کیا چیف جسٹس بندیال کی اپنی طلبی ہونے والی ہے؟

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حوالے سے بیان پر ملک کے کئی ‍‍‍‍قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کو طلب کریں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ آئینی اعتبار سے سب سے سپریم ادارہ ہے اور وہ کسی کو بھی طلب کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے تین مئی کو پارلیمنٹ میں ایک نکتہ اعتراض پر کہا تھا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو پارلیمنٹ میں طلب کر کے ان سے وضاحت طلب کی جانی چاہیے کہ انہیں اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ کیوں چاہیے؟شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر پر زور دیا کہ وہ اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ عدالت کو نہ دیں اور یہ کہ اسپیکر کو ایسا کرنے کے لیے اراکین کی منظوری درکار ہوگی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پارلیمنٹ اس قانون کے حوالے سے پارلیمنٹ کی کارروائی کا ریکارڈ بھیجے جو چیف جسٹس کے اختیارات کو کم کرنے کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔شاہد خاقان عباسی نے اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کی اختیار اور اقتدار اعلٰی کا سوال قرار دیا۔ ان کے اس موقف کی حمایت وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کی۔

شاہد خاقان عباسی کی اس شعلہ بیانی پر ملک کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی ایک پبلک ڈاکومنٹ ہوتا ہے اور اسے عدالت طلب کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا، ”عدالت نہ صرف پارلیمنٹ کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر سکتی ہے بلکہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران اگر کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی بات کی گئی ہے، تو وہ اس کو کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے۔ یہ اختیار اسپیکر کو بھی حاصل ہوتا ہے لیکن سپریم کورٹ کے پاس بھی یہ اختیار ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے آئین میں اختیارات کی تقسیم کا واضح فارمولا موجود ہے، جس کے تحت پاکستان کی سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قانون کا جائزہ لے اور یہ طے کرے کہ یہ قانون آئین کے خلاف ہے یا نہیں۔کچھ ممالک میں پارلیمنٹ کو بے تحاشہ اختیارات حاصل ہیں جیسے برطانیہ میں پارلیمنٹ کسی طرح کی بھی قانون سازی کر سکتی ہے لیکن پاکستان اور امریکہ کے آئین میں سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کا اختیار دیا گیا ہے۔

پاکستان میں چیف جسٹس اجمل میاں نے 90 کی دہائی میں نواز شریف کے دور میں بننے والی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے کر انہیں کالعدم قرار دے دیا تھا جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ اس طرح سپریم کورٹ کے خلاف دشنام طرازی کر کے خودمختار عدلیہ کے تصور پر ضرب لگا رہے ہیں: ’’مغربی ممالک میں اراکین پارلیمنٹ یا کوئی بھی ادارہ عدالتوں کے خلاف اس طرح نہیں بول سکتا اور عدالتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے، وہ انتہائی مہذب طریقہ اختیار کرتے ہیں لیکن یہاں تو عدالت کی کھلم کھلا توہین کی جارہی ہے۔ جس پر توہین عدالت بھی لگ سکتی ہے۔‘‘

وکلاء برادری میں بہت سارے ایسے اراکین بھی ہیں جو اس مسئلے پر پارلیمنٹ کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں بہت سارے غیر آئینی کام عدالتوں نے ہی کیے ہیں۔ انہوں نےبتایا، ”جسٹس منیر نے آئین سے انحراف کر کے پاکستان کو توڑنے کی بنیاد رکھی۔ جسٹس انوار الحق نے بھٹو کو پھانسی دلوائی۔ ایک اور چیف جسٹس نے جنرل پرویز مشرف کو آئین میں تبدیلی کا اختیار دیا۔

امان اللہ کنرانی کا دعویٰ ہے کہ جب بھی ملک میں آمریت کو نافذ کیا تو عدالتوں نے ہمیشہ اس کو قانونی جواز فراہم کیا۔: ”موجودہ صورتحال میں یہ صاف نظر آرہا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے اختیارات پر ضرب لگانے کی کوشش کر رہی ہے اور اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ سیاست دان تو سر جھکا کر عدالتوں میں جاتے ہیں اور سر کٹوا کر واپس آتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ سپریم ہے اور تمام سرکاری ملازمین اس بات کے پابند ہیں کہ جب بھی پارلیمنٹ طلب کرے تو وہ حاضر ہوں۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے اس حوالے سے بتایا، ”سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گریڈ 22 کے ایک افسر ہیں۔ گریڈ 22 کے افسر روزانہ پارلیمنٹ کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ اس پارلیمنٹ میں چیف آف آرمی سٹاف اور کئی دوسرے اداروں کے سربراہ طلب کیے گئے ہیں، تو پھر چیف جسٹس کو طلب کیوں نہیں کیا جاسکتا۔‘‘سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ یہ صرف چیف جسٹس کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو رہے ہیں: ”اگر آپ سرکاری ملازم ہیں اور سرکار آپ کو پیسے دے رہی ہے تو آپ کو ان پیسوں کا حساب دینا ہوگا اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تمام حکومتی اداروں کے افسران اکثر اخراجات کے حوالے سے حساب کتاب دیتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کا رجسٹرار مسلسل کمیٹی کی توہین کر رہا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے کمیٹی کے مسلسل طلب کرنے کے باوجود عدم حاضری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ایک بار پھر رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر رکھا ہے جبکہ عدم پیشی پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنےکا عندیہ بھی دے دیا ہے تاہم اب دیکھنا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر سپریم کورٹ کے 10 سال کے مالی معاملات کا حساب دیتے ہیں یا دوبارہ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس پر حکم امتناعی جاری کیا جاتا ہے۔

Back to top button