آصف زرداری ، فواد چودھری کیخلاف 4 نومبر کو فیصلہ سنایاجائیگا

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری  اور وفاقی وزیر داخلہ فواد چودھری کی نااہلی کے لیے دائر درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ آئندہ سماعت 4 نومبر کو فیصلہ سنائے گی ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں نااہلی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کی ۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کےخلاف درخواست گزار خرم شیرزمان کی طرف سے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ فواہد چوہدری کیس میں بھی میں پیروی کروں گا جس کے لیے ان کے خلاف نااہلی کے لیے دائر درخواست کی کاپی چاہئے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے تو ہم کیوں یہ معاملہ دیکھیں؟درخواست گزار خرم شیر زمان کے وکیل نے کہا کہ میں ابھی میرٹ پر بات نہیں کروں گا، ابھی کیس سٹڈی کرنا ہے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ  کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ منتخب نمائندوں کیخلاف یہ عدالت درخواستیں کیوں سنے؟ یہاں سے فیصلہ ہو تو کہتے ہیں پولیٹیکل انجنیئرنگ کر رہے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ  نے  ریمارکس دیئے  کہ جب عوام سب جانتے ہوئے ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں تو ہم کیوں مداخلت کریں، دیگر فورم بھی موجود ہیں، پارلیمنٹ اختیارات کے باوجود خود کیوں احتساب نہیں کرتی  ہے ؟

عدالت کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک ایم این اے کو نااہل قرار دیا، بعد میں اس کی اپیل سپریم کورٹ سے منظور ہو گئی، اُس حلقے کے عوام کو خاطر خواہ وقت تک نمائندگی سے محروم رہنا پڑا، وزیراعظم 5 حلقوں سے منتخب ہوئے، ان کیخلاف بھی درخواست آگئی تھی، ہم نے وہ درخواست نہیں سنی، صرف نوٹس جاری کرنے سے بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہے، آپ آصف زرداری کے خلاف عدالت کیوں آئے؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ خود احتسابی کا سب اداروں میں نظام موجود ہے، پارلیمنٹ بھی اپنا خود احتسابی کا نظام کیوں نہیں بنا لیتی؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے زیادہ اہم ان غریبوں کے کیسز ہیں جنہیں بنیادی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔ آئندہ سماعت پر فواد چوہدری اور آصف زرداری کی نااہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ کریں گے، وکلاء دلائل سے مطمئن کریں کہ عدالت ایسے کیس کیوں سنے؟ؤعدالتی دائرہ اختیار سے متعلق دلائل 4 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیتے سماعت ملتوی کر دی گئی ۔

Back to top button