیا لیکن دونوں کے درمیان ابھی تک الگ سے ملاقات نہیں ہوئی۔پاکستانی سفارتی حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ ’بلاول انڈین وزیر خارجہ کے ڈنر میں سب سے آخر میں پہنچے تو بلاول کے پہنچنے پر انڈین وزیر خارجہ نشست پر کھڑے ہوئے اور بلاول سے ہاتھ ملایا اور علیک سلیک کی۔ ماحول مکمل شنگھائی تعاون تنظیم کے اصول و ضوابط کے مطابق ہے کوئی ذاتی عناد ظاہر نہیں کیا گیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’انڈیا میں پاکستانی وفد کے لیے ابھی تک ماحول سازگار اور مثبت ہے۔ لیکن آج کا دن اہم ترین ہوگا جبکہ انڈین سفارتی حکام نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ ‘ہم چونکہ میزبانی کر رہے ہیں اس لیے چاہتے ہیں کسی بھی قسم کی ناخوشگواری نہ ہو۔گوا پہنچ کر پہلے دن وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی تین سائیڈ لائنز ملاقاتیں ہوئیں۔ جن میں روسی وزیر خارجہ، ازبکستان کے وزیر خارجہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل شامل ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ ’ملاقات میں دو طرفہ امور پر گفتگو ہوئی اس کے علاوہ علاقائی روابط کو بہتر بنانے پہ بات ہوئی۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈیا کے دو میڈیا ہاؤسز کو انٹرویو بھی دیے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ’وزیر خارجہ پاکستان نے ہر موضوع پر کھل کر بات کی بالخصوص دہشت گردی اور کشمیر پر واضح جوابات دیے اور پاکستان کا موقف بیان کیا۔اجلاس اور پاکستانی میڈیا سے گفتگو کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو جمعے کی سہ پہر واپس پاکستان روانہ ہوں گے۔
