آصفہ بھٹو میں بی بی شہید کی جھلک:سوشل میڈیا پر آصفہ زیر بحث

احتجاج، گرفتاریوں، رکاوٹوں اور جوابی اعلانات کے بعد بڑی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)نے ملتان میں بھرپور پاور شو کیا
ایسے میں پی ڈی ایم رہنماؤں کی جلسے کے مقام تک آمد اور راستے میں ان کے قافلوں کی سرگرمیاں مرکزی میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا پر زیربحث ہیں۔
اتحاد میں شامل تقریبا ہر جماعت کی قیادت اور کارکنان حصہ بقدر جثہ کے مصداق اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق مطالبات کو ہائی لائٹ اور حکومتی اقدامات کی مذمت کر رہے ہیں۔ جلسے سے کچھ دیر قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے گرفتار بیٹے کی رہائی اور دیگر اپ ڈیٹس بھی ٹائم لائنز پر نمایاں ہیں۔ایسے میں اہم سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والی ایک جواں سال خاتون کی مختلف تصاویر بھی کثرت سے شیئر کی جاتی رہیں۔ معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ ان کے جلسے سے خطاب سے قبل اور بعد میں صارفین ان میں ان کی والدہ کا عکس ڈھونڈتے رہے۔سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کی جو نئی اور پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر زیرگردش رہیں وہ ان میں کہیں محو سفر ہیں، کہیں خطاب کر رہی ہیں تو کہیں پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کے جلو میں نمایاں ہیں۔
whatsapp image 2020 11 30 at 6.05.11 pm
پاکستانی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے افراد اپنی سوشل میڈیا والز پر آصفہ بھٹو زرداری کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کی والدہ کو یاد کرتے رہے۔
owais tweet
کچھ صارفین نے سیاسی سرگرمیوں کے دوران آصفہ بھٹو زرداری کو دیکھا تو وہ ان میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شباہت محسوس کرتے رہے۔
shafaat tweet
ٹیلی ویژن میزبان ارشد شریف نے اپنی ٹویٹ میں ان کا ذکر کیا تو میدان سیاست میں آصفہ بھٹو زرداری کی آمد کو ’رکاوٹیں توڑنے‘ سے تعبیر کیا۔
arshad tweet
آصفہ اور ان کی والدہ سے متعلق یکساں پہلو زیربحث آئے تو کچھ صارفین نے ان کا لباس اور انداز ایک جیسا ہونے کا ذکر کیا تو کچھ مختصر لفظوں میں یہ کہہ کر اظہار مدعا کر گئے کہ ہم نے ’ایسا پہلے بھی دیکھا ہے‘۔
natasha tweet
ٹیلی ویژن میزبان اجمل جامی نے ملتان جلسے آصفہ بھٹو زرداری کے خطاب اور ان میں سابق وزیراعظم کی جھلک کا ذکر کیا تو جہاں سیاسی شخصیات کو ’دلیل کی کسوٹی‘ پر نہ پرکھا جانے والا رومانس کہا وہیں کسے پرانے جیالے سے یہ پوچھنے کا مشورہ بھی دیا کہ ’اسے آصفہ کی تقریر سن کر کیسا لگا‘۔
jami tweet
ملتان جلسے سے قبل حکومت و انتظامیہ کی جانب سے کبھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور کبھی دیگر وجوہات کی بنا پر پاور شو کی اجازت نہ دینے اور پی ڈی ایم کے بہرصورت ایسا کرنے کے اعلانات کے بعد بالآخر جلسے کی اجازت دیا جانا بھی گفتگو کا حصہ بنا۔ ٹیلی ویژن مبصر اور سینئر کالم نگار مظہر عباس نے اسی پہلو کو اپنی ٹویٹ کی بنیاد بنایا تو لکھا ’پی ڈی ایم کو آج کے جلسے کو نمایاں کرنے پر وزیراعلی پنجاب اور ان کی انتظامیہ کا شکرگزار ہونا چاہیے‘۔
mazhar tweet
بہت سے صارفین کو آصفہ میں ان کی والدہ دکھائی دیں تو کچھ ایسے بھی تھے جو معاملے کے دیگر پہلوؤں پر بات کرتے رہے۔ اپنی پروفائل کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر میڈیا کنسلٹنٹ غلام اکبر، آصفہ بھٹو کی سیاست میں انٹری کو مریم نواز کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سامنے آئے تو سوال کیا ’جو کچھ ہوا ہے اسی لیے تو نہیں ہوا؟‘
akbar tweet
دو سابق وزرائے اعظم کی بیٹیوں سے متعلق ٹیلی ویژن میزبان حامد میر کا ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل ٹائم لائنز پر زیرگردش رہا۔ ان سے منسوب جملوں کے مطابق مریم نواز اور آصفہ بھٹو زرداری میں خاصی دوستی ہے۔تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی آصفہ بھٹو زرداری کی ملتان جلسے میں شرکت اور خطاب کی اطلاع سب سے پہلے چند روز قبل اس وقت سامنے آئی تھی جب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری چونکہ قرنطینہ میں ہیں اس لیے آج آصفہ کی ملتان جلسے میں شرکت صرف بھائی کی نمائندگی تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا کو ان میں اپنی والدہ کا عکس دکھا تو دونوں کی مشترکہ عادات، انداز اور لباس تک زیر بحث رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button