اپوزیشن تحریک کے نتیجے میں آخری فیصلہ فوج ہی کرے گی؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن اتحاد کو 13 دسمبر کے جلسے سے پہلے دی جانے والی ڈائیلاگ کی آفر اتنی لیٹ آئی کہ اپوزیشن قیادت کے پاس اسکو مسترد کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر شروع میں ہی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کی طرف سے مذاکرات کی دعوت دے دی جاتی تو کبھی بھی حالات میں اتنی تلخی نہ آتی جتنی اس وقت ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سے ڈائیلاگ کی آفر ملنے کے بعد لاہور میں مشترکہ طور پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے کہا کہ اپنی حکومت کو گھر جاتا دیکھ کر اب عمران خان کو ڈائیلاگ کی یاد آگئی لیکن ہم ان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں اپوزیشن کی جانب سے کوئی این آر او نہیں ملے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم نے ڈائیلاگ کی آفر مسترد کئے جانے کے فورا بعد شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ مقرر کر دیا ہے جس کا مقصد اپوزیشن کے احتجاج کو ڈائیلاگ کی بجائے ڈنڈے سے ڈیل کرنا ہے۔ تاہم ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی حکمرانوں نے اپوزیشن کے احتجاج کو ڈنڈے کے ذریعے ڈیل کرنے کی کوشش کی تو اسٹیبلشمینٹ کا رول بڑھا اور نے اسنے فائدہ اٹھایا۔
تاہم اس مرتبہ مختلف بات یہ ہے کہ اپوزیشن حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ دونوں کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہے جو 2018 کہ الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو برسراقتدار لائی تھی۔ لہذا اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار ایک فریق کا ہے اور وہ ضامن یا ایمہائیر بننے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔ تاہم کئی تجزیہ کاروں کی رائے میں اگر اپوزیشن عمران حکومت سے جان چھڑوانا چاہتی ہے تو پھر اسے ہر صورت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک ڈائیلاگ کرنا ہوگا جو کہ انہیں اقتدار میں لائی تھی۔ لیکن خود کو ضامن یا ایمپائر تسلیم کروانے کے لیے فوجی اسٹیبلشمینٹ کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا غیر جانبداری کا تاثر قائم کرے۔
دوسری جانب اپوزیشن قیادت کا یہ موقف بھی درست ہے کہ وزیراعظم نے انہیں ڈائیلاگ کی آفر تب کی جب ان کی حکومت مخالف تحریک نے ٹیمپو پکڑ لیا اور لوگوں نے جوق در جوق انکے جلسوں میں آنا شروع کر دیا۔ چند روز قبل سیالکوٹ میں وزیراعظم عمران خان نے پی ڈی ایم کو مذاکرات کی دعوت دی اور اس کے بعد اب وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جمعے کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ایسی شخصیات جو حکومت اور اپوزیشن میں احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں وہ آگے آئیں اور مذاکرات کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ تلخیاں کم ہوں۔ اس سے پہلے حکمراں جماعت کے افراد یہ کہتے نظر آتے تھے کہ حزب مِخالف کی جماعتیں اپنی مبینہ کرپشن چھپانے کے لیے اکھٹی ہوئی ہیں اور حکومت کسی کو این آر او نہیں دے گی۔ حکومت کے اس سخت رویے کے بعد اب مذاکرات کی دعوت دینے پر حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات نہیں ہوں گے۔ مریم نواز شریف نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ عمران خان اب بلک بلک کر این آر او کی بھیک مانگ رہے ہیں لیکن نواز شریف ان کو این آر او نہیں دیں گے۔
حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ ق کا کہنا ہے کہ اگر شروع میں ہی حزب مخالف کی جماعتوں کو حکومت کے سنجیدہ حلقوں کی طرف سے مذاکرات کی دعوت دی جاتی تو کبھی بھی حالات میں اتنی تلخی نہ آتی جتنی اس وقت ہے۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا کا کہنا ہے کہ حکومت کبھی بھی حزب مخالف کی جاعتوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیا کرتی۔ انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات ہی جمہوری عمل کی بنیاد ہیں اور اگر بنیاد ہی نہ رکھی جائے تو مسائل کا حل کیسے نکلے گا‘۔
اُنھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے ان حالات میں بھی اپنے اتحادیوں سے کوئی مشاورت نہیں کی کہ اس بحران سے کیسے سے نمٹا جائے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ دونوں فریقین کو اپنی اپنی پوزیشنز میں تھوڑی سی لچک دکھانی ہوگی اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر تیسری طاقت اس سے فائدہ اٹھائے گی جس سے نقصان نہ صرف حکومت کا بلکہ حزب مخالف کی جماعتوں کا بھی ہو گا۔ اس دوران وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز کا بھی یہ بیان آیا ہے کہ حکومت حزب مخالف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن یہ مذاکرات ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں ہونے چاہییں۔ آٹا چینی چوری سکینڈلز میں ملوث حکومت کے ترجمانی کرنے والے شبلی نے کہا کہ احتساب کا نعرہ تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے اس لیے حکومت اس نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
