اب فوج کی تضحیک کرنے والے پر جیگ برانچ مقدّمہ چلائے گی


پاکستانی میڈیا کو مکمل طور پر بانجھ کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف کپتان حکومت نے اب فوج داری قانون میں اصلاحات کے نام پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) 1860 میں مسلح افواج کی تضحیک کرنے کے الزام میں ایک نیا جرم شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس جرم کے مرتکب فرد کے خلاف فوج کی جیگ برانچ مقدمہ چلائے گی اور مجرم کو 2 سال قید با مشقت یا 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی، یا پھر قید اور جرمانہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر سوار ہوکر سیاست میں آنے والے وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کی قیادت میں وزارت قانون نے مجرمانہ انصاف کے نظام کو سدھارنے کے نام پر 225 مرکزی اور 644 ذیلی ترامیم کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان قوانین میں ضابطہ فوجداری 1898، تعزیرات پاکستان 1860، قانون شہادت آرڈر 1984، کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ 1997، ریلوے ایکٹ 1890، پاکستان جیل رولز 1978، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کرمنل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2021 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری فرانزک سائنس ایجنسی ایکٹ 2021 شامل ہیں۔ اب ایک کابینہ کمیٹی ان مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ انکو حتمی شکل دی جا سکے۔ فوجداری قانون میں اصلاحات کے مسودے کے مطابق ایک نیا سیکشن تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت اگر کسی شخص نے پاکستان کی مسلح افواج کا مذاق اڑایا یا بدنام کیا تو اسکو سنگین جرم کے ارتکاب کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پی پی سی میں دفعہ 500 اے داخل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ “جو کوئی جان بوجھ کر طنز کرتا ہے یا مسلح افواج پاکستان کی بدنامی کرتا ہے، وہ ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوگا جس پر اسے 2 سال قید یا جرمانے کی سزا ہوگی، جس کی حد 5 لاکھ تک ہو سکتی ہے یا دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔۔ “
یہ بھی تجویز کیا ہے کہ افواج پاکستان کے خلاف اس جرم کے مرتکب فرد کے خلاف فوج کی جیگ برانچ مقدمہ چلائے گی۔
یاد رہے کہ پچھلے برس بھی کپتان حکومت نے موجودہ قوانین میں ایسی ہی ایک ترمیم کی تجویز پیش کی تھی لیکن حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کی جانب سے مخالفت کے بعد اسے واپس لے لیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس مجوذہ ترمیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے پاکستانی میڈیا کی بچی کھچی آزادی بھی سلب کرنے کا ایک ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلی مرتبہ بھی ایسا ہی ایک بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے پانچ ووٹوں سے ٹائی ہو کر فارغ ہو گیا تھا۔ تب فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے بھی اس بل کی مخالفت کی تھی لیکن اب شاید فروغ نسیم کو اپنے بڑوں کی جانب سے دوبارہ سے یہ کالا قانون لانے کے لئے آگے لگا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون اسٹیبلشمنٹ اور کپتان حکومت کے مشترکہ حریفوں یعنی میڈیا اور سیاستدانوں کے خلاف استعمال ہو گا تاکہ ان کی جانب سے تنقید روکی جا سکے۔
اس معاملے پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس وقت درجنوں قومی اداروں کی سربراہی حاضر سروس یا سابق فوجی افسران کر رہے ہیں چنانچہ اس ترمیم کی وجہ ایسے کسی بھی ادارے کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرنا جرم بن جائے گا۔ سینئیر صحافی وجاہت مسعود نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نیا قانون بننے کے بعد فوج کی توہین کر کے دو سال قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا نہیں کر سکتا۔ لہازا میں ابھی سے اعلان کرتا ہوں کہ ایوب خان نے 1956 کا آئین نہیں توڑا تھا۔ یحییٰ خان نے پاکستان نہیں توڑا تھا۔ ضیا الحق نے 11 برس کا وعدہ کر کے 90 دن میں انتخاب کروا دیے تھے۔ مشرف نے دو بار آئین شکنی نہیں کی تھی۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا جو کہ فوج کے خلاف ہرزہ سرائی سے متعلق تھا۔ اس بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا تھا۔
یہ بل حریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ جو کوئی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اب اسی بل کو نافذ کرنے کے لیے فوجداری قوانین میں ترامیم کی تجویز دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔ سیکشن 500 کے متن کے مطابق ‘جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔’ ترمیمی بل میں اضافہ کی جانے والی شق 500۔الف یعنی (500-A) ہے اور اس کو ‘مسلح افواج وغیرہ کے ارادتاً تمسخر اڑانے کی بابت سزا’ قرار دیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں کچھ ایسے ہی الزامات کے تحت بعض صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں سینیئر صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم بھی شامل تھے جن کے خلاف پنجاب پولیس نے فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا کیس درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی۔ تاہم حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس تمام کارروائی کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ پچھلے برس ستمبر میں ہی راولپنڈی پولیس نے بھی سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد علی طور کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا تھا۔ اس برس ایف آئی اے لاہور کی سائبر کرائم ونگ نے دو سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کے خلاف بھی مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیوں کو بدنام کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا جو ابھی زیر تفتیش ہے۔

Back to top button