اپوزیشن جتنے مرضی جلسے جلوس کرلیں کسی کو این آر او نہیں ملے گا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لوگوں کی زندگیوں کوخطرے میں ڈال رہی ہے اور جلسوں سے کچھ نہیں ہونا، کسی کو این آر او نہیں لے گا.
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے جلوسوں کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ ہم نےفیصلہ کیاہےکہ جب تک کوروناکم نہیں ہوتا کوئی جلسہ،جلوس نہیں کرینگے، کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جہاں لوگ جمع ہوں، پی ٹی آئی نے اپنا جلسہ ختم کردیا ہے، اپوزیشن لوگوں کی زندگیوں کوخطرے میں ڈال رہی ہے، جلسے جلسوں سے کوئی فائدہ نہیں ہونا اور کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں فیکٹریاں اور روزگار کے مواقع بند نہیں کریں گے اور یورپ اور انگلینڈ کی طرح مکمل لاک ڈاؤن بھی نہیں ہوگا۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، آج ہم نے دیکھا ہے کہ ایک دن میں 50 سے زائد اموات ہوگئی ہیں اور بڑی تیزی سے اوپر جارہی ہیں، مجھے خوف ہے کہ ہمارے ہسپتالوں میں بہت تیزی سے دباؤ پڑنا شروع ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہمیشہ خدشہ رہتا ہے اور کورونا بڑھا تو ہمیں اپنے ڈاکٹر، نرسز اور دیگر طبی عملے کی فکر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کو آج پیغام دینا ہے کہ ہم بڑی مشکل سے ایسے معاشی حالات سے نکلے ہیں کہ باقی دنیا کے لوگ اتنے خوش قسمت نہیں ہیں، ساتھ والے ملک بھارت میں بدترین حالات اور کورونا سے ایک لاکھ سے زائد لوگ انتقال کر چکے ہیں اور اس کے معاشی حالات بہت برے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سمجھا جاتا ہے کہ بھارت میں معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے لیکن ہمیں اللہ نے اچھے انداز میں اس سے نکالا، اگر دیگر ممالک سے موازانہ کریں تو ہماری اموات بھی نیچے ہیں اور برصغیر میں ہماری معیشت سب سے زیادہ تیزی سے بحال ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے خطرہ ہے کہ جس تیزی سے کیسز بڑھ رہے ہیں اگر قوم نے مل کر صحیح معنوں میں احتیاط نہ کی اور ہم نے بحیثیت قوم مقابلہ نہ کیا تو ہمارے ہسپتالوں میں دباؤ کے علاوہ معاشی حالات بھی بگڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے کورونا کے کیسز سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے تھے تو اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ قوم نے مل کر حکومت کا ساتھ دیا تھا، ہم نے جو کہا قوم اس پر چلی، ہم واحد ملک ہیں جس نے رمضان میں مساجد بند نہیں کی، حالانکہ سارے مسلم ممالک میں مساجد بند کی گئی تھیں لیکن پاکستان نے مساجد بند نہیں کیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم کامیاب اس لیے ہوئے علما نے حکومت کے ساتھ مل کر پورا تعاون کیا، اپیل کی اور مسجدوں نے بھی ایس اوپیز پر پوری طرح عمل کیا، اسی لیے جون کے وسط میں اموات 120 تھیں پھر نیچے آنے لگیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں اب بھی اپنے علما اور معاشرے میں جو بھی بڑے ہیں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک چیلنج سامنے ہے ایک مرتبہ اللہ نےکرم کیا تھا تو اب ہم اس کا شکر اس طرح ادا کریں سب مل کر ذمہ داری ادا کریں اور مل کر کیسز کی دوسری لہر کے سامنے کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے اپنی فیکٹریاں اور روزگار کے مواقع بند نہیں کریں گے، اس وقت یورپ اور انگلینڈ میں مکمل لاک ڈاؤن کیا ہے لیکن ہم وہ نہیں کریں گے کیونکہ ہم اپنے دہاڑی دار طبقے کو بے روزگار نہیں کرسکتے، کورونا سے بچاتے بچاتے اپنے لوگوں کو بھوک سے نہیں مار سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ میں جو فیکٹریاں چلارہے ہیں، شاپنگ مالز اور دکان چلا رہے، ان سب سے کہوں گا کہ ایس اوپیز پر عمل کریں اور سب سے آسان ماسک پہننا ہے اور کورونا وائرس پھیلتی بھی کم ہے، اس لیے عوام میں جہاں جائیں اس کو پہنیں اور پھیلاؤ روکیں۔
اپوزیشن کے جلسوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں 50 سے زائد اموات ہوئی ہیں اور دو ہفتوں میں 6 سے 50 تک پہنچ گئی ہیں، اگر احتیاط نہیں کی تو یہ اسی طرح بڑھتی جائے گی، اس لیے ہمیں ایسی کوئی بھی چیز نہیں کرنی چاہیے جہاں لوگ جمع ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پتا ہے جب لوگ جمع ہوتے ہیں اور قریبی رابطہ کرتے ہیں تو کورونا تیزی سے پھیلتا ہے، اس لیے پہلے بھی اپیل کی تھی اور اپنا جلسہ ختم کیا تھا، ہم نے فیصلہ کیا تھا جب تک اس پر قابو نہیں پاتے اس وقت تک کوئی عوامی جلسہ نہیں کریں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے بھی احکامات ہیں۔اپوزیشن کو مخاطب کر کے ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جلسے جلوس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ کسی کو کوئی این آر او نہیں ملنے والا ہے، جتنے مرضی جلسے اور جلوس کریں لیکن لوگوں کی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں اس لیے ہم بالکل اس کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں آلودگی بڑھی اور پانی کا مسئلہ ہے اور اگر راوی منصوبہ نہیں بنا تو چند برسوں میں لاہور وہاں تک پہنچے گا اور بغیر منصوبہ بندی کے پھیلے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ راوی اور بنڈل منصوبے کا بنیادی مقصد لاہور اور کراچی کو بچانا ہے اور یہ گرین سٹی بنیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے غیر ملکی سرمایہ آئے گا اورپاکستان میں ڈالرز آئیں گے، ان منصوبوں سے بےتحاشا روزگار ملے گا۔