دوسری طرف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اہم جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں سوچ بچار 13 دسمبر کے لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ اب مذاکرات حکومت کے ساتھ نہیں ہوں گے بلکہ اگر کوئی سنجیدہ شخصیات اپنا کردار ادا کریں تو ان کو ضامن کے طور پر لیتے ہوئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسی کونسی شخصیات ہو سکتی ہیں جو کہ غیر متنازعہ ہوں تو خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس صاحبان ہو سکتے ہیں تاہم ان میں آصف سعید کھوسہ اور میاں ثاقب نثار شامل نہ ہوں۔
خرم کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کا مقصد غیر جمہوری طاقتوں کا سایہ جمہوریت سے ہٹانا ہے جن کی وجہ سے جمہوریت پھل پھول نہیں رہی۔ اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ جب بھی انتخابات ہوں تو اس میں ان غیر جمہوری طاقتوں کا کوئی کردار نہ ہو۔
وزیراعظم کا یہ الزام کہ حزب مخالف کی جماعتیں این آر او لینے کے لیے اکھٹی ہوئی ہیں، اس پر خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ نہ حزب مخالف کی جماعتوں نے این ار او مانگا ہے اور نہ ہی وزیراعظم کے پاس ایسا کرنے کا کوئی اختیار ہے۔اُنھوں نے کہا کہ نیب کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان جو مذاکرات ہوئے تھے وہ ’فوج کی چھتری کے نیچے ہی ہوئے تھے اور ان اجلاسوں میں ہونے والے مذاکرات کے درمیان ایک مسودے کو بنیاد بناتے ہوئے ان مذاکرات میں شریک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ دعویٰ کر دیا کہ حزب مخالف کی جماعتیں حکومت سے اپنے خلاف درج ہونے والے مقدمات کے خاتمے کے لیے این آر او مانگ رہی ہیں‘۔
اُنھوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے پہلے اس ’اتحاد میں شامل جماعتوں کے نظریات مختلف تھے لیکن سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقریر کے بعد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی سوچ اس نکتے پر ہی مرکوز رہی کہ غیر جمہوری طاقتوں کے ملکی سیاست میں کردار کو ختم کیا جائے‘۔
اس معاملے پر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہی دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کو اپنے مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا اور لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اُنھوں نے کہا کہ ان کی نظر میں ایسی شخصیات جو ملک کے اہم عہدوں پر فائض رہی ہیں اور اب وہ ریٹائر ہو چکی ہیں، وہ ویسا کردار ادا نہیں کرسکتیں جس طرح کا کردار ملٹری اسٹیبلشمنٹ کر سکتی ہے۔ سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا جلسوں کے بعد اگلا مرحلہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے پہلے اور لانگ مارچ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ امن وامان کا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم کی قیادت کو گرفتار بھی کرلیا جاتا ہے تو پھر بھی سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہی ہوگا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان قائم رکھنے میں ناکام ہوں تو پھر فوج کو ہی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑتی ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ جب 2014 میں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو اس وقت مذاکرات فوج نے ہی کیے تھے اس کے علاوہ فیض آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے کے دوران علامہ خادم رضوی سے مذاکرات بھی فوج نے کیے تھے۔ سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادر کی تحریک میں جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا تھا تو اُنھیں ’لانگ مارچ ختم کرنے کی بات اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی نے ہی کہی تھی‘۔اُنھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بھی بند نہیں کیے جانے چاہییں اور اگر ’ایسا ہو تو نقصان کسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کی طرف سے کی جانے والی ٹویٹ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومت مذاکرات کی طرف آنا چاہ رہی ہے۔ سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کو اپنی جماعت کے ان غیر منتخب افراد کو بھی روکنا چاہیے جن کے بیانات اور ٹویٹس ماحول میں تلخی پیدا کرتے ہیں‘۔
تاہم بڑا سوال یہ ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ فوجی اسٹیبلشمنٹ تیسرا فریق نہیں ہے بلکہ وہ اپوزیشن کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑا دوسرا فریق ہے۔ لہذا اپوزیشن اور حکومت کے مابین ضامن کا کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ فوری طور پر خود کو نیوٹرل کرلے۔
