گوادر میں جناح کا مجسمہ تباہ کرنے والے کون ہیں؟

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں نصب بابائے قوم محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی قبیح حرکت کی ذمہ داری براہمداغ بگٹی کی بلوچ علیحدگی پسند عسکری تنظیم بلوچ ری پیلکن آرمی نے قبول کی ہے۔ بلوچ ری پیلکن آرمی کے ترجمان بیبگر بلوچ نے ٹوئٹر پر اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں میرین ڈرائیو پر محمد علی جناح کا مجسمہ ہمارے سرمچاروں نے دھماکہ خیز مواد لگا کر تباہ کر دیا۔ لیکن اس حرکت کی پورے ملک میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

گوادر میں قائم لیویز کنٹرول روم کے مطابق بانیِ پاکستان کا مجسمہ گوادر کی میرین ڈرائیو پر نصب تھا جس پر اتوار 26 ستمبر کی صبح نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم سے حملہ کیا۔ بم حملے کے نتیجے میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ منہدم ہوگیا۔ لیویز حکام کا کہنا تھا کہ دستی بم حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم بلوچ ریپبلکن آرمی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جناح کا مجسمہ دھماکہ خیز مواد لگا کر تباہ کیا۔ اس افسوس ناک واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ قائداعظم کا مجسمہ رواں برس اس مقام پر نصب کیا گیا تھا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر گوادر میجر ریٹائرڈ عبدالکبیر خان زرکون کے مطابق قائداعظم کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کرنے والے عسکریت پسند سیاح بن کر علاقے میں داخل ہوئے۔ان کے مطابق ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم ایک دو روز میں تحقیقات مکمل کر کے کارروائی عمل میں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کو ہر پہلو سے دیکھ رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو پکڑ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا مجسمہ رواں سال جون میں گوادر میں فوج کے جنرل آفیسر کماننڈننگ کے گھر اور ڈی آئی جی آفس کے قریب میرین ڈرائیو پر نصب کیا گیا تھا۔ یہ علاقہ سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے اور مجسمے کی حفاظت کے لیے ایک سکیورٹی گاڑی تعینات کی گئی تھی جو کہ حملے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھی۔

بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ اور موجودہ سینیٹر سرفراز بگٹی نے گوادر میں بانی پاکستان کے مجسمے کو تباہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ  گوادر میں قائد اعظم کے مجسمے کو تباہ کرنے کا مطلب پاکستان کے نظریے پر حملہ ہے۔ میں حکام سے گزارش کرتا ہوں کہ اس میں ملوث مجرموں کو اسی طرح سے سزا دی جائے جیسے ہم نے زیارت میں قائد اعظم ریزیڈینسی پر حملہ کرنے والوں کو دی تھی۔ یاد رہے کہ جون 2013 میں بلوچستان کے پُر فضا مقام زیارت میں واقع محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا تھا اور اسے اگ لگا دی گئی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہو گیا تھا۔ زیارت ریزیڈنسی وہ جگہ ہے جہاں علالت کے بعد محمد علی جناح نے اپنے آخری ایام بسر کیے تھے اور اس سے ایک قومی ورثے کی حیثیت حاصل ہے لیکن یہاں پر بھی سکیورٹی کا ناقص بندوبست ہونے کی وجہ سے دہشت گرد اپنی کاروائی میں کامیاب رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر محمد علی جناح کا مجسمہ تباہ کرنے کی پرزور مذمت کی جا رہی ہے۔ سیف نامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بطور پاکستانی آج کا دن ہمارے لیے بہت افسوسناک اور شرمناک ہے، کوئی کیسے گوادر کی اتنی ہائی سکیورٹی والے علاقے تک پہنچ کر ایسا کر سکتا ہے؟ اس شہر کے تو ہر کونے پر فوج موجود ہے۔ لہٰذا اس واقعے میں کوتاہی برتنے پر کسی کو جوابدہ ٹھہرانا ہو گا۔‘ کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی افضل ندیم ڈوگر نے بھی بانی پاکستان کے مجسمے کو تباہ کرنے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے گوادر کی سکیورٹی پر سوال اٹھایا ہے۔

یاد رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری لینے والی بلوچ ریپبلکن آرمی کے سربراہ براہمداغ بگٹی ہیں جنکے ساتھ گزشتہ دنوں کپتان حکومت نے مذاکرات بھی شروع کیے تھے تا کہ بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے شاہ زین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی برائے مصالحت اور ہم آہنگی بلوچستان مقرر کیا تھا۔ شاہ زین بگٹی کو ناراض بلوچوں سے بات چیت کا ٹاسک دیا گیا تھا جس کا پہلا نتیجہ محمد علی جناح کے مجسمے کی تباہی کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔

Back to top button