خلیجی ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پالیسی پر سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مؤقف کو دنیا میں آج جتنا تسلیم کیا جاتا ہے پہلے کبھی نہیں تھا، افغانستان میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے کام کیا اور دنیا میں مثبت کردار کو سراہا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ترکی، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اچھے تعلقات ہیں اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے اور ہمارے پاس قائد اعظم کے فرمودات موجود ہیں۔عمران خان نے کہا کہ قبضہ مافیا نے اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر پلازے بنائے ہیں، جس میں سیاست دان بھی ہیں اور ہم ان کے پیچھے جا رہے ہیں اور بہت بڑی کارروائی ہونے والی ہے، ابھی شروع ہوچکی ہے لیکن یہ 5 فیصد ہے۔مہنگائی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمیں فوڈ سیکیورٹی کی طرف سے تخمینہ کم دیا اور گندم درآمد کرنے میں تاخیر ہوئی لیکن پاکستان ہر طرف معاشی لحاظ سے درست ہیں، پاکستانی جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کو چھوڑیں پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان درست سمت پر ہے۔
بعد ازاں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے تحت ‘پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مختلف اقتصادی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے بعد اب پاکستان کی معیشت مستحکم اور درست سمت میں گامزن ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز بڑھنے پر ہمیں تشویش ہے لیکن پاکستان کاروبار اور فیکٹریوں میں لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے اقدمات کر رہے ہیں جس سے معیشت متاثر نہ ہو، ہم نے لاک ڈاؤن کے برعکس غیر ضروری عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی ہے اور کورونا سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کی اور اسمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کرایا۔
معاشی میدان میں حکومت کے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی اس وقت درآمدات اور برآمدات میں 40 ارب ڈالر کا فرق تھا، لیکن سترہ برس بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پلس میں آگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کی، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری آرہی ہے، استحکام حاصل کرنے کے بعد ہم اب مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور پاکستان خوش قسمت ہے جہاں کاروباری برادری کو ہم پر اعتماد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کی معیشت مستحکم اور درست سمت میں گامزن ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، چھوٹے کاروبار کی ترقی پاکستان کی اولین ترجیح ہے، چاہتے ہیں کہ صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کی جاسکے، زرعی ترقی اور گورننس کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ کسانوں کو زیادہ قیمت ملے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو یہاں آسانیاں ہوں اور منافع ملے، پاکستان آٹوموبائل کی صنعت میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گا۔افغان امن عمل سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مدد سے امریکا اور طالبان مذاکرات کی میز پر آئے، اُمید ہے افغانستان میں امن آئے گا جس سے اطراف کے علاقوں کو بھی فائدہ ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں اچھے اقدامات کیے اور اُمید ہے کہ نومنتخب امریکی صڈر جو بائیڈن افغانستان میں اچھے اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
بھارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمیں بھارت کے ساتھ مسائل کا سامنا ہے، تاہم اُمید ہے کہ بھارت میں مناسب قیادت آنے کے ساتھ پاکستان سے تعلقات معمول پر آسکیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ملکوں کے در میان روابط کا منصوبہ ہے، روابطہ کے فروغ سے وسط ایشیائی ممالک گوادر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، سی پیک کے ذریعے پاکستان کو چین کی بڑی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی جبکہ منصوبے کے تحت ریلوے کو بھی اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔
دریں اثناء اپنے دورہ لاہور کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور حکومت کے اہم اتحادی چودھری شجاعت حسین کے گھر پہنچے اور ان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب اور معاون خصوصی شہباز گل بھی موجود تھے۔ وزیراعظم چودھری صاحبان کی رہائش گاہ پہنچے تو چودھری پرویز الہیٰ نے ان کا استقبال کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے چودھری شجاعت حسین کی عیادت کی۔ اس موقع پر چودھری مونس الہیٰ، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، سالک حسین اور حسین الہیٰ سے بھی ملاقات ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button