شہباز شریف کی طرح عمران خان بھی نیب کے ملزم ہیں

وفاقی حکومت کی جانب سے بار بار اس عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نئے نیب چیئرمین کی تعیناتی بارے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت نہیں کریں گے چونکہ وہ خود نیب کے ملزم ہیں۔ تاہم شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے یاد دلایا ہے کہ عمران خان خود بھی نیب کے ملزم ہیں لہذا اس اصول کے تحت تو ان کے پاس بھی نئے نیب چیئرمین کو نامزد کرنے کا اختیار نہیں۔
یاد رہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری باربار یار یہی بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ اگلے نیب چیئرمین کی تعیناتی وزیراعظم عمران خان شہباز شریف سے مشاورت کے بغیر کریں گے چونکہ اپوزیشن لیڈر کئی کیسز میں نیب کے ملزم ہیں لہذا یہ مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ دوسری جانب سے شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے یاد دلایا ہے کہ خود عمران خان کے خلاف بھی نیب کے ریفرنسز زیر التوا ہیں اور وہ بھی نیب کے ملزم ہیں اور ان کے معاملے میں بھی مفادات کا ٹکراؤ بنتا ہے۔ شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے یاد دلایا کہ نیب ریکارڈ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان پر خیبر پختونخواہ حکومت کے ہیلی کاپٹر کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کا الزام ہے۔ نیب ریفرنس کے مطابق عمران نے غیرسرکاری دوروں کے لیے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیے۔ الزام کے مطابق عمران خان نے دو سرکاری ہیلی کاپٹر 74 گھنٹے استعمال کیے۔
نیب ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2018 کو انتخابات جیتنے کے بعد اور وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے پہلے عمران خان اس کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں انھیں سوالنامہ دیا گیا تھا جسکا انکی جانب سے تین برس گزر جانے کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔ لہازا عمران خان کے خلاف نیب ریفرنس اب بھی تحقیقات کے مرحلے میں ہی ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر شہباز نیب کے ملزم ہیں تو عمران خان بھی نیب کے ملزم ہیں اور مفادات کے ٹکراؤ کا الزام دونوں ہر لاگو ہو گا۔ دوسری جانب شہباز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہ کرنے کا بہانہ اس لیے تراش رہے ہیں کہ وہ اگلے نئے چیئرمین کی تعیناتی کا معاملہ لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ موجودہ نیب چیئرمین ہی حکومت کی کاسہ لیسی کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے قریبی ذرائع کا موقف ہے کہ اصولا اگر کسی کے خلاف نیب ریفرنس زیر سماعت ہے تو وہ شخص ملزم بنتا ہے، مجرم نہیں لہذا عمران خان کا یہ موقف بھی غلط ہے کہ وہ نیب کے ملزم سے نئے نیب چیئرمین کے نام پر مشاورت نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ نئے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنی متنازعہ مدت معیاد پوری کرنے کے بعد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہو رہے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان نئے چیئرمین کی تعیناتی پر شہباز شریف سے مشاورت پر انکاری ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جاوید اقبال کی زیر نگرانی نیب کے ادارے نے اپنی ساکھ کا جنازہ نکالنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا۔ اسکا بڑا ثبوت یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے بھی کئی مرتبہ نیب کو اپنے فیصلوں میں یکطرفہ احتساب کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کیسز میں ججوں نے نیب پر اپوزیشن لیڈرز کی زبان بندی کے لیے کیسز بنانے کا الزام لگایا اور نیب کو ایک سیاسی آلہ کار کا کردار ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ لہازا کوئی کچھ بھی کہے نیب اور اسکے چئیرمین کی ساکھ اور اس کا قد کاٹھ یقیناً متنازع ہے۔ تاہم اس کے باوجود وفاقی وزیر فروغ نسیم کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی نیب چیئرمین کی ایکسٹینشن کے بارے میں غوروفکر جاری ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
یقیناً عمران خان کے دور حکومت میں احتساب کو ایک نہایت اہم رول اور رتبہ ملا ہے جس میں نیب کا کلیدی کردار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شفاف احتساب کے لیے بنائے گئے نیب کے سسٹم میں ایک بہت بڑی خرابی موجود ہے۔ وہ خرابی یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ نیب شفافیت کے ساتھ قوانین کی بنیاد پر چلے اور کیسز کی انویسٹی گیشن میں شفافیت ہو،نیب قوانین چیئرمین کو ایسے صوابدیدی اختیار دیتے ہیں جنکے نتیجے میں انویسٹی گیشن کی شفافیت پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ نیب چیئرمین کا لوگوں کی گرفتاری میں اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرنے کا ہے۔کس سیاستدان کو انکوائری کے وقت یا ریفرنس بننے سے پہلے یا بننے کے بعد حراست میں لیا جائے؟ کتنی مدت کے لیے حراست میں لیا جائے؟ یہ سب فیصلے چئیرمین کرتا ہے جسکی ڈوریاں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت وقت ہلا رہی ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتار کرنا یا چھوڑنا، اس حساس معاملے پر چیئرمین کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، نہ تو زبانی شکایت کرسکتا ہے اور نہ کسی عدالت میں جاکر اس پر سوال اٹھا سکتا ہے۔
لہذا ان حقائق کے پیش نظر جسٹس جاوید اقبال کی جگہ نئے نیب چیئرمین کی تعیناتی اپوزیشن جماعتوں کے لئے ایک بہت حساس معاملہ ہے، خصوصا جب حکومتِ وقت یہ اعلان کر دے کہ تعیناتی کا معاملہ موجودہ قوانین سے ہٹ کر اور اپوزیشن لیڈر کو اعتماد میں لیے بغیر نمٹایا جائے گا۔
ان حالات میں حکومتی ذرائع اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ نیب کے موجودہ چیئرمین کو ایک صدارتی آرڈیننس کے لیے کچھ عرصے کی توسیع دی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن یہ اعلان کر چکی ہے کہ نیب چیئرمین کو آرڈیننس کے لئے ذریعہ توسیع دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ تاہم نیب چیئرمین کی تعیناتی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چل سکے گا۔
